pw31a7 43

صنفی اور جنسی تشدد کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ، بلیو وینز تنظیم

نسرین جبین پشاور
پاکستان میں صنفی اور جنسی تشدد کے واقعات و مسائل میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے جبکہ اس حوالے سے قانون سازی کے معاملے میں حکومتی سطح پر مسلسل خاموشی اور سکوت حیران ہے ۔

pw31a7

جنسی تشدد پر قانون سازی کی ضرورت ہے جبکہ اس قسم کے واقعات کو میڈیا پر رپورٹ کرنے کے معاملے میں بھی انسانی حقوق کو مدذ نظر رکھا جانا چاہئے گزشتہ پانچ سالہ دوور حکومت میں پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں صنفی و گھریلو تشدد پر قانون سازی کے حوالے سے صرف بیانات جاری کئے اور عملی طور پر بل اسمبلی میں پیش تک نہ ہو سکا تاہم نئے پاکستان میں عوام نے پی ٹی آئی کی حکومت سے جنسی و صنفی تشدد پر قانون سازی کی ایک مرتبہ پھر امیدیں لگا لی ہیں.

ان خیالات کا اظہار بلیو وینز تنظیم کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں صنفی و جنسی تشدد کے واقعات کی رپورٹنگ کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ کے شرکاء نے کیا ۔ تقریب میں سول سوسائٹی اور صحافیوں سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر تنظیم کے کوآرڈی نیٹر قمر نسیم نے انسانی حقوق کی علمبرداری کے لئے سب کو مل کر آواز اٹھانی چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ در اصل بیرونی ایجنڈا وہی ہے جو اسلامی ایجنڈا تھا اور ہمارے مذہب نے جو حقوق ہمیں دیئے ہیں وہی حقوق اب مغرب مانگ رہا ہے تاہم خواتین ‘ بچوں اور انسانی حقوق اسلام کے عطاء کردہ حقوق ہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ اس لئے پیدا ہوا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں ‘ بچوں اور پسماندگی کا شکار مردوں کو بھی وہ حقوق عملی طور پر دیئے نہیں جاتے جو قانونی اور شرعی طور پر انہیں حاصل ہیں انہوں نے کہا کہ روایات ‘ رسومات ‘ مذہب ‘ قوانین ہر شعبے میں لوگوں نے اپنے مفاد کی چیزوں اور معاملات کو اپنے اوپر لاگو کر لیا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ کہیں مذہب تو کہیں روایات کا سہارا لے کر غلط قسم کی اقدامات ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جنسی تشدد کے حوالے سے باقاعدہ اور جلد قانون سازی کی جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں