Screen Shot 2018-09-17 at 2.53.58 pm 56

ڈگر ہسپتال کی دگرگوں صورتحال … شبیر بونیری

تحریر : شبیر بونیری
ہم اگر تاریخ کی ورق گردانی کریں تو ہم حیران رہ جائیں گے کہ جس دور میں ٹیکنالوجی کا نام ونشان تک نہ تھا اس دور میں بھی ایسے ایسے طبیب ،ایسے ایسے حکیم ہو گزرے ہیں کہ جن کو دیکھ کر انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے ۔
طب کے ایسے ایسے مراکز تھے کہ جس میں انسانی صحت کا حد سے ذیادہ خیال رکھا جاتا تھا اور جہاں ڈاکٹروں،حکیموں اور طبیبوں نے حد سے ذیادہ کام کرکے یہ باور کرائی کہ خدمت میں جو سب سے ضروری چیز کارفرما ہوتی ہے وہ انسانی جذبہ ہوتا ہے نہ کہ ٹیکنالوجی اور مشینیں لیکن آج تو صورتحال جان کر آپ حیران رہ جائیں گے کہ مشینیں بھی ہیں ٹیکنالوجی بھی ہے اور علاج کرنے والے بھی حد سے ذیادہ ہیں لیکن پھر بھی عام پاکستانی جس کو عرف عام میں غریب کہا جاتا ہے ہسپتالوں میں در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے ۔
ہم اگر کسی ملک کی ترقی کا اندازہ لگانا چاہیں تو ہمیں اس ملک کے سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کے درمیان موازنہ کرنا پڑے گا ۔ اگر سرکاری ادارے دم توڑتی حالت میں ملیں تو یہ سمجھنا پھر آسان ہوجاتا ہے کہ یہاں جن کے ہاتھوں میں عنان حکومت ہے وہ صرف اپنی بقاء اور آسائش کے بارے میں فکرمند ہیں ۔
صحت پر خرچ کرنا ترقی یافتہ قوموں کا شیوہ اور وہ صلاحیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ دنیا کے دوسرے اقوام سے زندگی کے ہر شعبے میں آگے ہوتے ہیں۔ جب عوام کی صحت ٹھیک ہوگی اور ان کو تمام سہولتیں آسانی سے مہیا ہوگی تو پھر ان کے لئے کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہوتا ۔
ہسپتالوں کے عالمی رینکنگ کے ادارے نے دو ہزار سولہ میں ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق دنیا کے پانچ ہزار بہترین ہسپتالوں میں پاکستان کا کوئی ہسپتال شامل نہیں حتیٰ کہ جنوبی ایشیاء کے بیس بہترین ہسپتالوں میں بھی پاکستان کا کوئی ہسپتال شامل نہیں ۔ یہ ایک بہت ہی بڑا المیہ ہے اور اسی وجہ سے جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی بیماریوں میں بھی ہم دنیا کے تمام ممالک میں سب سے آگے ہیں ۔
پاکستان کے دوسرے پسماندہ اضلاع کی طرح ضلع بونیر کی پسماندگی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ یہ ملاکنڈ ڈویژن کا ایک ایسا ضلع ہے جہاں زندگی کی دوسری سہولیات کے ساتھ ساتھ عوام صحت کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں ۔ ڈی ایچ کیو ڈگر ضلع بونیر کا سب سے بڑا اور کیٹیگری بی ہسپتال ہے جہاں بونیر کے ساتھ ساتھ شانگلہ اور تورغر کے عوام بھی اس امید کے ساتھ اپنے مریض لاتے ہیں کہ ان کا علاج ہوسکیں لیکن یہاں آکر سب سے پہلے جب وہ ایمرجنسی کی عمارت میں داخل ہوتے ہیں تو ان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے کیونکہ گیارہ لاکھ آبادی کے لئے یہاں بارہ بیڈز کی ایک “نایاب” ایمرجنسی ہے جس میں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔
بارہ بیڈز کی اس ایمرجنسی میں ایک ساتھ تین تین مریضوں کو بھی بوقت ضرورت رکھا جاتا ہے ۔ ایمرجنسی کی عمارت والی سوات کے دور میں بنائی گئی تھی اور اس وقت سے لے کر آج تک کسی بھی عوامی نمائندے نے یہ ضرورت محسوس نہیں کی کہ اس عمارت کو از سر نو نئی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کرتعمیر کرالیں ۔ کھبی کھبار تو یہاں اتنا رش ہوتا ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی ۔ قدرتی حادثات کو کوئی نہیں روک سکتا اور بونیر میں جب اس قسم کے حادثات ہوجاتے ہیں تو پھر ڈگر ہسپتال کی ایمرجنسی میں قیامت صغریٰ کا منظر ہوتا ہے ۔ اس ایمرجنسی کا جو آپریشن تھیٹر ہے وہ بھی شروع ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ یہاں آپریشن کرنے کے بہت سارے اوزار کا بھی فقدان ہے ۔ ایمرجنسی میں کم از کم ایک بہترین آپریشن تھیٹر کا قیام بہت ضروری ہے جو سہولیات سے آراستہ ہو اور جس کو دیکھ کر کم از کم ہر کوئی یہ کوشش نہ کریں کہ بلا اجازت اندر جائیں اور کام کرنے والوں کے کام میں روڑے اٹکائیں ۔ ۔ ڈگر ہسپتال میں پانچ ایمبولینس گاڑیاں ہیں جس میں ایک تو بالکل ہی خراب ہے جبکہ دو کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے ۔
ایمرجنسی کے ساتھ منسلک ڈگر ہسپتال کا او پی ڈی بلڈنگ ہے جس کو دیکھ کر کوئی یہ ثابت ہی نہیں کرسکتا کہ او پی ڈی بلڈنگ کی طرز تعمیر ایسی ہونی چاہیئے ۔ جس دن او پی ڈی میں ڈاکٹرز ہوتے ہیں اس دن انسانوں کا ایک جم غفیر ہوتا ہے اور مریض ایسے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جیسے ایک دوسرے کے اوپر ٹھونسے گئے ہوں اور اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ وہاں گزرنے میں انتہائی دقت ہوتی ہے ۔ مریضوں کی حالت او پی ڈی میں دیکھنے کے قابل ہوتی ہے ڈاکٹرز یقیناً علاج کی کوشش کرتے ہونگے لیکن سہولتوں کا اتنا فقدان ہوتا ہے کہ ایک دن آئیگا جب یہ ڈاکٹرز بھی اکتا جائیں گے اور اس بے ترتیبی کی وجہ سے اپنے کام پر توجہ نہیں دے سکیں گے ۔
ہسپتال کے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی بھی ایک دکھ بھری کہانی ہے مہینے ہوگئے ہیں ایکسرے فلمز ختم ہوچکے ہیں اور علاج کے لئے قرض لینے والے پرائیویٹ لیبارٹریز میں خود کو بیچنے پر مجبور ہیں ۔ سی آر اور ڈی آر مشینیں تو چھ مہینے ہوگئے ہیں یہاں پر انسٹال ہوچکے ہیں لیکن ان کے لئے فلمز ابھی تک نہیں ملے اور یہ مشینیں بے کار پڑی ہیں ۔ کنوینشنل فلمز اور ان دو مشینوں کے لئے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو صرف چھتیس ہزار روپے مل چکے ہیں جبکہ ایک سال کی ضرورت ان مشینوں کے فلمز کے لئے کم از کم تقریباً ایک اندازے کے مطابق چوالیس لاکھ سالانہ ہے ۔ اب چوالیس لاکھ کی ضرورت کو صرف چھتیس ہزار میں کیسے پورا کیا جاسکتا ہے یہ تو اقتدار کی گدی پر بیٹھنے والے ہی بتا سکتے ہیں ۔ ایک ڈراونی کہانی ہے جس کو سنتے سنتے ہم بڑے ہوگئے اور شائد ہم بھی اسی کہانی کا رونا رو کر اس دار فانی سے کوچ کر چلے جائیں ۔
اس کے علاوہ حیران کرنے والی جو سب سے بڑی بات ہے وہ اس کیٹیگری بی ہسپتال میں بلڈ بنک کا نہ ہونا ہے ۔ ہسپتال کے لئے بلڈ بنک کتنا ضروری ہوتا ہے اس پر تو بحث کی گنجائش ہی نہیں ۔ پچھلے دنوں میں ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اختر علی صاحب سے ملا تو اس نے بتایا کہ میرے پاس بلڈ بنک کے لئے بجٹ بھی ہے اور ہیومن ریسورس بھی لیکن ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے ایک پورے بلڈنگ پر قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں پر اپنے ویکسینز وغیرہ رکھے ہیں جس کی وجہ سے ایک اچھی خاصی عمارت بے جا استعمال ہورہی ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ ڈی ایچ او کے دائرہ کار میں ضلعے کا ڈی ایچ کیو بالکل نہیں آتا لیکن پھر بھی اس نے ایک پورے بلڈنگ کو اپنے تحویل میں لیا ہوا ہے جو ویکسینز وغیرہ وہاں پر رکھے ہوئے ہیں ان کو بونیر کے کسی بھی آر ایچ سی میں رکھا جاسکتا ہے ۔ اب اگر ضلعی انتظامیہ یہ بلڈنگ خالی کرادیتی ہے تو بقول ایم ایس صاحب کے اسی بلڈنگ میں ایک بہترین بلڈ بنک بنایا جاسکتا ہے۔
ہسپتال کے لیبر روم اور گائنی وارڈ میں بھی روز نت نئے مسائل جنم لیتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے عوام ڈاکٹرز سے نالاں نظر آتے ہیں ۔ سننے میں آیا ہے کہ اکثر لیبر روم میں ڈاکٹرز رات کے وقت ڈیوٹی میں دلچسپی نہیں لیتے جس کی وجہ سے زچہ و بچہ دونوں مسائل کے انبار تلے دب رہے ہوتے ہیں ۔ ہسپتال کے اندر جو لیبارٹری ہے اس کی صورتحال بھی دل ہلا دینے والی ہے۔ ہسپتال کے ایم ایس صاحب نے خود اپنی کاوشوں سے پرانی عمارت کو جوڑتوڑ کر لیبارٹری بنائی ہے ۔ اس لیبارٹری میں بھی وہ معیار قائم نہیں جو کیٹیگری بی ہسپتال کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔ یہاں لیپیڈز پروفائل میں کسی ایک کا بھی ٹیسٹ نہیں ہوتا اس کے علاوہ کیلشیم ،یورک ایسڈ،ایچ پایلوری، ہیپاٹئٹس اورکولیسٹرول کے ٹیسٹ بھی نہیں ہوتے علاوہ ازیں ہیماٹالوجی کا مشین پڑا ہوا ہے لیکن کٹ موجود نہیں اس لئے ناقابل استعمال ہے ۔ جو سروے میں نے کی اس کے مطابق بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ہسپتال کے لیبارٹری کے ٹیسٹ اور باہر پرائیویٹ لیبارٹری کے ٹیسٹ رزلٹ میں بہت فرق ہوتا ہے ۔
ہسپتال میں جو ہاسٹلز ہیں اس پر بھی 2009ء سے این جی اوز کے ملازمین کا قبضہ ہے ۔ ان قبضوں سے عوام کی جان کب چوٹے گی وہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن اگر ضلعی انتظامیہ یہ ہاسٹلز ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کردیں تو ڈاکٹرز اور دوسرے ملازمین کے لئے آسانی ہوجائیگی ۔
ارباب اختیار گریبان میں جھانکیں گے تو سوچنے کا موقع ملے گا ورنہ عوام کی عدالت سے تو شائد معافی ملے لیکن اللہ کی عدالت میں انسان وہی بھگتتا ہے جو اس دنیا میں کرتا ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں