ملک بھر میں دواؤں کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافہ

اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔

دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے گزشتہ کئی عرصے سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا جارہا تھا جس کے لیے کمپنیاں سپریم کورٹ بھی گئیں اور ادویات کی فراہمی بند کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق مختلف ادویات کی قیمتوں میں 9 سے 15 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے اور یہ اضافہ دوا کی پیکنگ پر تحریر کرنا ہوگا۔

چینی قونصل خانے پر حملے میں ’را‘ ملوث ہے، کراچی پولیس چیف

کراچی:
ایڈیشنل آئی جی سندھ ڈاکٹر امیر شیخ کا کہنا ہے کہ چینی قونصل خانے پر حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ ملوث ہے اور اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی۔

پولیس چیف کراچی ڈاکٹرامیرشیخ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چینی قونصل خانے پر حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ ملوث ہے، بھارت اب بھی ہمارے خلاف متحرک ہے،اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی۔ حملے کا مقصد سی پیک منصوبے میں دراڑ ڈالنا تھا اورقونصل خانے پر حملے کے لئے اسلحہ ٹرین سے لایا گیا۔

ایڈیشنل آئی جی سندھ امیرشیخ نے کہا کہ حملہ آور قونصل خانے کے عملے کویرغمال بنانا چاہتے تھے، ملزمان بلدیہ کے علاقے میں آکررہتے رہے، چارماہ کے مختلف اوقات میں آکرریکی کرتے رہے۔ پولیس چیف نے کہا کہ حملے کے ماسٹرمائںڈ اسلم عرف اچھوکی موت کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی، حملے میں ملوث 5 سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزموں میں بی ایل اے کے لوگ شامل ہیں جب کہ بی ایل اے کی کمان اس وقت بشیرزیب کے پاس ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کراچی کے علاقے کلفٹن میں چینی قونصل خانے پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، پولیس اور سیکیورٹی اہل کاروں نے حملہ ناکام بناتے ہوئے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا جب کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 اہل کار اور 2 شہری بھی شہید ہوگئے تھے۔

قبائلی اضلاع میں ڈاکٹرز کیلئے پر کشش مراعات کی تجویز

پشاور.
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت سابق فاٹا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ترقیاتی پروگرام پر اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ضم شدہ اضلاع میں تعلیم، صحت، کھیل، سیاحت ، بلدیات ، توانائی اور دیگر شعبوں میں ترقیاتی پلان پر غور وخوض کیا گیا اور تاحال پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ۔ ضم شدہ اضلاع کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنا کر اُنہیں فعال بنا نے اور ادویات کی فوری فراہمی کی ہدایت کی گئی۔

نئے اضلاع میں ڈاکٹرز کو پر کشش مراعات دینے کی بھی تجویز دی گئی ۔ہر محکمے کو اپنا پلان بناکر تیزی سے آگے بڑھنے کی ہدایت کی گئی اور سماجی خدمات کا ایک فعال خاکہ اور اُس پر فوری عمل درآمد کا روڈ میپ پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ نئے اضلاع میں سکولوں ، ہسپتالوں اور دیگر سماجی اداروں کو جلد فعال کرنا ہے۔ انہوں نے ترقیاتی فلاحی پلان پر ٹائم لائن کے مطابق پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہاکہ 10 دنوں کے بعد پھر اجلاس ہو گا جس میں عملی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

ہم نے ضم شدہ اضلاع کے عوام کو ریلیف دینا ہے اور اُن کی تیز رفتار ترقی کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزراء محمد عاطف خان، شہرام خان ترکئی، تیمور سلیم جھگڑا، ہشام انعام اﷲ، اکبر ایوب، سلطان محمد خان ،وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے تعلیم ضیا ء اﷲ بنگش ، چیف سیکرٹری نوید کامران بلوچ ، انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محسود، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ نے سات نئے اضلاع میں آئین اور قانون کے مطابق مقامی حکومتوں کے نظام کیلئے بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی ہدایت کی تاکہ مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل حل ہوں ۔ میونسپل سروسز فعال ہوں ، حکومتی ادارے جنگ سے تباہ شدہ علاقے کے لوگوں کو جوابدہ ہوں اور سرکاری ملازمین مستعدی کے ساتھ اپنے کام انجام دے سکیں۔انہوں نے ضم شدہ اضلاع میں تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں خالی آسامیوں پر کنٹریکٹ پر فوری بھرتی کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ اس سلسلے میں خصوصی استشنیٰ دیں گے۔

انہوں نے نئے اضلاع میں تمام محکموں اور خدمات کے شعبوں کا مکمل ڈیٹا جمع کرنے کی بھی ہدایت کی۔نئے ضم شدہ اضلاع کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں ڈاکٹر ز اور عملہ کی پوسٹیں فور ی دے کر ایک مہینے میں فعال کرنے جبکہ ہسپتالوں میں میڈیسن کی فراہمی کیلئے وسائل فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔انہوں نے کہاکہ سات نئے ضم شدہ اضلاع میں میں بھرتی کئے جانے والے ڈاکٹروں کو خصوصی پیکج دیں گے۔

تمام محکموں میں منظور شدہ پوسٹوں پر بھرتی شروع کی جائے اور اضافی پوسٹوں کی منظوری متعلقہ فورم پر فوری حاصل کرنی چاہیئے تاکہ اداروں کی فعالیت ان سات نئے اضلاع میں نظر آئے ۔ہر محکمہ اپنی ضروریات کا ایک مکمل پلان دے ، نئے اضلاع کے لوگوں کو ریلیف دیں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع کیلئے وسائل اور اس کا شفاف طریقہ کار استعمال کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعلیٰ نے نئے ضم شدہ سات اضلاع میں یونیورسٹیز ، کالجز خصوصاً میڈیکل کالجز اور سکولوں کے نیٹ ورک کا ایک جامع پلان دینے اور تعمیراتی حکمت عملی کا آغاز کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ ہم نئے اضلاع میں حکمرانی کا شفاف نظام دیں گے ، میرٹ پر فیصلہ سازی ہو گی۔اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ صحت اور تعلیم کے آزاد مانیٹرنگ یونٹ سسٹم کی نئے اضلاع تک توسیع ہو چکی ہے ۔

ٹیمیں نئے اضلاع میں موجود ہیں اور آئندہ دو ہفتوں میں سٹاف کی تعیناتی مکمل ہو جائے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سات نئے ضم شدہ اضلاع میں مقامی لوگ بھرتی ہوں گے اور وہاں کے نوجوانوں کو عمر اور تعلیمی استعداد میں رعایت دی جائے گی ۔ اجلاس میں نئے اضلاع میں سپورٹس، ٹوارزم کے پراجیکٹس جلد شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ 10 فروری 2019 سے سات نئے ضم شدہ اضلاع میں تمام کیٹگری کی سپورٹس سرگرمیاں شروع کر دی جائیں گی۔

علاوہ ازیں وہاں کلچر اور آرکیالوجی سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے اضلاع میں تحصیل کی سطح پر کھیلوں کے میدان یقینی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ ضم شدہ اضلاع میں روزگار کی فراہمی کیلئے دستیاب وسائل کو استعمال میں لانے جبکہ انصاف روزگار سکیم کے تحت ایک ارب روپے کی خطیر رقم سے نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کا پلان پیش کیا گیا جس کے تحت پہلے سے قرضوں کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔

شعبہ تعلیم کے تحت 2500 آسامیاں مشتہر کی جا چکی ہیں ۔ ستوری دا پختونخوا سکالر شپ پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ 21 ہائیر سیکنڈری سکولوں کی آئندہ چھ ماہ کے اندر شکل تبدیل کرنے اور سہولیات فراہم کرنے کی یقینی دہانی کرائی گئی ہے ۔ سات اضلاع کیلئے اکاونٹ فور بنا دیئے گئے ہیں۔ میونسپل خدمات کا بھر پور اور منظم انتظام کیلئے ٹینڈر ہو چکے ہیں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مختلف شعبوں میں پراجیکٹس کی منظوری ٹائم لائن سے مشروط ہو گی۔

اجلاس میں نئے ضم شدہ سات اضلاع میں صحت کے اداروں ،300 مساجد کے ساتھ ساتھ اقلیتی عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کی منظوری دی گئی اورجلد کام شروع کرکے مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے نئے ضم شدہ اضلاع کے ریمورٹ ایریاز میں موبائل ہیلتھ یونٹ متعارف کرانے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے ضم شد ہ اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کی فراہمی بہت جلد ممکن بنانے کی ہدایت کی ۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر دس دن کے بعد ضم شدہ اضلاع میں کام پر پیشرفت کے حوالے سے مجھے آگاہ کیا جائے ۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ صوبے کے وسائل نئے اضلاع کی ترقی میں لگائے جا سکتے ہیں مگر نئے اضلاع کے فنڈز صوبے کے دیگر اضلاع میں خرچ نہیں ہوں گے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں 80 فیصد تباہ شدہ سکولوں کی بحالی مکمل ہو چکی ہے ۔ سکولوں میں طلباء کی تعداد کے مطابق تدریسی عملہ تعینات کیا جائے گا۔

مختلف شعبوں میں ابتدائی مرحلے میں تقریباًساڑھے 16 ہزار نئی آسامیاں تخلیق کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ فیصلوں پر عمل درآمد فوری شروع کرنے اور تین مہینے میں مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ، آئی جی ، سیکرٹری فنانس اور دیگر کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔ کمیٹی پولیس اور دیگر اہلکاروں کی تعیناتی کیلئے طریقہ کار وضع کرے گی۔

پشاور سے شارجہ کیلئے پروازیں شرو ع کرنیکا اعلان

پشاور۔
پی آئی اے نے پشاور سے شارجہ اور العین پروازیں شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ائیر مارشل راشد ملک کی ہدایات کی روشنی میں باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے یہ پروازیں آئندہ ماہ سے شروع ہو نگی جس کا باقاعدہ افتتاح ائیر مارشل راشد ملک کرینگے ۔

پشاور سے ایک پرواز شارجہ اور ایک پرواز العین کے لئے ہو گی مسافروں کی سہو لت کے لئے پشاور سے پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا گیاتھا جبکہ پشاور سے دیگر سیکٹر کے لئے بھی پروازیں شروع کی جا رہی ہیں پشاور سے لاہور سمیت دیگر سیکٹرز کے لئے پروازیں کھولنے اور ان میں اضافہ سمیت براہ ر است پروازیں چلانے کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔

خیبر پختونخوا کے تعلیمی بورڈز میں اہم عہدے خالی

پشاور۔
خیبر پختونخوا کے مختلف تعلیمی بورڈز میں کئی اہم عہدے عرصہ دراز سے خالی ہیں جن پر اہل افسروں کی تعیناتی کی بجائے انہیں ایڈہاک پر چلایا جا رہا ہے مشیر ابتدائی و ثانوی تعلیم سمری تیار ہونے کے باوجود تعیناتیوں سے اجتناب برت رہے ہیں جونیئر افسروں کو سینئر عہدوں پر تعینات کرنے کے باعث امتحانی وانتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں۔

محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق پشاورتعلیمی بورڈ میں کنٹرولر امتحانات کی پوسٹ کئی ماہ سے خالی ہے اور اسسٹنٹ کنٹرولر کو کنٹرولر کا چارج دیا گیا ہے پشاور بورڈ کے چیئرمین کی مدت بھی اسی مہینے پوری ہوجائے گی ملاکنڈ اور بنوں بورڈز میں سیکرٹری جیسے اہم عہدے خالی ہیں ذرائع کے مطابق 14 مارچ سے میٹرک کے امتحانات شروع ہو رہے ہیں اگر آسامیاں فوری طور پر نہیں کی گئیں تو امتحانات کے امور متاثر ہوں گے۔

اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے فزیکل ٹیسٹ کیلئے شیڈول کا اعلان

پشاور۔
خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن پشاور نے محکمہ پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر(بی پی ایس 11) کی پوسٹ کیلئے 21جنوری 2019سے منعقد ہونے والے فزیکل ٹیسٹ (صرف ریس) کے شیڈول کا اعلان کیا ہے جس کے تحت مردوں کو 1600میٹرز ریس اور خواتین کو 1000میٹر ریس،08منٹوں میں مکمل کرنا ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ سب انسپکٹر (بی پی ایس 11-)کی پوسٹ کے لئے ہزارہ ڈویژن کے اضلاع ایبٹ آباد، مانسہرہ ، ہری پور، بٹگرام ،تور غر اور کوہستان کے مذکورہ ٹیسٹ پولیس لائن گراؤنڈ ایبٹ آباد نزد DPOآفس ایبٹ آباد میں 21جنوری سے 18فروری 2019کو صبح 9بجے منعقد ہو نگے۔ اسی طرح بنوں ڈویژن کے اضلاع بنوں اور لکی مروت کیلئے مذکورہ ٹیسٹ سپورٹس گراؤنڈ میرا خیل بنوں میں 21جنوری سے 31جنوری تک، ڈی آئی خان ڈویژن کے اضلاع ڈی آئی خان اور ٹانک کیلئے پولیس لائن گراؤنڈ ڈیرہ اسماعیل خان میں 21سے 26جنوری تک ،

کوہاٹ ڈویژن کے اضلاع کوہاٹ، ہنگو اور کرک میں گلشن آباد کو ہاٹ کے کوہاٹ سپورٹس کمپلیکس میں فٹ بال گراؤنڈ میں 21سے 29جنوری 2019تک ،ملا کنڈ ڈویژن کے اضلاع سوات ، شانگلہ ،دیر بالا ، دیر پائین، بونیر اور چترال میں گراسی گراؤنڈ (کرکٹ سٹیڈیم) سیدو شریف سوات 21جنوری سے 2مارچ 2019تک اس کے علاوہ مردان ڈویژن کے اضلاع مردان ،نوشہرہ اور صوابی کیلئے مذکورہ ٹیسٹ مردان سپورٹس کمپلیکس(فٹ بال گراؤنڈ)شیخ ملتون مردان میں 21جنوری سے 07مارچ 2019تک اور پشاور ڈویژن کیلئے صرف ضلع پشاور کیلئے پشاور سپوٹس کمپلیکس (قیوم سٹیڈیم ) پشاور میں 21جنوری 2019سے 9جنوری 2019تک منعقد کئے جائیں گے۔

مذکورہ تمام ٹیسٹ ، 400امیدوارروزانہ اور جمعہ کے دن 200امیدوار( ماسوائے اتوار اور یوم کشمیر5فروری) کے صبح نو بجے منعقد کئے جائیں گے ٹیسٹ کے مقام اور رول نمبرز سے متعلق تفصیلات خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹ www.kppsc.gov.pkپر جلد ہی اپ لوڈ کی جائیں گی۔ تمام متعلقہ امیدواروں کو امتحان کے انعقاد سے قبل ویب سائٹ سے اپنے رول نمبرز اور متعلقہ مقام سے متعلق معلومات ڈاؤن لوڈ کر کے انہیں ٹیسٹ کے دن اپنے ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ کسی امیدوار کو ٹیسٹ کے مقام پر ایڈ مشن لیٹر اور اوریجنل سی این آئی سی کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں ہو گی ۔

کسی امیدوار کو انفرادی طور پر کوئی ایڈمشن لیٹر یا رول نمبر سلپ جاری نہیں کی جائے گی تاہم اگر کسی امیدوار کو اپنے ٹیسٹ سے متعلق ویب سائٹ، ایس ایم ایس اور ای میل سے متعلق معلومات موصول نہ ہوں تو وہ ٹیلی فون نمبرات 091-9212976/9214131,9212897,9213750,9213563(ایکسٹینشن نمبر 192)اور091-9212688پر کمپیوٹر سیکشن سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ مذکورہ ٹیسٹ کے موقع پر موبائل فون یا دیگر الیکٹرانکس آلات لانے پر سختی سے پابندی ہو گی اگر کسی امیدوار کے پاس یہ اشیاء پائی گئیں تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

خیبر پختونخوا پولیس کے 3اعلیٰ افسر تبدیل

پشاور۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا صلاح الدین خان محسود نے 3 افسران کے تبادلوں اور تقرریوں کے احکامات جاری کردیئے جمعرات کے روز سنٹرل پولیس آفس پشاور سے جاری اعلامیہ کے مطابق گریڈ 20 کے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن خیبرپختونخوا فصیح الدین کو ڈی آئی جی ٹریننگ خیبرپختونخوا تعینات کردیا گیا ہے ۔

جبکہ گریڈ 19 کے ڈی آئی جی محکمہ انسداد دہشت گردی خیبرپختونخوا عبد الغفور کو ڈی آئی جی آپریشنز خیبرپختونخوا کی اضافی ذمہ داریاں تفویض کردی گئی ہیں اسی طرح گریڈ 17 کے ڈی ایس پی ’اے سی ای‘ خیبرپختونخوا زاہد الرحمن کو ڈی ایس پی محکمہ انسداد دہشت گردی تعینات کردیا گیا ہے۔

قبا ئلی اضلاع دورے ٗوزراء شیڈول تیار کرنے کے پابند

پشاور۔
وزیر اعظم عمران خان نے فاٹا انضمام کی آئینی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیروں اور مشیروں کو قبائلی اضلاع میں انتظامی اُمور کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا ہے ٗ سٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری مراسلے میں صو بائی وزراء سے کہا گیا ہے کہ گذشتہ مہینے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس ہوا

جس میں فاٹا انضما م کی آئینی منظوری کے بعد اہم انتظامی اُمور کی نگرانی خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیروں اور مشیروں کو باقاعدگی سے قبائلی اضلاع کے دورے کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کا مقصد قبائلی اضلاع کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے عوام کا اعتماد بڑھانا ہے ۔ اس سلسلے میں تمام صوبائی وزیر وں اور مشیروں کو چھ مہینوں کا شیڈول مرتب کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں شیڈول کی تیار ی کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو اُصولی طور پر آگا ہ کیا جائے گا ۔

قبائلی اضلاع کی 6تحصیلوں کیلئے نئے سپورٹس کمپلیکس

پشاور۔خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر برائے کھیل،سیاحت،ثقافت وامورنوجوانان محمد عاطف خان نے نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی 6 تحصیلوں میں سپورٹس کمپلیکس بنانے کا اعلان کرتے ہوئے محکمہ کھیل خیبر پختونخوا کو جلد ازجلد اس پر کام شروع کرنے اور کم سے کم وقت میں تکمیل کی ہدایت کی ہے۔

اس حوالے سے سینئر وزیر محمد عاطف خان کی زیرصدارت ایک اعلی سطح اجلاس منعقد ہوا جسمیں سیکرٹری سپورٹس شاہد زمان،ایڈیشنل سیکرٹری سپورٹس بابر خان ڈی جی سپورٹس جنید خان اور قبائلی اضلاع کے سپورٹس ڈائریکٹر نواز خان بھی موجود تھے۔نئے سپورٹس کمپلیکس باجوڑ کی تحصیل ناواگئی،وزیرستان کی تحصیل میرعلی اور رزمک، لوئر اور سنٹرل کرم اور ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں تعمیر کئے جائینگے۔

سینئر وزیر نے کہا کہ قبائلی اضلاع کی 19 تحصیلوں میں موجود سپورٹس کمپلیکس کو بھی اپ گریڈ کرکے تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔اسکے علاوہ اجلاس میں سینئر وزیر نے صوبائی حکومت کی طرف سے صوبے میں آئیندہ پانچ سالوں کے دوران 1000 گراونڈ بنانے کا دائرہ بھی قبائلی اضلاع تک وسعت دینے کااعلان کرتے ہوئے محکمہ کھیل کے حکام کو ہدایت کی کہ قبائلی اضلاع میں کھیل کے میدانوں کے لئے جگہوں کا تعین کریں۔

اجلاس میں قبائلی اضلاع میں زیادہ سے زیادہ کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کا بھی فیصلہ ہوا سینئر وزیر نے کہا کہ قبائلی اضلاع اب خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں وہاں کے کھلاڑیوں کو وہ تمام سہولیات دی جائے گی۔ جو صوبے کے دیگر کھلاڑیوں کو حاصل ہیں۔قبائلی اضلاع کے کھلاڑیوں میں کافی صلاحیت موجود ہے انضمام کے بعد صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ انکو تمام کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

ملک کی نظریاتی شناخت کو تبدیل کیا جارہا ہے ٗفضل الرحمان

پشاور۔جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کی نظریاتی شناخت کو تبدیل کیا جارہا ہے ،پاکستان کو اسلام کا نظریہ دیا گیا تھا ، ترقی اور مضبوط معیشت کی بات کرنے والے کو مودی کا یار کہا جاتا ہے اورآج کرتار پورا کھول کر دوستی کی پینگیں بڑھائی جارہی ہیں۔پشاور کے نشتر ہال میں جے یو آئی کے سابق صوبائی امیر امان اللہ خان مرحوم کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک کی نظریاتی شناخت کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔

ملک کی مذہبی،سماجی اورجغرافیائی ساکھ کوآئین میں سمویاگیا، پاکستان کو ایک نظریہ دیا گیا وہ نظریہ اسلام کا نظریہ تھا،افسوس ہے کہ ہم نے اپنے نظریہ سے روح گردانی کی، 1973 کا آئین ایک مقدس صحیفہ ہے لیکن عمل نہیں کیا جارہا،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کہا تھا کہ نیب کو ختم کردو لیکن نہیں مانا گیا،ترقی اور مضبوط معیشت کی بات کرنے والے کو مودی کا یار کہا جاتا ہے لیکن آج کرتار پورا کھول کر دوستی کی پینگیں بڑھائی جارہیں ہیں۔

قادیانیت اور یہودی لابی کو پروان چڑھانے کے لیے حکومت دی گئی،کب تک انگلی سے پکڑ کر انکو چلاتے رہیں گے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ طاغوتی طاقتیں پاکستان میں گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہیں،آج بھی پاکستان انہی طاقتوں کے زیر اثر ہے،جو کل کہتے تھے کہ قرضہ نہیں لیں گے اور آج کیا ہورہا ہے،روزانہ کی بنیاد پر 15 ارب روپیہ قرضہ لیا جارہا ہے،،زرمبادلہ کے ذخائر آدھے سے بھی کم رہ گئے،ڈالر کی قیمت کہاں تک پہنچا دی گئی۔

50 لاکھ گھروں کی تعمیر کرنی تھی ،غریبوں کے گھرگرادئیے گئے،کروڑوں نوکریاں دینی تھیں،کروڑوں نوجوانوں کو بے روزگار کردیا گیا،

Radio Buner | Online Web Radio at Buner KP Pakistan