PK 20 Buner 79

کیا نو منتخب نمایندے بونیرکے مسائل حل کر پاینگے…؟ عمران بونیری

عمران بونیری ریڈیو بونیر
کیا 25جولائی کے عام انتحابات میں منتحب ہونے والی حکومت ضلع بونیر کے عوام کو در پیش مسائل و مشکلات کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کر سکے گی ۔ کیا بونیر کے عوام کو صحت کی مد میں در پیش مسائل میں کمی ائے گی۔کیا بونیر میں ناروا لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائیگی۔کیا بونیر کے تعلیمی اداروں میں سٹاف اور دیگر سہولیات پورے ہو جائینگے۔کیا بے روزگاری ،مہنگائی اور بد آمنی میں کمی اجائے گی۔ کیا بونیر کے عوام کو پینے کے صاف پانی تک ر سائی ممکن ہو جائے گی۔کیا بونیر کے کچا اور خستہ حال سڑ کوں کی تعمیر و مر مت اس حکومت میں ممکن ہو جائے گی۔یہ وہ سوالات ہیں جو ہر جگہ اور ہر محفل میں عوام ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں اور جس کی وجہ سے عوام فکر مند ہیں۔

25جولائی کے عام انتحابات میں بونیر ضلع کے عوام نے بونیر سے پی ٹی ائی کے تین اور اے این پی کے ایک امیدوار کو ووٹ دیکر اسمبلیوں تک پہنچا دئیے ہیں جس سے عوام نے بے پناہ توقعات وابستہ کئے ہو ئے ہیں اور عوام چاہتے ہیں کہ ان کو در پیش مسائل و مشکلات کا خاتمہ ہو۔ضلع بونیر کے حلقہ پی کے 20سے پی ٹی ائی کے ضلعی صدر ر یاض خان ،پی کے 21سے پی ٹی ائی کے سید فخر جہاں باچا اور قومی اسمبلی این اے 9سے پی ٹی ائی کے شیر اکبر خان ایم این اے منتحب ہو چکے ہیں جبکہ ضلع بونیر کے حلقہ پی کے 22سے اے این پی کے صوبائی جنر ل سیکرٹری سابق صوبائی وزیر تعلیم سردار حسین بابک تیسری مر تبہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

مندر جہ بالا چاروں منتحب امیدواروں میں تین حکومت کا حصہ ہونگے جبکہ اے این پی سے تعلق ر کھنے والے ایم پی اے سردار حسین بابک اس بار پھر اپوزیشن بینچوں پر براجمان ہونگے ۔سردار حسین بابک نے 2013سے 2018تک بھی صوبہ خیبر پختون خواہ اسمبلی میںاپوزیشن کا کر دار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے حلقہ نیابت PK22میں کو ئی خاطر خواہ تر قیاتی کام نہیں کئے ہیں جس کی وجہ سے اس حلقے کے عوام کو بے شمار مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔اس حلقے میں واقع تحصیل مندنڑ کے عوام کو سب سے بڑا مسلہ صحت کے حوالے سے ہیں کیونکہ اس حلقے میں سب سے بڑا ہسپتال سول ہسپتال ناواگئی ہے جس میں آج کے دور جدید میں بھی جد ید سہولیات موجود نہیں اور عوام معمولی مر ض کے علاج کے لئے یا تو پرائیویٹ ہسپتالوں کا ر خ کر تے ہیں یا میلوں دور ڈسٹر کٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈگر جانے پر مجبور ہو تے ہیں۔

اس تحصیل میں واقع دور افتادہ پہاڑی اور پسماندہ یونین کونسلوں آمازی اور کھنڈر کٹی کے تقر یبا30ہزار آبادی کے لئے بی ایچ یوز اور ڈسپنر یاں تو قائم ہیں لیکن اس میں بھی ڈاکٹر وں کے علاوہ دیگر سہولیات نہیں جس کی وجہ سے عوام سول ہسپتال ناواگئی آتے ہیں اور یہاں سے ڈگر ہسپتال جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔یوسی آمازی اور کھنڈر کٹی جانے والی سڑک کھنڈرات کا منظر پیش کر ر ہاہے جس کی منظوری سردار حسین بابک گذشتہ حکومت میں کر چکے ہیں لیکن فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے وہ تاحال مکمل نہ ہوسکی ہے اور ٹھیکدار سڑک کی کھدائی اور کٹائی کر کے کام اداھورا چھوڑ چکے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو شدید مسائل و مشکلات در پیش ہیں۔

یوسی آمازی اور یوسی کھنڈر کٹی کے تعلیمی ا داروں میں طلباء و طالبات کو سٹاف اور دیگر سہولیات کی کمی کا بھی سامنا ہے اور اکثر سکولوں میں بجلی جیسی بنیادی سہولت بھی موجود نہیں۔یوسی آمازی اور کھنڈر کٹی کے کھنڈر نما مین سڑک کے علاوہ دیگر علاقوں کو جانی والی سڑکیں بھی گاڑیوں کے جانے کی قابل نہیں۔ان یونین کونسلوں کے عوام کو پینے کے صاف پانی تک ر سائی میں بھی شدید مسائل و مشکلات در پیش ہیں اور عوام دور کے چشموں سے سروں پر پانی لانے پر مجبور ہیں جبکہ گذشتہ کئی سالوں سے کم بارشوں کی وجہ سے قدرتی پانی کے چشمے یا تو خشک ہو چکے ہیں یا اس میں پانی اتنا کم ہے کہ و ہ عوامی ضرویات کو پورا نہیں کر تی۔
تحصیل مندنڑ کے عوام کو بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج کا بھی سامنا ہے اور آئے روز کی بجلی بندش سے عوام کے کاروبار تباہی کے دھانے پر ہیں۔

ضلع بونیر کے عوام نے 25جولائی کے عام انتحابات میں پاکستان تحر یک انصاف کے رہنما ایم این اے شیر اکبر خان کو 58ہزار سے زیادہ ووٹ دیا ہے تا کہ وہ مر کزی حکومت میں رہ کر بونیر کے عوام کے دیر ینہ مسلہ سوی گیس کے لئے کام کر یں کیونکہ بونیر ضلع میں سوی گیس نہ ہونے کی وجہ سے بونیر کے جنگلات تیزی سے ختم ہور ہے ہیں۔

عوام نے پاکستان تحر یک انصاف کی موجودہ صوبائی اور مر کزی حکومتوں سے توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں اور عوام چاہتے ہیں کہ حکومت تمام عوام کو ایک جیسے سہولیات اور مر اعات دے تاکہ عوام کی مشکلات ختم ہو ۔

اگر موجودہ منتحب ممبران صوبائی و مر کزی اسمبلی نے بونیر کے عوام کو در پیش مسائل و مشکلات کا خاتمہ کیا یا ان مسائل میں کمی لانے میںکامیاب ہو گئے تو عوام ان کو ہر بار ووٹ دے کر کامیاب کرائے گی خاص کر ایم پی اے سردار حسین بابک جس نے 2008 سے 2013تک حکومت میں رہ کر بونیر ضلع اور خاص کر اپنے حلقہ پی کے 22کے لئے بہت سارے تر قیاتی کام کئے ہیں لیکن 2013کے حکومت میں دوبارہ کامیاب ہو کر انہوں نے اپنے حلقے کے عوام کے لئے حاطر خواہ تر قیاتی کام نہیں کئے ہیں ۔

اب عوام نے 2018کے انتحابات میں اس کو تیسری مر تبہ کامیابی سے ہمکنار کیا ہے جو کہ سردار حسین بابک کے لئے امتحان ہیں کہ اس بار پھر وہ اپوزیشن میں بیٹھ کر عوام کے لئے کیا کر تے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں