senagte 13

مہمند ڈیم کیلیے مختص رقم میں سے 304 ارب کرپشن کی نذر ہوئے، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف

اسلام آباد: سینیٹ خصوصی کمیٹی برائے قلت آب میں انکشاف ہواہے کہ مہمند ڈیم کے لئے مختص رقم میں سے 304ارب روپے کرپشن کی نذر ہوئے ہی۔

خصوصی کمیٹی کااجلاس سینیٹر مولابخش چانڈیو کی سربراہی میں ہو ا۔ کمیٹی کوبریفنگ دیتے ہوئے سیکٹری واٹر ریسورس شمائل خواجہ نے بتایااس وقت ملک بھر مین 138ایکڑ فٹ ہے پاک بھارت معاہدے کے تحت پاکستان کے پاس اس وقت دو دریاجبکہ انڈیاکے پاس تین دریاہیں۔ پاکستان کے پاس اس وقت پانی کی مقدار دس فی صد جبکہ دنیابھر میںیہ مقدار 40فی صد ہوتی ہے ملک میںپانی کاذخیرہ 35دن جبکہ دنیابھر یہ ذخیرہ 120 دن کاہوتاہے ملک میںپہلی واٹر پالیسی 1980میں بنی۔

گزشتہ برس واٹرریسورس کیلئے 81منصوبوں کیلئے 36 ارب روپے مختص کیے گے ان منصوبوںمیں50پرانے ہیں جن کی تکمیل 14سال سے 32سال تک ممکن ہوگی ۔ ہدف اس وقت 2030تک کاہے جس کے تحت بھاشااور مہمند بنانے پر اتفاق رائے ہواہے۔ ملک بھر میں اس وقت دس ڈیموںکی تعمیر پر اتفاق ہواہے۔ جس کے بعد پانی کاذخیرہ کرنے کی گنجائش 55دنوں کی ہو جائے گی ۔

سیکرٹری واٹر ریسورس نے انکشاف کیاکہ سال دو ہزار میں پبلک سیکٹر دویلپمنٹ پروگرام کا12سے 17فیصد رکھاگیابعد میں کم کر کے 3.7فیصدتک کر دیاگیا،انہوںنے کہاکہ ڈیم نہ ہونیکی وجہ سے بہت زیادہ ضائع کیا جا رہا ہے اس وقت 50فی صد پانی زراعت، جبکہ 0.95فی صد انڈسٹری کیلئے استعمال ہو رہاہے جبکہ دنیابھر میںزراعت کیلئے 70فی صد اور باقی انڈسٹری کیلئے استعمال کیاجاتاہے۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہاکہ بدین ، تھر کو آفت زدہ قرار دیا گیاہے کیونکہ وہاںپانی نہیں ہے۔

علاوہ ازیںسینٹ قائمہ کمیٹی مواصلات میںنو تعمیر ہزارہ موٹر وے کے بعض سیکشن ناقص کام کے باعث زمین میں دھنس جانے کاانکشاف ہواہے جس پر قائمہ کمیٹی نے سب کمیٹی بنادی ہے، کمیٹی کی جانب سے سی پیک کے مغر بی روٹ پر مقررہ وقت پر کام شروع نہ کیے جانے پر برہمی کااظہار کیاگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں