hammad khaba 64

ڈکٹیشن کا سائیکلون … حماد لیاقت چوہدری

حماد لیاقت چوہدری
پاکستان کو اقتصادی و معاشی میدان میں سنبھلنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ ابھی ہویدا نہیں ہوا,, مرتا کیا نہ کرتا،، کے مصداق مجبوراً عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ا یف) کے در پر دستک دینا پڑ رہی ہے۔ امریکی حکومت کی فنانشل ادارے کو ڈکیشن اور پھر حکومت پاکستان کو قرضہ استعمال کرنے کی ’’ہدایت‘‘ نے صورتحال پر مخمصہ کی رداء ڈال دی ہے۔ حکم ملا کہ بیل آؤٹ پیکج کو چینی قرضہ کی ادائیگی کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ یہ ہے ڈکٹیشن کا وہ سائیکلون جو آزادی‘ سلامتی اور خودمختاری کے خوابوں کو اپنی منزل سے دور کر دیتا ہے۔ اطمینان بخش پہلو، حالات پر چینی وزارت خارجہ کا بروقت تبصرہ تھا۔ آئی ایم ایف کے اپنے ضابطے اور اپنے قائدے ہیں اسے امریکہ یا کسی دوسرے ملک سے حکم نامے کی ضرورت نہیں۔ امید ہے پاکستان بیل آؤٹ پیکج کے معاملات مناسب انداز سے طے کرے گا
چین نے جس طرح فوری تبصرہ کر کے ڈکٹیشن کے بڑھتے قدم روکے اسی انداز سے پاکستان کو بھی آگے بڑھنا چاہئے تھا ہماری خاموشی اور ہر تجویز و مشورے پر سرتسلیم خم کرنے کی پالیسی نے آج ہمیں معاشی دگردوں جیسے حالات تک پہنچا دیا ہے اﷲ کیم نے اپنے محبوب کے صدقے ہمیشہ پاک سرزمین پر انعام و اعجاز کی بارش کی ہے انشاء اﷲ پروردرگار یہ سلسلہ عنایت جاری رکھے گا۔ یہ درست ہے کہ معاشی آزادی اور خود مختاری کیلئے کچھ کڑوے گھونٹ پینے پڑتے ہیں۔ ملائشیا اور کوریا کی زریں مثالیں سامنے ہیں۔ وہاں رعایا نے اقتصادی پالیسیوں کے نفاذ اور ان کے ثمرات سمیٹنے تک چلہ کاٹا۔ اب ذرا ان دونوں ممالک کی اقتصادی گراوٹ دیکھیں ترقی ایسی کہ انسانی ذہن دنگ رہ جائے۔ چند روز قبل مقامی سیمینار میں دوست ملک چین کے پروفیسر رادئس چنگ بتا رہے تھے کہ 2007ء تک جتنی تحقیق سامنے آئی وہ 2013ء تک ڈبل ہو گئی تھی۔ اگلے پانچ سال میں سائنس و ٹیکنالوجی سے منسلک اداروں میں یہ ریسرچ توسیع تر حد تک پہنچی۔ آج کی دنیا میں ہر سیکنڈ میں چار سے چھ صفحات کا نیا علم (نئی ریسرچ) کاغذوں میں محفوظ ہو رہی ہے جو قومیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں یا حالات سے مطابقت اختیار کر رہی ہیں ان کی بلند پرواز مثال بن رہی ہے حضرت اقبالؒ نے خوب کہا
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گرد راہ ہیں وہ کارواں تو ہے
26 جولائی کی شام پارلیمنٹ میں سنگل لارجسٹ پارٹی کے سربراہ عمران خان نے اپنی وکٹری سپیچ میں انکشاف کیا کہ ڈھائی کروڑ بچے سکول ایجوکیشن سے محروم ہیں۔ خان صاحب کو بتانا یاد نہ رہا کہ اس سے بڑی تعداد ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ہے جو اپنی ڈگریاں دیکھ دیکھ کر مایوسی کی دلدل میں گر رہے ہیں۔ ملازمت اور نوجوان نسل کے مابین حد فاصل بڑھ رہی ہے اس خلیج نے دانش و بینش کو راہ حق سے ورغلانا شروع کر دیا ہے۔ میں کئی ایسے نوجوانوں کو جانتا ہوں جن کی گفتگو میں مایوسی‘ حسرت اور یاس کے کانٹوں نے ان کی معاشرتی ،عوامی اور خاندانی زندگی مسخ کر دی ہے۔ چار‘ پانچ اور سات سال سے بیروزگاری کا بوجھ اور اہل خاندان کے طعنوں کے تیر برداشت کرنے والی یوتھ کس طرح قومی دھارے کا حصہ بن سکتی ہے؟ یاد کریں ماؤزے تنگ کی وہ بات جس میں وہ کہتے تھے کہ مایوس نوجوان ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اہل اختیار‘ پالیسی میکرز اور پندرہ پندرہ اور بیس بیس سال کی پلاننگ کرنے والے ذرا دل پر ہاتھ کر رکھ کر بتائیں کہ بے روزگار گریجویٹ کے سر پر مزید کب تک بے روزگاری کا سائبان تنا رہے گا ؟پاکستان پر سی پیک جیسے عدیم المثال منصوبے کا سایہ موجود ہے۔ سیاحت‘ تجارت‘ خزانہ‘ ہاؤسنگ‘ ایجوکیشن‘ سماجی بہبود اور خارجہ امور کی وزارتیں مشترکہ اقدامات سے ایسے ایسے انقلاب آفریں اقدامات اٹھا سکتی ہیں جن کی مدد سے دو تین کروڑ بے روزگاروں کی کھپت ہو جاتی ہے۔ معلوم نہیں کیوں ہمارے بادشاہ اور نوکر شاہی کے بابو اس روشنی کو عام نہ کر سکے۔ہم نے انہی کالموں میں درہ شندور کا تذکرہ کرتے ہوئے جہاں اس وادی کے حسن اور دلربائی کی بات سنائی تھی وہاں خٹک حکومت کی بے بسی پر ماتم بھی کیا تھا۔ سوچتے تھے کہ اگر صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ کے لئے اپنے مینڈیٹ کا احترام کرتی تو آج ترقی و خوشحالی خیبرپختونخوا حکومت کی مٹھی میں ہوتی۔ سابق خٹک حکومت نے سیاحت کے لئے کچھ قدم اٹھائے نہ لوکل گورنمنٹ کا محاسبہ کیا,, کس کس بات کا رونا روئیں،، البتہ یہ ’’جادو‘‘ ہے کہ خٹک حکومت کی ’’مثالی کارکردگی‘‘ کے سبب پی ٹی آئی کو دوبارہ حکومت سازی کا موقع مل رہاہے ۔۔۔گفتگو معاشی ترقی اور بیل آؤٹ پیکج سے شروع کی تھی ہم امید کرتے ہیں کہ تحریک انصاف اور اس کے قائد یقیناً معاشی صورتحال سے نکلنے کیلئے انصاف سے کام لیں گے۔ حکومت سازی کے جاں گسل لمحات کے بعد رولنگ پارٹی نے پہلے سو دن میں جس ہدف کو پانا ہے پلیز اس میں ایک کروڑ خاندانوں کی خوشیاں ضرور شامل کریں۔ ملازمتیں دیں اور جو لوگ ملازمتوں کی فراہمی کی راہ میں مٹھی گرم کرنے کی دیوار کھڑی کریں ان شکایات پر بھرپور ایکشن لیں۔ عمران خان پلیز اپنے اور اپنی ٹیم کے زرخیز ذہنوں کے ساتھ قوم کی خدمت کریں عوام نئے پاکستان کے سحر و ثمر میں گم ہونے کی منتظر ہے
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
دور نہیں چند دن قبل نگران وزیر خارجہ عبداﷲ حسین ہارون نے قوم کی حقیقی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ قومی غیرت کا تقاضا ہے کہ امریکی مدد لینے سے انکار کر دینا چاہئے۔ وزیر خارجہ نے وہ بات کہہ دی جس کی لمحہ موجود میں ضرورت تھی۔ ہم نے مدد کی آڑ میں ڈکٹیشن لے لے کر اپنا جو حال کر لیا ہے اس کا اندازہ آج قوم کے بچے بچے کو ہے۔ غیروں کی ہدایات اور پھر حکم بجا آوری نے ہر پاکستانی بچے کو ڈیڑھ لاکھ کا مقروض کر دیا ہے۔ خدارا کوئی ایسی سبیل سامنے لائیں کہ ہم غیروں کی ڈکٹیشن ، امداد اور قرضہ کی سیاہ رات سے دور رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں