photho 2 86

پشاور کا ” کریسچن کالونی” یا ” کچرا کالونی “

تحریر:شکر بھٹی . پشاور
سفید رنگ صفائی اور پاکیزگی کی علامت ہے پاکستان کے جھنڈے میں موجود سفید رنگ ملک میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کا عکاس ہے، لیکن افسوس کہ 70 سال گزرنے کے باوجود مذہبی اقلیتوں کی حالت زار اس سفید رنگ کی درست عکاسی نہ کرسکی
صوبائی درالحکومت پشاور سےچار کلو میڑ کی مسافت پر ایک ایسی بستی آباد ہے، جس کے رہائشیوں کی زندگی بنیادی ضروریات اور لوزامات سے محروم ہیں۔ اس بستی کا نام شروع شروع میں کرسچین کالونی تھا، لیکن پھر رفتہ رفتہ اسکا نام تبدیل ہوتا گیا اور آج یہ “کچرا کالونی” کے نام سے جانی جاتی ہے۔

2011 میں سرکلر روڈ توضیح منصوبے کے تحت شہر کے عین وسط میں موجود ان مسیحوں کو ان کی بستیوں سے بے دخل کیا گیا اور بجائے اس کے ان کے لیئے کسی مناسب جگہ کا بندوبست کیا جاتا انکو شہر سے باہر ایک ویران اور بے آباد جگہ پر چھوڑ دیا گیا،اور آب صورتحال یہ کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق روزانہ 3 ہزار ٹن کچرا اس جگہ پر پھینکا جاتا ہے جس میں لاکھوں طرح کے خطرناک کیمیکل اور زہریلے مادے موجود ہوتے ہیں جس کے باعث ملیریا، ذیابطیس اور کئی خطرناک امراض یہاں بسنے والوں کیلئے ایک عام بیماری کی سی حثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اور اس پر ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ یہاں بسنے والے زیادہ تر افراد کا ذریعہ معاش خاکروبی یعنی صفائی ستھرائی سے وابستہ ہے، لیکن وہی گند اور غلاظت جو وہ سارے شہر سے پاک کرتے ھیں انکے اپنے گھروں کے آگئے لا کر پھینکا دیا جاتا ہے۔

Phtoto 1

یہاں صرف گندگی ہی انسانیت کی دشمن نیں بلکہ اس غیر آباد اور ویرانے میں رہزنی اور ڈکیتیاں بھی تواتر سے ہوتی رہتی ہیں، اسی طرح ایک واقع میں رہزنی کی کوشش میں مزاحمت پربستی کے رہائشی نوجوان کو سینے میں گولیاں مار دی گئیں، وی تو خوش قسمتی سے اسکی جان بچ گئی لیکن شاید قسمت دوبارہ کسی اور پر اس طرح سے مہربان نہ ہو.

لہذا ضرورت اس امر کی ہے حکام بالا اس صورتحال کا نوٹس لیں اور یہاں موجود کئی کئی میل تک موجود گندگی کی پہاڑوں کو کسی مناسب جگہ پر ڈمپ کرنے کا بندوبست کیا جائے یا یہاں کے مکینوں کے لیے کسی دوسری جگہ رہائش کا انتظام کیا جائے۔ تاکہ ہمارے ہاں بسنے والی مذہبی اقلیتیں بھی برابری کے حقوق حاصل کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں