MMA 33

انتخابی نتائج ٗ ایم ایم اے کا احتجاج مزید تیز کرنیکا فیصلہ

پشاور۔
متحدہ مجلس عمل ضلع پشاور کے زیر اہتمام حالیہ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس میں شریک تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کو مؤثر بنانے کے لیے 15 رکنی کمیٹی قائم کر دی جبکہ 9 اگست کو الیکشن کمیشن پشاور میں واقع دفتر کے سامنے دھرنا دینے اور الیکشن کمیشن کے گھیراؤ کا فیصلہ کیا ہے۔

اے پی سی کی صدارت متحدہ مجلس عمل کے ضلعی صدر صابرحسین اعوان نے کی پاکستان پیپلز پارٹی کے ملک سعید ،عوامی نیشنل پارٹی ملک مصطفی ، حاجی نیاز محمد مہمند ، سرتاج خان ، جمعیت علماء اسلام مولانا خیر البشر ، حاجی غلام علی ، خالدوقار چمکنی ،مولانا امان اللہ حقانی، ملک عاصم ، جماعت اسلامی کے ہدایت اللہ خان ، سابق صوبائی وزیر حافظ حشمت خان ، محمد اقبال، قومی وطن پارٹی حاجی شفیع ، مسلم لیگ (ن) کے حاجی صفت اللہ ،اسلامی تحریک کے اقتدار حسین ، میر مرتضٰی ، جمعیت علماء پاکستان کے عقیل وزیر ،ملک نوشاد خان اور دیگر جماعتوں کے نمائندوں اور قائدین نے بھی موجود تھے ۔

آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے قائدین نے کہاکہ انتخابات کے نتائج تبدیل کرنے کے لیے جس انداز میں دھاندلی کی گئی انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔جس کے خلاف بھرپور احتجاج نہ کیاگیا تو مستقبل میں عوامی مینڈیٹ کی چوری روکنا مشکل ہوجائے گا انہوں نے کہاکہ ہم ملک میں جمہوریت ، عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ملک کی تاریخ کی بدترین دھاندلی کے خلاف مشترکہ احتجاج کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ جعلی انتخابات ، جعلی وزیر اعظم اور جعلی حکومت کو نہیں مانتے اور دھاندلی کے ذریعے اقلیت کو جعلی اکثریت میں تبدیل کردی گئی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مرکزی قائدین احتجاجی پروگرام کے سلسلے میں جوبھی ہدایت دیں گے تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں من وعن اس پر عمل کریں گے اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چرانے والوں کامحاسبہ ہونا چاہئے۔الیکشن کمیشن اور نگران حکومت دونوں اپنی ذمہ داری اداکرنے میں ناکام رہے ہیں۔ملک میں جمہوری عمل کا تسلسل ناگزیر ہے۔سازشوں کے ذریعے ملک وقوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔پورے ملک میں تحریک انصاف کو جتوانے کے لیے عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا۔اس پر خاموش نہیں رہیں گے ۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ حلف والے دن بھرپور احتجاج کریں گے اور آسانی سے ان کو حلف نہیں لینے دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں