SIRAJ 10

وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم مسائل کی جڑ ہے ‘سراج الحق

گوجرانوالہ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ نوازشریف کی نااہلی کے بعد ضروری تھاکہ پانامہ لیکس کے دیگر 436 ملزموں کے خلاف بھی کاروائی کی جاتی ، مگر اب تک نیب اور سپریم کورٹ خاموش ہیں ۔ جب تک اربوں ڈالر لوٹ کر باہر منتقل کرنے والے مگر مچھوں کا احتساب نہیں ہوتا ، ملک معاشی بدحالی سے نہیں نکل سکتا ۔

معاشی ناہمواری اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے عام آدمی کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیاہے ۔ حکومت کے ہنی مون کے دن گزر گئے ہیں قوم چاہتی ہے کہ حکومت اب اپنے ایجنڈے پر عمل کرے ۔ حکومت ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار اور پچاس لاکھ بے گھر افراد کو گھر دینے کا انتظام کرے ۔ قوم پاکستان کو مدینہ کی طرز پر اسلامی و فلاحی ریاست دیکھنا چاہتی ہے مگر حکومت نے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا بوجھ لاددیا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجرانوالہ میں اجتماع ارکان سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پرڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان اظہر اقبال حسن ، امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد اور سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب حافظ بلال قدرت بٹ بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ بڑے چوروں نے ملک کا پیسہ لوٹ کر پانامہ ، دبئی اور لندن منتقل کر دیاہے جب تک ان چوروں کو پکڑا نہیں جاتا اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں آتی ، ملک معاشی دلدل سے نہیں نکل سکتا ۔

ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے بے لاگ اور سیاست سے بالاترہو کر احتساب کرنا ہوگا ۔ اب وہ مرحلہ آن پہنچا ہے کہ سب کا کڑا اور بے رحم احتساب ہو ۔ قوم چاہتی ہے کہ احتساب کے سلسلے میں حکومت پس و پیش سے کام نہ لے ، بلکہ کرپٹ اور بددیانت لوگوں کو چن چن کر پکڑا جائے اور انہیں احتساب کے اداروں کے حوالے کیا جائے ۔

سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ حکومت نے عوام سے جو وعدے کیے ہیں ، انہیں پورا کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ حکومت عوام کی توقعات پر پوری اتر سکے ۔امیر ،امیر تر اور غریب ، غریب تر ہورہاہے ۔ پہلے مرحلے میں حکومت کو ایسے اقدامات کی طرف توجہ دینی چاہیے تھی جس سے عوام کو ریلیف ملتا ۔ انہوں نے کہاکہ معاشی استحکام کے لیے مال داروں سے پیسہ لے کر غریبوں پر خرچ کیا جائے ۔ وسائل کا رخ غریبوں کی طرف موڑنا اور محلوں اور بنگلوں کے بجائے جھونپڑیوں میں رہنے والوں کی پریشانیوں کا مداوا کرنا از حد ضروری ہے ۔

انہوں نے کہاکہ مال دار دولت سمیٹ رہاہے اور غریب دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے ۔ اسے تعلیم اور علاج کی سہولت میسر ہے نہ اسے عدالتوں سے انصاف ملتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ معاشی زبوں حالی کی اصل وجہ سودی نظام ہے حکومت آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے سودی نظام معیشت کا خاتمہ کرے اور زکوۃ اور عشر کا پاکیزہ نظام نافذ کیا جائے تاکہ عام آدمی کا معاشی استحصال نہ ہو ۔

انہوں نے کہاکہ سودی نظام کے ہوتے ہوئے ہم معاشی ترقی نہیں کر سکتے ۔ جماعت اسلامی کھیت کی پیدوار میں کسان کو اور کارخانوں کی پیداوار میں مزدور کو شریک کرنا چاہتی ہے ۔ ہم پاکستان میں ایسا معاشی نظا م چاہتے ہیں جس میں حلال کمائی کے دروازے کھلیں اور حرام کے بند ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام کا ایک مکمل معاشی نظام ہے اور آئین پاکستان اسی نظام کو رائج کرنے کا مطالبہ کرتاہے ۔

قبل ازیں گوجرانوالہ کے ارکان کے اجتماع میں آنے والے بلدیاتی انتخابات میں بھر پور طریقے سے حصہ لینے کی منصوبہ بندی کی گئی اور یونین کونسل کی سطح پر تنظیم کو مزید مضبوط و فعال بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں