images 82

جھنڈوں میں لپٹی جشن آزادی . . . شبیر بونیری

شبیر بونیری. ریڈیو بونیر
باپ بیمار ہے اور ماں اکیلی ہے ۔ ایک ہی چھوٹا بھائی ہے میرا ۔ میں اور میری ماں دن بھر مزدوری کرکے ہمارا گھر چلاتے ہیں ۔ وہ رکا آنسو پونچھے اور پھر گویا ہوا۔ سارا دن یہاں اس ہوٹل میں مزدوری کرتا ہوں ۔ میں یہاں برتن بھی دھوتا ہوں، آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارت بھی کرتا ہوں اور جو چیز یہاں نہ ملے تو آئے ہوئے مہمانوں کو خوش کرنے کے لئے میری قسمت مجھے دور دور تک دوڑاتی بھی ہے ۔ وہ رکا لمبی سانس لی اور واپس جانے کے لئے مڑنے لگا تو میں نے روک کے پوچھا بیٹا تمہیں معاوضہ کتنا ملتا ہے؟

ہونٹوں کی کپکپاہٹ کو قابو میں لاتے ہوئے ارد گرد دیکھا، ڈر اور مایوسی کی ملی جلی کیفیت سے خود کو آزاد کرانے کی کوشش کی اور سرگوشی کے عالم میں کہنے لگا ۔ صاحب صرف پچاس روپے ! سامنے میز پر پڑی چائے کی پیالی سے اڑتا ہوا بھاپ یکدم جیسے رک گیا ہو ،کرسی جس پر میں بیٹھا تھا ایسا محسوس ہوا جیسے سرک گئی ہو، ماحول میں جیسے یکدم کسی کی آہ و بکا اور چیخ و پکار شروع ہوگئی ہو اور اس کی بے بسی جیسے میری بے بسی اور زبان حال سے ہزار شکوے کر رہی ہو ۔ میں نے خود کو قابو کیا اور اس کو دلاسہ دینے کے لئے الفاظ کا متلاشی بن گیا لیکن نہ اسے خوش کر سکا اور نہ خود کو مطمئن۔ وہ جب مجھ سے بل لے کر واپس جانے لگا تو اس کے پھٹے ہوئے جوتے ، پرانی شلوار اور بوسیدہ قمیص پر مجھے اس کی ماں کے ہاتھوں کی گرم لمس اور محبت نظر آ گئی اور میں ایک ڈراونے تصور کا سامنا کرنے لگا جس میں دروازے پر کھڑی اس کی ماں اور چارپائی پر پڑا اس کا بیمار باپ شام کی تاریکیوں میں اس کی راہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور جب وہ آجاتا ہے تو ماں اس کو ہاتھوں ہاتھ لے لیتی ہے اور اس پر محبت کے پھول نچھاور کردیتی ہے ۔

ماں کھبی اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیتی ہے اور کھبی اس کے ماتھے کو چوم لیتی ہے ۔ ایسا لگ رہا ہوتا ہے جیسے برسوں بعد ملے ہو ۔ ماں پوچھتی ہے میرے لخت جگر کچھ کھایا بھی ہے ؟ مجھے اپنے ہاتھ پاوں دکھاو کوئی چوٹ وغیرہ تو نہیں لگی تمہیں ۔ کسی نے ڈانٹا پیٹا تو نہیں ؟ ایسے میں بیمار باپ جس کی بے بسی کی کوئی حد ہی معلوم نہیں آواز دے کر اسے بلاتا ہے آجا میری جان آجا ۔ آجا میرے سینے سے لگ جا کاش مجھ میں اتنی طاقت ہوتی تو میں بارہ سال کی عمر میں تمہیں اس اذیت میں کھبی نہ ڈالتا ۔ بچپن کیسا ہوتا ہے وہ تم نہ دیکھ سکے ۔ تمہاری عمر کے بچے تو پورا دن کھیل کھود میں گزارتے ہیں کا ش۔۔۔۔۔ اے کاش مجھ میں طاقت ہوتی ۔ ماں باپ کی محبت اور آہ وزاریوں میں گرا معصوم سا بچہ اپنی جیب سے پچاس روپے نکال کر ان کے سامنے رکھ دیتا ہے تو دونوں کے کلیجے منہ کو آجاتے ہیں ۔ میں اس دہلیز سے جب اپنی نظریں اٹھاتا ہوں تو میرے دل میں اس ملک کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لئے نفرت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس ملک کے کسی بھی سیاستدان کے گھریلو حالات ایسے نہیں ہیں اور اس ملک کے کسی بھی حکمران اور سیاستدان کے بچے ایک رات کے لئے بھی بھوکے نہیں سوتے۔
کیا ہم آزاد ہیں ؟

یہ جو ہر سال اگست کے مہینے میں ہم خود کو جھنڈوں سے سجاکر دفتروں میں ،بازاروں میں اور تعلیمی اداروں میں محفلیں سجا کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا لیتے ہیں کافی ہے ؟ کیا ہم نے کھبی حقیقت میں اس ملک کو آزادی دینے کی کوشش کی ہے؟
آپ کسی بھی کامیاب ملک اور ترقی یافتہ قوم کا پروفائل پڑھیئے آپ کو تین قسم کے طبقے اور لوگ ملیں گے جن کی وجہ سے قوموں کی اجتماعی زندگی چلتی ہے اور یہی تین طبقے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ ربط قائم کرکے تعمیر و ترقی کے کام ایک ساتھ کرتے ہیں جس کی وجہ سے قومیں آزاد ہوری ہیں ۔

پہلی قسم کے لوگ حکمران ہوتے ہیں جن کا لائف سٹائل اور انداز حکومت ہی قوموں کی تقدیر کا تعین کرتی ہے ۔ آپ اسلام کی عظمت رفتہ دیکھ لیں حضرت محمدؐ سے لیکر حضرت علی تک ان کی حکمرانی کا انداز تاریخ عالم میں سب سے بہترین رہا بالخصوص طور پر خلافت راشدہ کا دور تو سب سے انمول رہا ۔ ابوبکر اور عمر کے بعد علی اور عثمان نے بھی حکومت کو عارضی شے سمجھا اور جو سب سے مقدم چیز ان کی حکمرانی میں رہی وہ رضائے الہی کا حصول اور زندگی میں سادگی تھی ۔ ان کے بعد بھی خلافت کے گدی پر جب بھی مسلمان بیٹھ گئے انہوں نے تاریخ رقم کی ۔آج کل اگر ہم یورپ کی مثال لیتے ہیں تو وہاں بھی حکمران سادہ زندگی کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے وزیر اور سٹیٹ ان کا محاسبہ ہر وقت کرتی رہتی ہے ۔ یہ سب سے اہم طبقہ ہوتا ہے یہ لوگ جب تک خود کو ذمہ دار سمجھتے ہیں تاریخ کا کوئی جبر خود کو نہیں دہراتا ۔ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ پاکستان میں آج تک حکمرانوں نے خود کو ذمہ دار نہیں ٹہرایا ۔ یہ دن بہ دن امیر بنتے جارہے ہیں اور اس ملک سی لاپرواہی برت رہے ہیں ۔ یہ طبقہ جب تک راہ راست پر نہیں آتا تب تک اجتماعیت سراب سایوں کے پیچھے بھاگتی رہی گی ۔ بہترین حکمرانوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو پتہ چل جائیگا کہ کس طرح ایک پوری ڈگمگاتی قوم ان کی وجہ سے سب سے آگے نکل گئی ہے ۔ اس تاریخ میں اگر ہم حضرت محمد ؐ کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں گے یا آپؐ کے بعد مسلمان حکمرانوں کا ، دور جدید کے ماوزے تنگ یا نیلسن مںڈیلا کی زندگی کا کریں گے یا قائد اعظم اور گاندھی جی کی زندگی کا ہمیں ان سب میں بس ایک ہی چیز نظر آجائیگی اور وہ اپنی ذات سے نکل کر اپنی عوام پر حد سے ذیادہ فوکس ۔۔یہ فوکس ختم ہوگا تو ایسے ہی حالات بنیں گے جیسے آج کل ہمارے ہیں ۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو کاروبار کرتے ہیں اور اس پہلے طبقے کو حکومت کرنے میں سپورٹ دیتے ہیں ۔ اس طبقے کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے اور ہم اگر تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو ابوبکر اور عثمان کے بارے میں پتہ چلے گا کہ وہ اپنے دور کے بزنس ٹائیکون تھے اور جب بھی حکومت کو ان کی ضرورت پیش آئی ہے انہوں نے حد سے ذیادہ مدد کی ہے لیکن کھبی بھی آپ دونوں نے ایک خاص حد سے تجاوز نہیں کی ۔ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے اپنے دور میں یہ کہہ کر کہ “وی آر دی نیشن آف بل گیٹس ” پوری دنیا کو یہ باور کرادی تھی کہ بزنس کلاس جب تک حکمرانوں کے ساتھ تعاون کرتی ہے قومیں ترقی کے ڈگر پر خود چل پڑتی ہیں ۔ یہ طبقہ جب تک ملک و قوم ہی کو سب چیزوں پر مقدم رکھتی ہے تو ترقی ہی مقدر بنتی ہے لیکن ہمارا یہاں بھی سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں یہ طبقہ بھی اپنے مفادات کی خاطر ہی سب کچھ کرتی ہے ۔ یہ طبقہ اپنے ہی مفادات کی خاطر حکمران طبقے کو سپورٹ کرتی ہے جس کا خمیازہ نقصانات کی شکل میں ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔

تیسرا طبقہ عوام کا ہوتا ہے جو سب سے کمزور طبقہ ہوتا ہے اور یہ طبقہ اپنے فائدوں اور نقصانات کے لئے ہمیشہ ان دو طبقوں کی طرف دیکھتا ہے ۔ اس طبقے کو جب بھی فائدہ یا نقصان ہوا ہے اس کے ذمہ دار یہ دو طبقے ہوتے ہیں ۔ اسلام کا وہ دور جس میں مسلمانوں نے کفر کو زیر نگیں کیا اسمیں اس طبقے کو زندگی کی ہر سہولت سے آراستہ کیا گیا ۔ حضرت عمر ویران گلیوں میں بلا وجہ نہیں پھرا کرتے تھے بلکہ اسی طبقے کو آرام پہنچانا ہی مقصد ہوتا تھا ۔ پاکستان میں اس طبقے کی مشکلات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے جس کے ذمہ دار اول الذکر دو طبقے ہیں ۔

ہم اس وقت جشن آزادی کا مزہ نہیں لے سکتے جب تک اس آخری طبقے کے ویران چھولے نہیں جلیں گے ۔ جھنڈوں اور نعروں تک ہی اگر ہم خود کو محدود رکھنا چاہتے ہیں تو پھر اسی طرح ہی یہ دو طبقے ہماری استحصال کرتے رہیں گے ۔ گلی گلی میں انقلاب کے نعرے لگ رہے ہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں اگر حقیقیت میں یہ تیسرا طبقہ اپنی اصلیت اور اپنے اوپر ظلم کی حقیقت جان گیا تو پھر پھٹے جوتوں ،بوسیدہ قمیص اور پرانی شلوار والوں کے آگے بندھ باندھنا مشکل ہوگا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں