school 67

بچے غلطیوں سے سیکھ کر با اعتماد بنتے ہیں

لیاقت علی جتوئی
والدین اپنے بچوں کو مثالی بنانے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں اور اسی فکر میں بعض والدین اپنے بچوں کو کچھ نہیں کرنے دیتے کہ وہ غلطیاں کریں گے، گِریں گے، گندے ہوجائیں گے اور انھیں نقصان پہنچے گا۔ شاید وہ اپنے بچوں سے بے انتہا پیار میںیہ بھول جاتے ہیں کہ اس کوشش میں وہ اپنے بچوں کو سست اور کاہل بنا رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ اپنے بچے کو ہر چیز آسانی سے مہیا کر دیں گے تو وہ محنت کرنا کیسے سیکھے گا؟ والدین کی ایک دوسری قسم وہ ہوتی ہے، جو ہر وقت اپنے بچوں کو ڈانٹتے رہتے ہیں۔ یہ ایسے کیوں کردیا؟ وہ کیوں کردیا؟ اُدھر کہاں جارہے ہو/رہی ہو؟ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے والدین کو بچوں کی نفسیات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

بچے اگر غلطیاں نہیں کریں گے تو سیکھیں گے کیسے؟ وہ اگر گِریں گے نہیں تو انھیں کیسے پتہ چلے گا کہ گِرنا کیا ہوتا ہے اور چوٹ لگنا کیا ہوتا ہے؟بچے اپنی غلطیوں سے سیکھ کر ہی اپنی شخصیت کو سنوارتے ہیں، زندگی میں آگے بڑھنا سیکھتے ہیں اور مضبوط شخصیت کے مالک بن کر اُبھرتے ہیں۔جن بچوںکو غلطیاں کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، وہی بڑے ہوکر بااعتماد، لائق، خوش مزاج اور کامیاب انسان ثابت ہوتے ہیں۔جن بچوں کو غلطی کرنے اور کبھی کبھی ان کی کوشش میں انھیں ناکام ہونے کا موقع دیا جائےتو ان بچوں کی میں زندگی میں سماجی (Social)اور جذباتی (Emotional) خصلتیں (Skills) پروان چڑھتی ہیں۔

بچے اسی طرح سیکھتے ہیں

ہم تمام لوگوں نے یہ کہاوت سُن رکھی ہے کہ ’انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے‘، اور یہ کہاوت سب سے زیادہ بچوں کے لیے موزوں ہے۔ کوشش کرنے اور غلطی کرنے سے بچوں کا ذہن اور ان کا ہنر بڑھتا ہے۔

مِشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ بچے جب غلطیاں کرتے ہیں تو انھیں ان سے سیکھنے اور اپنے ذہن کو کھولنے میں مدد ملتی ہے۔ 123بچوں کو ذہین بنانے کے مطالعے کے دوران، انھوں نے یہ دیکھا کہ جن بچوں نے اپنی غلطیوں پر زیادہ توجہ دی انھوں نے زیادہ سیکھا۔

اسکے غیرمتوقع مثبت اثرات ہو سکتے ہیں

صرف بچے ہی غلطیوں سے نہیں سیکھتے۔کئی عظیم چیزوں کی دریافت کے پیچھے دراصل، ان کے مؤجدین کی غلطیاں بھی کارفرما تھیں۔ اسکاٹ لینڈ کے سائنسدان الیگزینڈر فلیمنگ کی ایک چھوٹی سی غلطی پنسلین کی دریافت کی وجہ بنی۔ وہ 1928ء میں انفلوئنزا کے موذی وائرس کو کنٹرول کرنے کے طریقوں پر کام کررہے تھے کہ اس دوران وہ چھٹیوں پر چلے گئے۔

واپسی پر انھوں نے دیکھا کہ لیبارٹری کی جس ڈش میں انھوں نے بیکٹیریاز کلچر کیے تھے، اس ڈش پر پھپوند جم گئی تھی اور اس پھپوند نے بیکٹیریاز کی افزائش روک دی تھی۔ یہ کوئی معمولی پھپھوند نہیں تھی یہ پنسیلیم نوٹیٹم تھا۔ اور یہی پنسلین کی دریافت کا مؤجب بنا، جس سے بیکٹیریا کے انفیکشن کا علاج کیا جانے لگا۔ کس طرح ایک چھوٹی سی بھول، لاکھوں جانیں بچانے کا موجب بنی۔

غلطی درحقیقت ایک تجربہ ہوتا ہے

معروف انگریزی مصنف آسکر وائلڈ نے لکھا، ’ہر آدمی اپنی غلطیوں کو تجربے کا نام دیتا ہے‘۔ ان کے مزاح نے بہت ہی اہم نکتے کو اجاگر کیا ہے۔ آپ کسی بڑے امتحان میں ناکام ہوں تو آپ یہ سیکھ جاتے ہیں کہ آپ کو حقیقی مایوسی سے کس طرح نمٹنا ہے۔

یہ مقصد کے حصول کی آزادی دیتا ہے

امریکا کے سابق صدر تھیوڈور روزو یلٹ نے کہاتھا، ’صرف وہی شخص کبھی غلطی نہیں کرتا جو کبھی کوئی کام نہیں کرتا‘۔ غلطی کا ڈر ہمیں اکثر نئے کام کرنے سے روکتا ہے جبکہ غلطیوں کو قبول کرنے سے معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ غلطیوں کا اعتراف ہمیں ہمارے مقصد کے حصول کے لیے لامحدود آزادی دیتا ہے۔ اسی طرح، اگر ہم بچوں کو محض غلطی کرنے کے ڈر سے ہر وقت ڈانٹتے رہیں گے تو آئندہ وہ ڈانٹ کے ڈر سے صحیح کام میں بھی ہاتھ نہیں ڈالیں گے اور ان کی شخصیت سہمی سہمی سی رہے گی۔ ایسے بچے بڑے ہوکر بھی ہر چیز سے ڈرتے رہیں گے۔

ہم اپنی ترجیحات واضح کر سکتے ہیں

معروف مصنفہ جے کے رؤلنگ کہتی ہیں کہ جب وہ20اور30کی عمر کے درمیان تھیں تو وہ ’بڑے پیمانے پر ناکام ہو چکی تھیں‘۔ ان کی شادی ٹوٹ چکی تھی۔ وہ اور ان کی بیٹی غربت میں جی رہے تھے، ایسے میں ایک مصنف کے طور پر ان کی کامیابی کے کیا امکانات تھے؟ 2008ء میں ہارورڈ یونیورسٹی میں گریجویشن کرنے والے طالب علموں سے انھوں نے کہا کہ، ’میں نے خود فریبی کو چھوڑ دیا کہ میں کیا تھی اور ایک ہی چیز پر توجہ مرکوز رکھی، جو ہمارے لیے اہم تھی۔

اس سے مجھے آزادی حاصل ہوئی، کیونکہ میں نے اپنے سب سے بڑے ڈر کو جھیل لیا، میں پھر بھی زندہ تھی، میرے پاس ایک بیٹی ہے جسے میں پیار کرتی ہوں، میرے پاس ایک ٹائپ رائٹر ہے اور ذہن میں ایک بڑا خیال موجود ہے‘۔ اسی بات نے ہیری پوٹر کی مصنفہ کو بدل دیا اور آج وہ دنیا کی معروف اور امیر ترین مصنفوں میں سے ہیں۔ بالآخر غلطیوں سے ہمیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں