Kashif Khan 244

11 اگست پاکستانی مذہبی اقلیتوں کا قومی دن … کاشف منیر

کاشف منیر . پشاور

11 اگست 1947 کو قائد اعظم محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ ” اس مملکتِ پاکستان میں آپ سب آزاد ہیں۔ آپ سب آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ سب آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے۔ یا کسی بھی اور عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔آپ کا تعلق کسی بھی مذھب،ذات یا عقیدے سے ہو۔ مملکت کو اس سے کوئی سروکار نہیں “۔

قائد اعظم کی اس تقریر سے واضح ہوتا ہے کے وہ اک سیکولر ریاست کا قیام چاہتے تھے، یعنی ایک ایسی ریاست جس کا اپنا کئی مخصوص مذھب نا ہو۔ ایسی ریاست جس میں تمام شھری برابری کی سطح پر زندگی گزار سکیں۔ نا کے ذات پات ، رنگ نسل اور مذھب کی بنیاد پر۔ معروف تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی فرماتے ھیں کے قیاِم پاکستان کے پِس پردہ سیاسی محرکات کی اھمیت مذھبی محرکات سے کہیں ذیادہ تھی۔

photo 1

2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں اِک مسیحی وزیر شھید شھباز بھٹی کی کاوشوں سے 11 اگست کو قومی سطح پے مذھبی اقلیتوں کا دن قرار دیدیا گیا۔ 2011 میں شھید شھباز بھٹی کو مذھبی انتھا پسندوں نے قتل کر دیا۔ شھید شھباز بھٹی کا اس دن کو اقلیتوں کو مخصوص کرانے کا ممکنہ مقصد یہ تھا کے وہ قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر کی روشنی میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن افسوس کے اس دن کی اہمیت صرف بڑے بڑے ہوٹلوں تک محدود ہو گئ ھے۔ اس دن بڑے بڑے لیڈرز پْر جوش تقریریں تو کر لیتے ہیں، مگر عملی طور پر اقلیتوں کے مسایل حل ہوتے ہوے نظر نہیں آتے۔ 11 اگست 1947 تا 11 اگست 2018 ، 71 سال بیت گیے لیکن آج بھی پاکستان کی مذھبی اقلیتیں سینکڑوں مسایل سے دوچار ہیں۔

phto 2

22 ستمبر 2013، آل سینٹ چرچ کوھاٹی گیٹ پشاور میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے۔ جس میں 127 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے اور 250 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اس المناک واقع نے پورے مْلک کو ہلا کے رکھ دیا۔ جس کے بعد 19 جون 2014 کو اس چرچ دھماکے کو مدِ نظر رکھتے ھوے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی ایک تاریخی فیصلہ پیش کیا۔ جس میں مندرجا ذیل نکات پیش کیے گیے۔
1. مذہبی برداشت کو فروغ دینے کے لیےوفاقی سطح پر ٹاسک فورس کا قیام کیا جائے
2.مذہبی ھم آھنگی کی فروغ کے لیے نصاب کی تیاری ممکن بنائی جائے
3.سوشل میڈیا سےنفرت انگیز مواد کے خاتمے کے لیے اقدامات کیا جائے
4.مذھبی اقلیتوں کے لیے کونسل کا قیام ممکن بنایا جائے
5.عبادت گاہوں کی حفاظت کےلیے محصوص پولیس فورس کا قیام کیا جائے
6۔ سرکاری نوکریوں میں% 5 کوٹے پر عمل درامد ممکن بنایا جائے
7.اقلیتوں کے ساتھ کوئی بھی حساس واقع ہونے کی صورت میں فوری کاروای کے لیے طریقہ کار تشکیل دیا جائے
اس کے علاوہ سپریم کورٹ کو یہ احکامات بھی جاری کیے گیے تھے کے ایک مستقل فایل کھولی جائے اور 3 رکنی بینچ قایم کیا کریں جو متواتر اس فیصلے کے عمل درامد کو یقینی بنانے کی لیے اور بنیادی حقوق سلب ھونے کی صورت میں تحفظ فراھم کریں
لیکن یے تاریخی فیصلہ ابھی تک تاریخ کا حصِہ ہی بنا ہوا ہے۔ اور کسی بھی صوبے میں کچھ خاص عمل درامد نہیں ہو سکا۔ حیرت کی بات یہ ہے کے ہمارے ہاں سپریم کورٹ کے کیے ہوے فیصلے پر عمل درامد کے لیے بھی دوبارہ سپریم کورٹ میں ھی چلینج کرنا پڑتا ہے۔

photo 3

حالیہ 2018 کا عام انتخاب نئے پاکستان کی نوید لے کر آیا ہے۔ ممکنہ وزیر اعظم عمران خان 11 اگست کو وزارت عظمی کا حلف اٹھانے کا ارادہ رکھتے ھیں۔ امید کی جا سکتی ھے اس نئے پاکستان میں اقلیتوں کی حالتِ زار پر غور کیا جائے گا اور ان کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی مسایل حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں