Calumest 60

(“وادی لڑم” تاریخ کے ائینہ میں)

تحریر : محمد وہاب سواتی
ضلع دیر تہذیبی اور ثقافتی لحاظ سے پاکستان کا ایک اہم حصہ جانا جاتا ہے۔ یہاں پر قدیم گندھارا آرٹ کے نمونے پائے جاتے ہیں۔ اپنے تہذیبی اعتبار سے وادی دیر نہ صرف مشہور ہے بلکہ یہاں پر فلک بوس پہاڑ اور جڑی بوٹیوں اور پھولوں سے بھرے ہوئے مرغزار بھی موجود ہیں۔
فلک بوس پہاڑ اس وادی کے تاج ہیں۔ وادی دیر کے خوبصورتی میں اپنا حصہ ڈالتی کوہساروں اور پہاڑی چوٹیوں میں “سندراول” ، “اندومیر” ، “شنکارا” ، ” لواری”، “کشبوران” ، ” بیوڑی” کے علاوہ “لڑم ٹاپ” بھی ہے۔ وادی لڑم میں واقع اس خوبصورت پہاڑ کی سطح سمندر سے بلندی نو ہزار فٹ ہے۔
بٹ خیلہ سے چکدرہ اور پھر براستہ گل آباد اوراُوچ سے گزر کے اس وادی کے گھنے جنگلات آپکے استقبال میں جھومتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اُوچ کا علاقہ تاریخی اعتبار سے قدیم گندہارا آرٹ کا ایک حصہ ہے اور یہاں پر وادی لڑم کو جاتے ہوئے “اندان ڈھیرئی” کے مقام پر قدیم آثار اب بھی موجود ہیں۔ کہتے ہے کہ سکندر اعظم نے جب یہاں پر قدم رکھا اور پہاڑوں کے بیچ میں واقع اس میدانی علاقے کو دیکھا، تو اس نے یہاں کا نام اوچ رکھ لیا۔ اُوچ کا لفظی معنیٰ ” نگینہ کا گھر” کے ہیں۔ کیونکہ یہ علاقہ پہاڑوں کے بیچ میں واقع ہے اسی وجہ سے اس کا نام اُوچ پڑ گیا۔ اکثریت کے مطابق ،اوچ کے جنوب میں واقع ورسک اور گل آباد کا علاقہ ہے ۔قدیم زمانے میں یہاں پر دریا بہتا تھا۔ جبکہ شمال کا اوپری علاقہ “اوچ ” اس دریا کا ساحل اور خشک علاقہ ہے۔ اُسی زمانے میں اِس علاقہ کو “وَچ” کہا جاتا تھا جو کہ پشتو زبان کا لفظ ہے اور اس کی معنی “خشک” کے ہے۔ بعد میں یہ نام “وَچ” سے “اوچ” بن گیا۔ لڑم ٹاپ تک جانے کے لئے ذیادہ تر سیاح اُوچ میں ضروری اشیاء کے خریداری کر کے آگے جاتے ہیں۔ کیونکہ وہاں پر اشیاء خوردنوش کا کوئی خاص انتظام موجود نہیں ہے۔
اُوچ کے شمال کے طرف جاتے ہوئے وادی لڑم کے آبادی نظر آنا شروع ہو جائے گی۔ “لڑم ٹاپ” کے نشیب میں واقع وادی لڑم کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ لڑم کے پہاڑی تک پہنچنے کے لئے پہلے انگریزوں نے مشرق کے طرف سے سڑک بنانے کا انتظام کیا تھا۔ چونکہ براستہ اُوچ لڑم ٹاپ تک پہنچنے کے لئے آسان راستہ اور کم وقت لگتا تھا۔ اس وجہ سے بعد میں وہ راستہ تبدیل کردیا گیا۔
مشرق کے طرف کا راستہ وہاں پر موجود قدیم چینار کے درخت سے شروع ہوتا تھا۔ اب بھی وہ چینار وہاں پر موجود ہے۔ جن کا قطر دو میٹر سے ذیادہ ہے۔ اس درخت کے ساتھ ہی ایک تازہ چشمہ دن رات بہتا رہتا ہے۔ یہ جگہ “شامیر چینار” کے نام سے مشہور ہے۔ ذیادہ تر سیاح لڑم ٹاپ کا رخ کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہاں پر سیاحوں کی آمد بہت کم ہوتی ہے۔
وادی لڑم کے بیچوں بیچ لڑم ٹاپ تک جانے والی سڑک یک رویہ ہے۔ بعض جگہ پر لینڈ سلائیڈنگ اور برف باری کی وجہ سے سڑک کی حالت خستہ ہے۔ٹاپ تک جاتے ہوئے مشکل موڑ کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ لہذا یہاں پر انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ بے احتیاطی اور موج مستی کی وجہ سے موت کے وادی میں چلے گئے ہیں۔ سڑک کنارے کئی جگہوں پر چشمے موجود ہیں۔ جہاں پر سیاح راستہ کی تھکاوٹ کی وجہ سے کچھ وقت کے لئے ٹھہر جاتے ہیں۔ سڑک کنارے فوٹو اور وڈیو بنانے کی بلکل اجازت نہیں ہے اور اسی حوالے سے یہاں پر آپ کو جگہ جگہ پر بورڈ آویزاں نظر آئیں گے۔ جو کہ علاقہ کے مکینوں نے لگوائے ہیں۔ یہ اس وجہ سے کیونکہ یہ علاقہ دیہاتی اور پہاڑوں میں واقع ہے اور یہاں کے مکین( مرد و خواتین) بھیڑ بکریاں چرانے اور کھیتوں کی دیکھ بھال کے لئے جاتے ہیں۔
اُوچ سے لڑم ٹاپ تک پہنچنے کا راستہ تقریبا” ایک گھنٹہ ہے۔ لڑم ٹاپ پر پہنچ کر فطرت کی رعنائیاں آپ کا استقبال کریں گی۔ ضلع دیر کے فلک پوش چوٹیوں میں بیچوں بیچ “لڑم ٹاپ” سحر ذدہ مناظر کے ساتھ ساتھ جغرافیائی، تاریخی اور سیاسی پس منظر بھی رکھتا ہے۔ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے یہ جگہ انگریزوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ انگریز یہاں پر شکار کے لئے آتے تھے۔ اس وادی کے بزرگوں سے بات کرتے ہوئے “وادی لڑم” وجہ تسمیہ کے بارے میں پوچھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وادی کے پہاڑوں میں بچھو زیادہ ہونے کی وجہ سے اس جگہ کا نام “لڑم” رکھا گیا۔ بچھو کو پشتو زبان میں لڑم کہتے ہیں۔ لیکن تاریخی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے اس جگہ کا نام ایک انگریز خاتون “مس لرم” کے نام سے رکھا گیا تھا۔ بعد میں یہ “لرم” سے بگڑ کر “لڑم” بنا۔
کئی ہزار سال پہلے یہ وسطی ایشیاء اور افغانستان تک جانے کے لئے اہم راستہ تھا۔ سکندر اعظم، مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم سرونسٹن چرچل نے بھی یہاں قیام کیا۔ سر ونسٹن چرچل نے اپنے کتب “ملاکنڈ فیلڈ فورس” اور “مائی ارلی لائف” میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔
انگریزوں نے “لڑم ٹاپ” پر ایک قلعہ بھی تعمیر کرایا تھا۔ لیکن ریاست دیر کے نواب اور ان کے بعد مختلف حکومتوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ جس کا ذکر کتابوں میں موجود ہے لیکن یہ لڑم ٹاپ پر کہاں واقع ہےاب کسی کو معلوم نہیں۔ اگر حکومت اس کے دریافت کے لئے کوئی اقدام کرلیں تو اس جگہ کی تاریخی اہمیت اور بھی اُجاگر ہو جائے گی۔
انگریزوں کے جانے کے بعد یہاں پر دیر کے نواب اور ان کے مہمان شکار کے لئے آتے تھے۔ سابق صدر اور فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے بھی یہاں کا دورہ کیا تھا اور اس جگہ پر اتنے عاشق ہوئے تھے کہ باقاعدہ شکار کے لئے آتے تھے۔
حسین نظاروں کا یہ جھنڈ کسی بھی طور ملک کے مشہور سیاحتی مراکز سے کم نہیں۔ ہر سال موسم سرما میں یہاں کئی کئی فٹ برف باری ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے “لڑم ٹاپ” پر دو چار گھروں کے علاوہ کوئی مستقل آبادی نہیں ہیں۔ سہولیات کی فقدان اور سخت سردی کی وجہ سے یہاں پر انسانی مسکن ناگزیر ہے۔ دسمبر سے اپریل تک یہاں کی پہاڑیاں برف سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہے۔ مئی اور جون کے مہینوں میں یہی برف پگل کر دریا کا روپ دھار کر مختلف علاقوں سے گزر تے ہوئے دریائے سوات اور دریائے پنج کوڑا میں جا گرتی ہے۔
جون اور جولائی جو کہ سخت گرمی کا موسم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس یہاں پر خوشگوار ٹھنڈی ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔ دن میں کئی کئی بار بارش سے موسم اور بھی سرد ہو جاتا ہے اور سیاح گرمیوں میں بھی لحاف اوڑھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
لڑم ٹاپ پر پہنچ کر یہاں سے سوات، دیر بالا، باجوڑ اور افغانستان کے بعض علاقوں کو با آسانی نظارا کیا جا سکتا ہے۔
افغان روس کے لڑائی کے دوران یہاں پر پاکستان آرمی نے ریڈار نصب کئے تھے۔ جس کی عمارت اب بھی موجود ہے بلکہ اُس میں مزید توسیع کی گئی ہے۔ اِسی وجہ سے اس جگہ کا دوسرا نام “ریڈار ٹاپ” بھی ہے۔ پورے ملاکنڈ ڈویژن کا مواصلاتی مرکز یہی ریڈار ہے۔ تمام سیلولر کمپنیوں نے یہاں پر اپنے اپنے ٹاورز نصب کئے ہوئے ہیں۔
حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے یہاں پر سیاحوں کے لئے معقول رہائش کا بندوبست نہ تھا۔ محکمہ سیاحت نے یہاں پر ایک ہوٹل بنایا ہوا ہے لیکن اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل ہونے کی وجہ سے ہوٹل کی ملکیت کا مسئلہ پیدا ہوا اور یہ مسئلہ تا حال جوں کا توں ہے۔ یہ ہوٹل اب ویران ہو گیا ہے۔ باہر سے دلکش آنے والا یہ ہوٹل اندر سے پرانے کھنڈر کی مثال پیش کرتا ہے۔ البتہ یہاں پر مقامی طور پر نجی گیسٹ ہاؤس تعمیر ہو رہے ہیں۔ یہ گیسٹ لاؤس ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں اور یہاں تک صرف خواص کی رسائی ہوتی ہیں۔ جس میں سب سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء ظاہر شاہ خان کا گیسٹ ہاؤس قابل ذکر ہے۔ جو کہ اس جگہ سب سے پہلے تعمیر ہونے والا گیسٹ ہاؤس ہے جہاں پر سابق گورنر خیبرپختونخواہ افتخار حسین شاہ گیلانی اور سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے بھی قیام کیا تھا۔
باقاعدہ ہوٹل نہ ہونے کی وجہ سے یہاں آنے والے سیاحوں کو مشکلات درپیش تھیں۔ لیکن اس جگہ کی سیاحتی اہمیت روز بروز بڑھنے کی وجہ سے اب یہاں پر تقریبا” دس بارہ کے قریب نجی گیسٹ ہاؤس تعمیر ہو چکے ہیں۔ پانچ نجی ہوٹلوں کی تعمیر جاری ہیں۔ جبکہ اشیاء خوردنوش اور دیگر ضروری اشیاء کے حصول کے لئے مختلف جگہوں پر دکانوں کی تعمیر ہو چکی ہے۔ جس سے سیاحوں کو خاطر خواہ آسانی ہو چکی ہے۔
“لڑم ٹاپ” پر سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ چوٹی پر پانی کے ذخائر ناپید ہیں۔ اسی وجہ سے یہاں پر قائم گیسٹ ہاؤس کے لئے پانی کی ترسیل پہاڑی کی نشیب میں واقع چشموں سے ممکن بنائی جاتی ہیں اور ذیادہ تر بارش کا پانی جمع کیا جاتا ہے۔ بجلی کا مسئلہ اب تقریبا” ختم ہو چکا ہے۔ البتہ سردی میں برف باری کی وجہ بجلی کی ترسیل ممکن نہیں ہوتی۔
“لڑم ٹاپ” کے اطراف میں کئی چھوٹی چھوٹی چوٹیاں موجود ہیں اور انہی چوٹیوں پر موجود دیودار کے لمبے لمبے درخت موجود ہیں۔ درختوں کی بہتات کی وجہ سے یہاں پر انواع و اقسام کے پرندے اور جنگلی جانور رہتے ہیں ، جن میں چکور اور کبوتر یہاں پر سب سے ذیادہ پائے جاتے ہیں۔
دیودار کے گھنے درختوں کے بیچ، یخ اور خوشگوار ہواؤں کے ساتھ چکور اور کبوتر کے سریلی آوزی گویا کانوں میں رس گھولتی ہیں۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ یہ جگہ کئی دہائیوں سے شکار کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ اب محکمہ وائلڈ لائف کی کھڑی نگرانی میں یہاں شکار با لکل بند ہے۔ البتہ یہاں سے قیمتی درختوں کی غیر قانونی ترسیل کسی نہ کسی طرح ہوتی رہتی ہے۔
رات کے وقت یہاں پر ذیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ رات کو یہاں پر جنگلی بلیوں اور گیدڑوں کا راج ہوتا ہے۔ یہاں چاروں طرف روشنیوں سے بھرے ہوئے شہروں کا نظارہ ایک الگ منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں سے صبح سویرے کیا جانے والا نظارہ اپنی مثال آپ ہے۔ دھیمی اور تیز ہواؤں کے ساتھ بادلوں کی آنکھ مچولی سے دل کو راحت نصیب ہوتی ہے۔
نو ہزار فٹ بلند اِس چوٹی پر سورج کی کرنیں یہاں کی موسمی تغیر کی وجہ سے بہت بعد میں پڑتی ہے۔
اب ایک تو حکومت کی عدم توجہی کے سبب اور دوسرا یہاں پر تیزی سے تعمیراتی کام کی وجہ سے لڑم ٹاپ کی خوبصورتی آہستہ آہستہ ماند پڑ رہی ہے۔ اب یہاں جگہ جگہ پر گندگی کے ڈھیر پڑے رہتے ہیں۔ ہر جگہ الاؤ جلانے کی وجہ سے یہاں کی قدرتی حسن میں کمی ہو رہی ہے۔
صفائی کی ابتر صورتحال کے بنا پر اور تعمیراتی کام اور تیزی سے جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے یہاں کے موسم میں تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔
ماضی میں کئی حکمرانوں کو اپنے طرف مائل کرنے والا “لڑم ٹاپ ” اب صاف اور میٹھے پانی والے چشموں، گھنے جنگلات، چرند پرند، جڑی بوٹیوں کی فروانی، دلربا چوٹیوں اور ٹھنڈے موسم کی آماہ جگاہ، تمام رعنائیوں کے ساتھ ضلع دیر لوئیر کے اُفق پر تاج سردارہ کے طرح موجود ہے۔ حسین نظارے اور خوشبو سے لبریز یہ وادی حکومت کی توجہ کی طلب گار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں