minority 12

مذہبی ہم آہنگی و قوت برداشت پیدا کرنے کیلئے خصوصی کلاسز کا اجراء التوا کا شکار

محمد فہیم پشاور:
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم نے8ماہ قبل محکمہ اوقاف مذہبی و اقلیتی امور کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے کو فائلوں میں بند کر دیا نوجوانوں میں مذہبی ہم آہنگی و قوت برداشت پیدا کرنے کیلئے خصوصی کلاسز کا اجراء صوبے کی صرف ایک جامعہ خوشحال خان خٹک یوینورسٹی کرک میں ہی ممکن ہو سکا جبکہ تین تعلیمی اداروں نے اس متعلق کمیٹیاں تو قائم کرلیں لیکن خصوصی کلاس اور سیمینار کا انعقاد نہ کیا جا سکا ۔
گزشتہ برس 28دسمبر کو محکمہ اوقاف مذہبی و اقلیتی امور کی جانب سے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کو ایک مراسلہ ارسال کیا جس میں کہا گیا تھا کہ نوجوانوں میں برداشت کی قوت پیدا کرنے، مذہبی ہم آہنگی اور دہشتگردی کی روک تھام کیلئے تمام سکولوں، کالجوں اور جامعات میں خصوصی کلاسز منعقد کی جائیں ان کلاسز اور سیمینارز کے انعقاد کیلئے ہر جامعہ اور سکول میں خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان کے انعقاد کو یقینی بنائے ۔ مراسلے میں خصوصی طور پر ذکر کیا گیا تھا کہ کلاسز اور سیمینار ز کے انعقاد کا فیصلہ چیف سیکرٹری کی ہدایات کے مطابق کیا گیا ہے جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے صوبے کے تمام سکولوں، کالجوں اور جامعات میں ہر دو ہفتوں میں خصوصی کلاسز اور مہینے میں ایک مرتبہ خصوصی سیمینار منعقد کرایا جائے۔

ان خصوصی کلاسز اور سیمینار کا مقصد بین المذاہن ہم آہنگی کو فروغ دینا، نوجوانوں میں برادشت کی قوت پیدا کرنا اور انہیں انتہا پسندی سے دور کرنا ہو گا۔محکمہ اوقاف مذہبی و اقلیتی امور کے مطابق ان 8ماہ کے دوران صرف خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک نے دو سیمینارز کا انعقاد کیا ہے جس کی رپورٹ بھی محکمہ کو موصول ہو گئی ہے جبکہ مالاکنڈ یونیورسٹی اور سوات یونیورسٹی نے اس حوالے سے صرف کمیٹیاں ہی تشکیل دی ہیں کالجز میں مردان ڈگری کالج نے بھی بین المذاہب ہم آہنگی کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے تاہم اس حوالے سے سیمینارز اور خصوصی کلاسز کا انعقادنہیں کیا جا سکا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں