ice free 42

پشاور یونیورسٹی میں آئس فری مہم کا انعقاد

پشاور۔
جامعہ پشاور میں آئس فری پشاور مہم کے سلسلے میں گاہی سیمینار اور واک کااہتمام کیا گیا سیمینار اور واک چیف کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر پشاور قاضی جمیل الرحمن کے وژن اور خواہش پر وائس چانسلر جامعہ پشاور پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف خان کی ہدایات پر شروع کی گئی اس موقع پر مہمان خصوصی سی سی پو او قاضی جمیل الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ پچیس سال بعد اپنی جامعہ پشاور میں قدم رکھنا ایک خوشگوار احساس ہے۔

انھوں نے آئس نشے کی لعنت کے خلاف مہم کے سلسلے میں طلبا و طالبات سے مطالبہ کیا کہ پولیس کے شانہ بشانہ مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں انھوں نے جامعہ پشاور کی سٹوڈنٹ سوسائٹی کو آئس کے خلاف مہم میں مزید موثر کردار کر نے پر زور دیا ۔اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف خان نے کہا کہ آئس منشیات کے خلاف ہر طالب علم کو آگے آنے ہوگا اور نیٹ ورک کو توڑنا ہوگا کیونکہ ہر طالب علم کا آئیڈیل سی سی پی او ہونا چاہیے کیونکہ وہ بھی ان کی طرح یہاں سے پڑھ کر گئے ہیں ۔

آئس فری پشاور کے فوکل پرسن ایس پی کینٹ وسیم ریاض نے اس موقع پر کہا کہ یونیورسٹی کیمپس کے اردگرد آئس منشیات کا دھندہ کرنے والا نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے جبکہ اب بھی کچھ لوگ کیمپس کے باہر ہاسٹلوں میں یہ مکروہ دھندہ کر رہے ہیں پشاور پولیس کی موثر کارروائیوں کی بدولت آئس منشیات کی ایک گرام قیمت 800روپوں سے آٹھ ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ جمرود سے آپریٹ کرنے والا گروہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے ۔

اس موقع پر سابقہ چیئرمن سوشل ورک پروفیسر امیر زادہ اسد نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئس بذات خود بنیادی طور پر علم طب میں کسی دوائی کے طور پر استعمال نہیں کی جاتی ہے جبکہ یہ بگڑے بچوں کی نفسیاتی تسکین کی لت مانی جاتی ہے جو بنیادی طور پر نیند ختم کرنے میں کام آتی ہے تاہم آئس کا ایک سال کا استعمال دس سال عمر گھٹا دیتی ہے آخر میں سی سی پی او نے وائس چانسلر جامعہ پشاور کو پولیس کی جانب سے آفیشل شیلڈ دی جبکہ دیگر مہمان گرامی کو سٹوڈنٹ سوسائٹیز کی جانب سے شیلڈ پیش کی گئیں۔

سیمینار کے بعد وی سی جامعہ پشاور اور سی سی پی او کی زیر قیادت واک نکالی گئی جس میں طلباہ و طالبات کی جانب سے پلے کارڈ اور اٹھا رکھے تھے ریلی بعد میں آئی پی سی ایس بلڈنگ کے مقام پر اختتام پزیر ہوئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں