Shahid-yousuf-Khan 118

71 سالہ تبدیلی اور موروثی سیاسی خانوادے …شاہد یوسف خان

شاہد یوسف خان
قوموں کو سیاسی بلوغت اور پختگی آزادانہ انتخابات کے بعد حاصل ہوتی ہے جبکہ ہمارے ملک میں ابھی تک آزادانہ اور منصفانہ انتخابات شکوک اور کنفیوژن میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ہارنے والی جماعتیں کبھی شکست قبول کرنے کو تیار اس لیے نہین ہوتیں کہ وہ سب جانتی ہیں ورنہ ترقی یافتہ ممالک میں سو میں سے ایک فیصد لوگ ہی دھاندلی وغیرہ کا الزام لگاتے نظر آتے ہیں لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔

چلیں آپ کو الیکشن کے بعد کی صورتحال سے تو کُلی آگاہی ہو گی کہ جب خان صاحب نے جیت کے جذبے کے بعد قوم سے خطاب کیا اور عام اعلان کر دیا کہ جہاں اپوزیشن حلقے کھلوانے کا کہے گی، وہاں وہ حلقے بھی کھلوائیں گے اور دوبارہ گنتی بھی ہوگی لیکن جب دیکھا گیا کہ حلقے کھول دیے گئے اور حکمران بننے والے جماعت کو اکثر جگہوں سے جیت شکست میں بدلنے لگی تو معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔

خان صاحب اتنے سادہ ہیں کہ اعلان کرنے کے باوجود بھی حلقے نہ کھولنے کے لیے عدلیہ میں چلے گئے ہیں اور اب عدلیہ جانے، وہ جانے یا وہ۔ ابھی تک تو ایسا لگ رہا ہے کہ مروجہ تبدیلی کے لبادے میں بھی اسٹیبلشمنٹ اپنی تاریخی روایات کی پاسداری کے لیے وہی پرانی ترکیبیں آزما رہی ہیں اور ہماری قوم اسی جذباتی رو میں بہی جا رہی ہے۔ چلین اس نامی گرامی تبدیلی پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور اس انقلاب سے اُمید خیر باندھ بھی لیتے ہیں جسے چلانے کے لیے اکہتر سالہ روایتی طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔

”تبدیلی آ گئی ہے یارو“ کا نغمہ تو سماعتوں کو اچھا لگتا ہے لیکن اس تبدیلی پر صرف تھوڑی سی نظر دوڑا لی جائے تو دو قسم کے احساسات ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ جیسے الیکشن میں منتخب ہونے والے اکثر تبدیلی رہنما حج کر کے واپس آئے ہوں کہ بس صاحب اب توبہ تائب۔ کوئی گناہ نہیں کرنا، لیکن ہمارے ہاں کے حاجی اکثر پُرانے ہوتے ہی حج پر کیے گئے وعدوں سےمنحرف ہوجاتے ہیں۔

منتخب اراکین میں سے تقریباً 125 تو وہی موروثی سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں اکثریت اب تحریک انصاف کے تبدیلی قافلے پر چڑھی ہوئی ہے۔ الیکشن میں دیکھا گیا کہ ایک ہی خاندان ایک باپ، دو بیٹے اور اس کے پوتے پوتیوں کو ہی ٹکٹیں دی گئیں، کیا ان جماعتوں میں کوئی پڑھے لکھے ورکرز نہیں تھے۔ یہاں پھر یہ گُماں ہوتا ہے کہ تبدیلی نہیں آئی۔ یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اس الیکشن میں چند باوقار اور پڑھے لکھے لوگ بھی روایتی سیاستدانوں کو شکست دے کر بھی پارلیمنٹ پہنچے ہیں، تعداد کم ہے لیکن مستقبل میں بڑھنے کے چانسز اس صورت ہیں اگر انہوں نے کچھ کر دکھایا اور الیکشن آزادانہ ہوگئے۔

باقی یہاں سے سرداری، مخدومیت، سائیں، چوہدراہٹ جیسے فیوڈل سسٹم کو توڑنا آسان نہیں ہے اس کی سیدھی سی وجہ یہ ہے کہ انہی خاندانوں کے خانوادہ اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بھی ہین اور دیگر برے قانونی اداروں کا بھی۔ فیوڈل سسٹم ہماری تاریخ کا ایک ایسا حصہ ہے جو ہمارے خون میں سرایت کر چُکا ہے۔ متعدد مورخین بتاتے ہیں کہ اس دھرتی پر جب بھی کوئی حملہ آور نے حملہ کیا تو ان کا ساتھ بھی مقامی سرداروں، چوہدریوں نے اس لیے دیا تاکہ حکمرانی میں سے کچھ حصہ وہ بھی حاصل کر سکین۔ جس کی بدولت برصغیر خصوصاً پنجاب کے عام عوام ہمیشہ محکوم رہے اور سردار کہلوانے والے ہمیشہ نسلوں سے موجیں کرتے رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں