sultana daku 37

’سلطانہ ڈاکو‘ تاریخ کا ایک پُراسرار کردار

عارف عزیز
ایک زمانے میں ہندوستان کی انگریز سرکار کو ڈاکوؤں اور ٹھگوں نے تگنی کا ناچ نچایا ہوا تھا۔ ان میں ایک سلطانہ ڈاکو بھی تھا جسے گرفتاری کے بعد پھانسی دے دی گئی تھی۔ اس کی زندگی اور جرائم کی مکمل اور درست تفصیلات تو کسی کو معلوم نہیں، مگر اس سے متعلق عجیب و غریب کہانیاں ضرور مشہور ہیں۔

ہندوستان کے نواب اور دولت مند لوگ سلطانہ ڈاکو سے خوف زدہ رہتے تھے۔ انہیں یہی دھڑکا لگا رہتا کہ وہ کسی بھی وقت ان کی دولت اور قیمتی اشیا لوٹ کر لے جائے گا۔ صوبہ یو پی کے شہروں اور بڑی بڑی آبادیوں میں بسے امرا اپنا مال و زر چھپا کر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے اور اس کی حفاظت کا خاص انتظام کرتے۔ یہ لوگ سلطانہ ڈاکو کی لوٹ مار ہی سے پریشان نہیں تھے بلکہ اس لیے بھی خوف زدہ تھے کہ وہ عمر بھر کی جمع پونجی ہی نہیں لوٹ کر لے جاتا تھا بلکہ کسی کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا۔

سلطانہ سیکڑوں انسانوں کو گولی اور خنجر کے وار سے ہلاک کرچکا تھا اور ہر واردات کے بعد آسانی سے فرار ہو جاتا تھا۔ ہندوستان کے امرا اسے ایک سفاک اور بے رحم انسان سمجھتے تھے، مگر یہی سلطانہ ڈاکو غریب اور بے بس انسانوں کا غم گسار اور ان کا مسیحا بھی تھا۔ کئی بار اس لٹیرے کے خلاف پولیس کو درخواست دی گئی اور اس کی گرفتاری کے لیے دباؤ ڈالا گیا، مگر پولیس اسے ڈھونڈنے اور گرفتار کرنے میں ناکام ہی رہی۔ خود پولیس کے کئی افسر اور سپاہی سلطانہ ڈاکو کی گولیوں اور خنجر کی دھار کے نیچے آکر موت کا شکار ہو چکے تھے۔
وہ بندوق چلانے کا ماہر تھا۔ کہتے ہیں کہ سلطانہ کا نشانہ بہت کم خطا جاتا تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ خطروں سے کھیلنا پسند کرتا ہے۔ اسے موت کا مقابلہ کرنا آتا ہے۔ ایک طرف ہندوستان کے نواب، جاگیر دار اور مال و دولت رکھنے والے لوگ اس سے پریشان تھے اور سلطانہ کی گرفتاری یا پولیس سے مقابلے میں اس کی ہلاکت کی خواہش رکھتے تھے، مگر دوسری جانب سلطانہ ڈاکو نے غریبوں کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنالی تھی۔

غریب اور بے بس لوگ سلطانہ ڈاکو کی درازیِ عمر کے لیے دعائیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سلطانہ لُوٹا ہوا مال ان غریبوں میں تقسیم کر دیتا اور ان کی ضروریات پوری کرتا تھا۔ سلطانہ ڈاکو کا بچپن اور لڑکپن بھی غربت اور مفلسی کے ساتھ بیتا تھا۔ اسے لوگوں کی تکالیف اور مشکلات کا اندازہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ غریبوں کے لیے دو وقت کی روٹی حاصل کرنا کتنا مشکل ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے دل میں ان کے لیے درد مندی کا احساس اور ان کی مدد کرنے کا جذبہ بیدار رہا۔ وہ غریبوں کی مدد کر کے خوشی محسوس کرتا تھا۔

ایک عرصے تک سلطانہ ڈاکو کی گرفتاری میں ناکام رہنے کے بعد اس دور کی انگریز انتظامیہ نے برطانوی سراغ رسانوں اور جاسوسوں کی مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے سلطانہ ڈاکو کی گرفتاری کے لیے انتظامیہ نے ایک لاکھ روپے کا انعام بھی رکھا تھا، مگر ان کی یہ ترکیب سود مند ثابت نہ ہوئی۔

کسی نے سلطانہ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی اور آخر کار محکمۂ پولیس نے لوٹ مار کی مسلسل شکایات اور قتل کی مختلف وارداتوں کے بعد انگلینڈ کے مشہور سراغ رساں اور جاسوس کو سلطانہ کا کھوج لگانے اور اسے گرفتار کرنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ اس حوالے سے پولیس کے ایک افسر سیموئل پیئرس اور سراغ رساں فریڈی ینگ جو مسٹر ینگ کی عرفیت سے پہچانے جاتے تھے، ان نام سامنے آتا ہے۔ مختلف تذکروں میں لکھا ہے کہ مسٹر ینگ انگلینڈ میں اپنے شعبے کے ماہر اور ذمہ دار افسر مانے جاتے تھے۔

انہیں برطانیہ سے خاص طور پر ہندوستان بلایا گیا تھا۔ محققین کے مطابق انگریز دور کے سرکاری ریکارڈ میں سلطانہ ڈاکو اور اس کے جرائم کی تفصیلات کے ساتھ اس کے بارے میں دیگر ضروری معلومات درج ہیں۔ کہتے ہیں کہ مقامی انتظامیہ اور برطانیہ میں محکمۂ پولیس کے افسران کے مابین سلطانہ سے متعلق خط و کتابت کا ریکارڈ آج بھی محفوظ ہے۔ سلطانہ ڈاکو کی زندگی اور رابن ہڈ جیسی افسانوی شہرت نے ہندوستانی ادیبوں اور فلم سازوں کو بھی اس کی طرف متوجہ کیا اور یوں اس کردار پر ناولوں کے علاوہ فلمیں بھی سامنے آئیں۔

اس زمانے میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں سلطانہ ڈاکو کے علاوہ بھی دوسرے لٹیروں اور ٹھگوں کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری تھا۔ کبھی لوگوں کو دھوکا دے کر لوٹا جاتا اور کہیں بندوق اور خنجر سے ڈرا کر مال و متاع سے محروم کر دیا جاتا۔ ڈاکو بے خوفی سے تجارتی قافلوں کو راستوں میں لوٹ لیتے تھے اور اس موقع پر کسی بھی خطرے کا احساس کر کے لوگوں کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ انگریز سرکار نے چھوٹے قصبوں میں ٹھگوں اور لٹیروں کی شکایات کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حکام کی ہدایات پر پولیس نے کئی کارروائیاں کیں، مگر سلطانہ جیسے ڈاکو کو گرفتار کرنا آسان نہ تھا۔ اس کی ایک وجہ تو سلطانہ ڈاکو کے مخبر تھے جو پولیس کی کسی بھی کارروائی کی اطلاع اس تک پہنچا دیتے تھے اور دوسری جانب غریب دیہاتی سلطانہ کو اپنا محسن اور ہم درد سمجھتے تھے اور اسے پناہ دینے کے ساتھ اس کی حفاظت یقینی بنانے اور اس کی خاطر جان دینے کو بھی تیار رہتے تھے۔ ان حالات میں پولیس کے لیے سلطانہ تک پہنچنا بہت ہی مشکل ہو گیا تھا۔

اس ڈاکو کا اصل نام سلطان تھا جو نامعلوم کب سلطانہ ہو گیا۔ اس نے آنکھ کھولی تو غربت اور تنگ دستی دیکھی۔ اسے انگریز راج سے نفرت تھی۔ کہتے ہیں اسی نفرت کی بنیاد پر اس نے اپنے پالتو کتے کا نام ’’رائے بہادر‘‘ رکھا۔ یہ ایک اعزازی نام (خطاب) تھا جو اس دور میں انگریز سرکار کی جانب سے اپنے وفاداروں کو دیا جاتا تھا۔ اس ڈاکو کے گھوڑے کا نام ’’چیتک‘‘ بتایا جاتا ہے۔

سلطان کا تعلق ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے ایک مسلمان گھرانے سے تھا۔ تاہم اس کی اصل زندگی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے بارے میں بہت کم درست معلومات سامنے آئی ہیں۔ اس کے چوری چکاری کرنے اور ایک ڈاکو کی حیثیت سے شہرت پانے کے حوالے سے مختلف قصّے سننے کو ملتے ہیں۔ سلطانہ ڈاکو لوٹ مار کے دوران مزاحمت کرنے والے کے ہاتھ کی تین انگلیاں کاٹ دیتا تھا جس کا ایک مقصد دولت مندوں کو خوف زدہ کرنا تھا اور اس طرح وہ امیروں اور انگریز سرکار کے وفاداروں کو عبرت کا نشان بنا دینا چاہتا تھا۔

کہتے ہیں کہ سلطان نے اپنے لڑکپن میں کہیں سے ایک انڈا چوری کرلیا اور گھر آیا۔ اہلِ خانہ کو سلطان کی اس چوری کا علم تو ہوگیا، لیکن کسی نے اسے کوئی تنبیہ نہ کی۔ یوں اس کا حوصلہ بڑھا اور اس پہلے جرم کے بعد اسے چوری چکاری کی عادت پڑگئی۔ چھوٹی موٹی چوریوں میں کام یابی اور ناکامی کے علاوہ کبھی پکڑے جانے پر لعن طعن اور تھوڑی بہت مار پیٹ بھی ہوئی، مگر اب وقت گزر چکا تھا اور اس کے دل سے ہر قسم کا خوف دور ہو چکا تھا۔ سلطان کو چوری کرنے میں مزہ آتا اور پھر وہ وقت آیا جب اس لڑکے کو سلطانہ ڈاکو کے نام سے پہچانا جانے لگا۔

دنیا اور قانون کی نظر میں وہ ایک مجرم اور امیروں کے نزدیک ظالم اور قاتل انسان تھا، مگر کئی غریب خاندانوں کے لیے سلطانہ کی حیثیت رابن ہڈ جیسی تھی۔ سلطانہ اسی مشہور کردار کی طرح لوٹ مار کی رقم اور اشیا غریب اور نادار لوگوں میں تقسیم کر دیتا اور کئی گھرانے اسی ڈاکو کی وجہ سے اپنے پیٹ کا دوزخ بھرتے تھے۔

اس کی جائے پناہ نجیب آباد کے نواح میں واقع جنگل تھا جسے ’کجلی بن‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ جنگل اُس وقت انتہائی گھنا اور ہر طرح کے درندوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس جنگل کی ایک حد نیپال اور چین کو چھوتی تھی تو دوسری طرف اس کی وسعت کشمیر تا افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہاں ہر طرح کا شکار بھی بے شمار ملتا تھا اور اکثر نواب اور انگریز یہاں شکار کی غرض سے پڑاؤ ڈالا کرتے تھے۔ سلطانہ ڈاکو کی کمین گاہ جس جگہ تھی وہ حصہ اتنا گھنا تھا کہ دن کے اوقات میں بھی یہاں سورج کی روشنی کو دخل نہ تھا۔ اسی جنگل میں گھوسیوں کے ڈیرے بھی تھے جو دودھ بیچنے کا کاروبار کرتے تھے۔ سلطانہ بھی انہی کے بھیس میں یہاں رہتا اور موقع کی مناسبت سے حلیہ بدل کر نقل و حرکت کرتا تھا۔

سلطانہ کی حفاظت کرنے والے بھی ہمہ وقت چوکس رہتے۔ اس کے لیے جاسوسی کرنے والے پولیس اور انتظامیہ کے ہر فیصلے اور ہر کارروائی کی بروقت اطلاع اس تک پہنچاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ پولیس والے بھی سلطانہ ڈاکو سے ڈرتے تھے اور ان میں اکثر اس کے مخبر تھے۔ خود نجیب آباد تھانے کا انچارج منوہر لال سلطانہ کا مخبر تھا اور یہی وجہ تھی کہ اسے ہر چھاپے کی اطلاع پہلے ہی مل جاتی تھی اور وہ اپنا ٹھکانا بدل لیتا تھا۔ ادھر مسٹر ینگ کو ابتدا میں سلطانہ ڈاکو کا کھوج لگانے اور اس کی گرفتاری میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، لیکن پھر ایک مقامی منشی عبدالرزاق خان کے ذریعے وہ اس ڈاکو تک پہنچنے میں کام یاب ہو گیا۔ اس منشی کے سلطانہ سے بھی مراسم تھے اور اعلیٰ افسران سے بھی رابطے تھے۔

سلطانہ کے لیے منشی ایک قابلِ بھروسا شخص تھا اور وہ اس سے اکثر ملاقات کرتا تھا۔ ایک دن منشی نے بہانے سے سلطانہ کو ایک جگہ بلایا جہاں پہلے ہی پولیس چھپی ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس آپریشن کی نگرانی سموئیل نامی انگریز افسر کر رہا تھا۔ سلطانہ ڈاکو اس جال میں پھنس چکا تھا۔ اسے گرفتار کرلیا گیا۔ انگریز افسر کی ہدایت پر اسے ظفر عمر نامی پولیس افسر کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ یہ وہی ظفر عمر ہیں جنہیں جاسوسی ناول نگار کی حیثیت سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ گرفتاری کے بعد جب سلطانہ کو نجیب آباد کے اسٹیشن پر لایا گیا تو ہزاروں لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کو وہاں جمع تھے۔

جیل میں سلطانہ کی دوستی نوجوان افسر فریڈی ینگ سے ہوگئی تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی چلی گئی۔ اسی پولیس افسر کی مدد سے سلطانہ کی جانب سے اس وقت کے طریقۂ کار کے مطابق معافی کی درخواست کی گئی جسے سرکار نے مسترد کر دیا۔ سلطانہ کا بچہ اس وقت سات سال کا تھا۔ سلطانہ نے فریڈی ینگ سے درخواست کی کہ اس کے بعد وہ بچے کی دیکھ بھال کرے اور اسے تعلیم دلوائے۔ انگریز افسر نے اس کی خواہش کا احترام کیا اور سلطانہ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اس کے بچے کو تعلیم کے حصول کے لیے برطانیہ بھیج دیا۔ فریڈی ینگ بعد میں بھوپال کا انسپکٹر جنرل بنا اور یہیں اس کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔ کہتے ہیں کہ اس کی قبر بھی بھوپال میں ہے۔ اسی بھوپال میں عبید اللہ گنج نامی علاقے میں آج بھی سلطانہ ڈاکو کے خاندان کے لوگ آباد ہیں۔

بعض تذکرہ نویسوں نے لکھا ہے کہ سلطانہ ڈاکو عاشق مزاج اور عیاش تھا۔ ایک انگریز لڑکی بھی اس کے عشق میں مبتلا رہی اور ان کے درمیان سلطانہ کی موت تک تعلق قائم رہا۔ سلطانہ ڈاکو کے جرائم کی فہرست طویل تھی۔ اسے بے رحم لٹیرے اور قاتل کے طور پر ثبوتوں کے ساتھ عدالت میں پیش کیا گیا اور مقدمہ کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد عدالت نے سلطانہ کو پھانسی کی سزا سنا دی۔ 1924ء کی ایک صبح اس سزا پر عمل درآمد ہوا اور سلطانہ ڈاکو ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ کہتے ہیں جب اسے تختۂ دار پر کھینچنے کے لیے لایا جا رہا تھا تو اس کے حامیوں کی بڑی تعداد باہر موجود تھی جو اس کی بہادری کے قصیدے اور اس سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے مختلف لوک گیت گا رہے تھے۔
بشکریہ ایکسپریس نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں