harrasment 44

سرکاری اداروں میں خواتین کو ہراساں کرنے کے 220 واقعات

اسلام آباد: (طارق حبیب)
سینیٹ میں اعدادوشمار کیساتھ پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف 2 ملوث افراد کو نوکری سے نکالا گیا، 49 واقعات پر جرمانہ عائد ہوا، پولیس افسروں اور سفیر کیخلاف بھی شکایات، پنجاب میں 153 واقعات پیش آئے، پی ٹی وی میں سب سے زیادہ 10 واقعات ہوئے۔

وزارت خارجہ، محکمہ پولیس، پاکستان ٹیلی ویژن سمیت ملک کے بڑے سرکاری اور نجی اداروں میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات رپورٹ ہوئے، گزشتہ چار سالوں کے دوران خواتین کو ہراساں کئے جانے کی 378 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے سرکاری محکموں سے 220 واقعات رپورٹ ہوئے۔

سینیٹ اجلاس میں سینیٹر محمد اعظم خان سواتی کی جانب سے وزیر برائے قانون و انصاف سے سرکاری اداروں سے موصول ہونے والی خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات کے اعدادوشمار اور ان پر ایکشن لینے اور ملوث افراد کو سزا دینے کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فروغ نسیم کی جانب سے جواب دیا گیا اور اس حوالے سے سینیٹ میں رپورٹ جمع کرائی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران محتسب کے سیکرٹریٹ میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات کی 378 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے سرکاری محکموں سے 220 واقعات رپورٹ ہوئے۔

2014ء میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے 20 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 2015ء میں 83، 2016ء میں 53، 2017ء میں 43 اور 2018ء میں 21 واقعات رپورٹ ہوئے۔

ان واقعات میں سے وفاق میں 145، پنجاب میں 153، سندھ 53، خیبر پختونخوا 22، بلوچستان 4 اور فاٹا میں ایک شکایت موصول ہوئی۔

سرکاری محکموں سے موصول ہونے والے 220 واقعات میں سے 50 واقعات کی متعلقہ محکموں کی جانب سے انکوائریاں کروا کر محتسب کو پیش کردی گئیں ہیں جبکہ 49 واقعات میں ملوث افراد پر جرمانہ عائد کیا گیا اور دو واقعات میں ملازمت سے فارغ کرنے کی سزا دی گئی ہے۔

7 واقعات کے لئے شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ 15 کیسز ایسے بھی ہیں جن میں ملوث افراد کی تنخواہوں میں اضافہ اور ترقی روک کر درخواست دہندہ کو معاوضہ ادا کرنے کی سزا دی گئی ہے۔

رپورٹ میں اداروں کے حوالے سے جمع کرائے گئے اعدادوشمار کے مطابق پی ٹی وی میں گزشتہ چار سال سے مسلسل خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 10 ہے جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان میں ایک واقعہ پیش آیا۔

اسی طرح وفاقی محتسب کے دفتر واقع کراچی، محکمہ پولیس، نیب، نیشنل آرٹ گیلری، نادرا، سکولز، یونیورسٹیز، پی آئی اے، ریسکیو 1122، پی ٹی اے، ہسپتالوں، واپڈا، او جی ڈی سی ایل، ریلوے، پاکستان سٹیٹ آئل، ایس این جی پی ایل، محکمہ ڈاک، وزارت بین الصوبائی رابطہ، وزارت خارجہ، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گن اور کنٹری کلب، نیشنل ٹرانسمیشن کمپنی، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، لوک ورثہ، ایس ای سی پی، پی ٹی سی ایل، سٹیٹ لائف، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ پولیس سے بھی خواتین آفیسرز کو جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں جس پر اسلام آباد پولیس کے تین افسروں کو فارغ کردیا گیا تھا جبکہ ”دنیا “ کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق رواں ماہ 8 ستمبر کو وزارت خارجہ کی خاتون آفیسر کی جانب سے اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے جس کی انکوائری کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں