logo 54

الیکشن 2018 شعوری انقلاب … رانا علی زوہیب

رانا علی زوہیب
بچپن سے کتابوں میں ایک لفظ ’’انقلاب‘‘ پڑھتے آرہے تھے ۔ جب اس انقلاب کی تہہ میں گئے تو پتا چلا کہ انقلاب وہ تبدیلی ہے کسی بھی معاشرے کی جو اس معاشرے کے لوگوں کے خون سے دُھل کے سامنے آتی ہے جسے ہم عرف عام میں ’’خونی انقلاب‘‘ کہتے ہیں ۔ پاکستانی معاشرہ ایک سلجھا ہوا معاشرہ سمجھا جاتا ہے ۔ پاکستانی لوگ جو مختلف قسم کے رنگ ، نسل ، زبان اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ ایک چیز جو قدرے مشترک ہے وہ ہے پیار ، باہمی رفاقت جو لوگوں کی ایک دوسرے کے ساتھ ہے بنا کسی لالچ کے ۔ بد قسمتی سے ہم پاکستانی وہ لوگ ہیں کہ جو ہمیں چند منٹ کی رفاقت دکھائے گا ہم سے دو چار میٹھے بول بولے گا ہم اسکے پیچھے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ۔ کچھ ایسا ہی حال ہمارے ملک کے سیاستدانوں کا ہے ۔الیکشن کا وقت قریب آتے ہی چند میٹھے بول بولے اور جو ناراض ہے اسکو منایا ، چند دن کی نوکری کی اور عوام کو اپنے جال میں پھنسایا ، ووٹ لیا اور یہ گئے وہ گئے ۔ پھر پورے پانچ سال پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا کہ کون مر گیا ہے کون زندہ ہے ۔ جب الیکشن کی مہم جوئی میں وہی امیدوار دوبارہ ووٹ مانگنے آتے ہیں تو انہیں پتا چلتا ہے کہ پچھلی دفعہ جس گھرانے نے مجھے ووٹ دیا وہ اس دفعہ نظر نہیں آرہا ، دریافت کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے ۔ گویا چہرے پر جھوٹے ہی سہی لیکن شکن اور پریشانی کے تاثرات ضرور نظر آتے ہیں ۔ شکن اس بات کا کہ مجھے اس کا علم نہیں تھا ، علم کیسے ہوتا پانچ سال اپنے حلقے میں قدم نہیں رکھا ۔۔ اور پریشانی اس بات کی کہ اس دفعہ یہ ووٹ مجھے کم پڑیں گے ۔بدقسمتی سے ستر سالوں میں پاکستان کے ساتھ اور پاکستان کی عوام کے ساتھ ایسا ہی حال ہوتا آیا ہے ، ایک مخصوص ٹولہ ملک کی بھاگ ڈور سمبھالتا ہے اور پاکستانی عوام کو بے وقوف بناتا ہوا اپنا دور حکومت مکمل کر کے اپنا پیٹ بھر کے چلتا بنتا ہے ۔ الیکشن 2018 میں اس طرح کا کوئی واقعہ یا سین سامنے نہیں آیا ، الیکشن 2013 کے بعد پاکستان کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں نے بھر پور انداز میں اپوزیشن کا کردار ادا کیا جس میں ایک تو پاکستان تحریک انصاف تھی اور دوسری پارٹی پاکستان عوامی تحریک ۔پاکستان عوامی تحریک نے کچھ عرصہ پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دینے کے بعد اپنے راستے الگ کرنے کا سوچا اور جنرل الیکشن 2018 میں حصہ نہ لیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی جدو جہد جاری رکھی اور پاکستان کی سوئی ہوئی عوام کو جگایا ۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جدو جہد جو الیکشن 2013 کے بعد سامنے آئی وہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ۔۔۔ اگر یہ کہا جائے کہ 2018 کا الیکشن جیتنے میں عمران خان کی دن رات کی محنت ، عوام میں سیاسی شعور جگانے کیجدوجہد شامل ہے تو غلط نہیں ہوگا ۔۔ یہ بات بالکل عیاں ہے کہ پاکستان کی عوام سیاست کے بارے میں اتنا علم 2013 سے پہلے نہیں رکھتے تھے جتنا سیاسی علم اور شعور اب انکے اندر موجود ہے اور اسکی وجہ صرف اور صرف عمران خان ہے ۔ سب افواہیں دم توڑ گئیں ، سب دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ، کہیں جوڈیشل مارشل لاء کی آواز تھی تو کہیں جنرل باجوہ کے مارشل لاء کا انتظار تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ۔۔ پاکستان کی ایک سیاسی پارٹی تحریک انصاف نے پورے ملک میں انتخابات میں دوسری سیاسی پارٹیوں کو ایسے پیچھے چھوڑا کہ کوئی بھی ان سے آگے نکل نہیں پایا ۔۔۔ سیاسی شعور اور عوام کی محبت اپنی جگہ لیکن الیکشن 2018 کے عام انتخابات نے بہت سے شکوک و شبہات اور سوالات پیچھے چھوڑ دیے ہیں جنکا جواب ڈھونڈنا یا ان کا جواب ملنا بہت ضروری ہے ۔ جنرل الیکشن جہاں الیکشن کمیشن کی کاتاہیوں کو سامنے لے آیا وہاں اس نے پاک فوج کے کردار پہ بھی ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ بیلٹ پاکس ، بیلٹ پیپر کی تیاری سے لے کر پولنگ اسٹیشنز تک منتقلی ، پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوج ، فارم 45کی عدم دستیابی ، پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکال دینا یہ الیکشن کمیشن کی نا اہلی کا منہ ثبوت ہے ۔ عوام پاک فوج پہ اعتماد کرتے ہیں ، لیکن اگر اسی اعتماد کا غلط فائدہ اٹھا لیا جائے تو جو عوام سیاسی شعور رکھتی ہے وہ یہ شعور بھی رکھتی ہے کہ کہاں اس کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ جنرل الیکشن میں ہمیشہ ایک پارٹی زیادہ سیٹیں لے کر اسمبلی میں بیٹھ جاتی ہے لیکن پیچھے اگر نظر دوڑا کر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں سیاست نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے ، کوئی سیاسی پارٹی بشمول پاکستان مسلم لیگ ن اس قابل نہیں رہی کہ وہ اپوزیشن ہی سٹرونگ کر سکے ۔۔ مولانا فضل الرحمن ، سراج الحق ، محمود خان اچکزئی جیسے لوگ جنکی ہار کے بارے میں تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ لوگ بھی اپنے حلقوں میں الیکشن ہار سکتے ہیں دماغ اس کو ماننے سے انکاری ہے ۔ لیکن ایسا ہوا ۔۔۔ اسکے بعد جہاں جہاں مسلم لیگ ن کے امیدوار اور دوسرے آزاد امیدواروں نے ری کونٹنگ کی درخواست کی تو جہاں جہاں ری کونٹنگ ہوئی وہاں وہاں پاکستان تحریک انصاف کا امیدوار اپنی سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھا جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دھاندلی کا ذمہ دار یا تو ملک کا باوقار ادارہ ہے یا الیکشن کمیشن ہے ۔ الیکشن کے بعد سوشل میڈیا پہ تنقید کا سامنا پڑے گا اس لیے پہلے ہی سے پاک فوج کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنسز میں کہنا شروع کردیا تھا کہ ہماری سوشل میڈیا پہ نظر ہے اور وہ لوگ جو پاک فوج کو گالیاں دیتے ہیں انکو معاف نہیں کیا جائے گا گویا یہ پیغام تھا ان لوگوں کے لیے مطلب ان سیاسی پارٹیوں کے لوگوں کے لیے جو الیکشن میں ہارنے والے تھے کہ الیکشن کے بعد سوشل میڈیا پہ واویلا نہ مچایا جا سکے۔ الیکشن کے بعد کی صورت حال میں عمران خان کا یہ کہنا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد نہیں کریں گے یہ بالکل وہی سٹیٹمنٹ ہے جو سینیٹ کے الیکشن میں بھی عمران خان نے دی تھی لیکن بعد میں اپنے سینیٹر زرداری کی جھولی میں ڈال کر چیئرمین سینیٹ کے لیے ووٹ ڈلوائے ۔۔ ایک بات تو طے ہے کہ عمران خان قانونی تبدیلیاں کرے گا ، بل پیش کیے جائیں گے لیکن وہ بل جائیں گے سینیٹ میں ، اور سینیٹ میں چیئرمین ہے آصف علی زرداری کا اسلیے اگر کوئی بل پاس کروانا ہے اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو اسے زرداری سے ہاتھ ملانا پڑے گا ۔۔۔۔ عوام کی نظر میں چاہے نہ ہو ۔۔ لیکن پردے کے پیچھے سب ایک ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں