1_av7aGn3FzInYQW-7mNWGEA 58

ثبات ایک تغیر کو ہے … سنبل جان صدیقی

تحریر : سنبل جان صدیقی
دنیا اپنے رنگ بدلتی رہتی ہے اسی طرح تہذیب ، انسان، اس کے طورطریقے، رہن سہن، عادات و اطوار اور رسم و رواج ایسے ہی یہ کائنات اور اس میں شامل تمام بے جاں و جاندار۔ تبدیلی کا یہ اٹل قانون ہر جگہ اور ہر وقت کارفرما نطرآتا ھے اور اسی سے یہ کائنات اس کی خوبصورتی اور اس کی بقاٰ ہے ۔
موجودہ زندگی کی خوبصورتی اسی قانوں کی مرہون منت ھے جہاں یہ تمام کائنات دھوئیں کا مرغولہ تھی پھر ٹھوس شکل میں آٰٰٰئی۔ تبدیلی کی مسلسل عمل سے گزرتے ہوئے رفتہ رفتہ زندگی کے قابل ہوئی۔ پھر یہ خوبصورت ہوتی گئی اور اسی کے ساتھ اس پر موجود زندگی اپنے ارتقاء کے منازل طے کرتی رہی ۔ نسل انسانی بڑھتی گئی اور اسی طرح انسانیت بہتر سے بہتر کی فطری جستجونے انسان کو غاروں سے نکال کر چاند پہ کھڑا کر دیا ۔ پتوں کا لباس ریشم و اطلس کے پہناٰٰؤں میں بدل گیا ۔ کچے گوشت کی خوراک اعلی نفیس ذائقوں تک پہنچ گئی ۔ غاروں کے مکان بلند و بانگ محلات کی شکل اختیار کر گئے ۔جھمگٹوں میں رہنے والی زندگی ریاستوں کا روپ دھار گئی ۔ نظم و ضبط سے عاری زندگی منظم اور تہذیب یافتہ بن گئی اور خوبصورت بات یہی ھے کہ طرقی و ارتقا کا یہ سفر اب بھی تغیر پزیرہے ۔

اسی طرح یہ مسلسل زندگی ہم عام روزمرہ زندگی میں بھی مشاہدہ کرتے ہیں ۔ دن ہوتی ہے اور رات ، صبح ہوتی ھے اور پھر شام ،سورج طلوع اور پھر غروب ہوتا ہے ،چاند تارے نکلتے ہیں اور پھر ڈوب جاتے ہیں ، دن کبھی گھٹتے اور کبھی بڑھتے جاتے ہیں ، کبھی گرمی تو کبھی سردی، کبھی بارش تو کھبی حبس ، کھبی آندھی تو کبھی طوفان ۔
پھر انسان اور اس کی پیدائش و افزائش تخلیق کے عمل سے گزر کر جب وہ اس دنیا میں آتا ہے تو کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتا ۔ آہستہ آہستہ زندگی کے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے پہلے بچپن، پھر لڑکپن اس کے بعد جوانی اور پھر بڑھاپے کی منزل پر پہنچ جاتا ہے ۔ اس عرصے میں نہ صرف اس کی جسمانی ساخت بدلتی رہتی ہے بلکہ اس کے احساس شعورمیں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے ۔ اپنے اسی عقل کو استعمال میں لاکر وہ اپنے حالات زندگی بدلنے کی کوشش کرتا ہے ۔ بچپن اور لڑکپن کی منحصر زندگی سے نکل کر جوانی میں اپنی راہیں خود بناتاہے۔ ترقی کی خواہش اسے چھین سے بیھٹنے نہیں دیتی اور ہر روز ایک نئے عزم کے ساتھ اپنی جدوجہد کرتا ہے ۔ نئے نئے تجربات کرتا ہے ایک جگہ ناکام ہوجائے تو دوسری جگہ کوشش کرتا ہے اور زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں ہوتا جب وہ اپنی موجودہ حالت پر قناعت کر کے سکون سے بیٹھ جائے ۔ یہی حال قوموں کی مجموعی زندگی کا بھی ہے ۔ تبدیلی کا قانون یہاں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے اور ایک قوم کی زندگی بھی مختلف مدارج طے کرتی ہے۔ پہلے ایک قوم بستی ہے پھر بڑھتی ہے پھر اس کا مجموعی حس شعور بیدار ہوتا ہے ۔ تمنائے عروج و کامرانی کی لہر اٹھتی ہے اور بدلتے وقت کے ساتھ وہ قوم دنیا پر راج کرکے چھا جاتی ہے ۔

غرض کاٰئنات کا کوئی گوشہ اور زمانے کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو تغیر پزیر نہ ہو ۔ اس دنیا کی نمود ہی رنگ تغیر سے ہوتی ہے ۔ تبدیلی کا قانون نہ ہوتا تو کائناات وجود میں نہ آتا اور انسان ترقی نہ کرتا۔ مسلسل حرکت سے یہ نظام زندگی رواں دواں ہے ۔ فطرت کی سب سے بڑی خصوصیت قانون تغیرہی ہے ۔ بے جاں ہو یا جاندار لیکن بدلتے وقت اور بدلتے حالات کے ساتھ خود کو بدلنے کی صلاحیت ہر چیز میں پائی جاتی ہے ۔ سائنس کا نظریہ Survival of the fittest اسی قانون تغیر کا مظہر ہے کہ ماحول میں بچے گا وہی جو بدلتے وقت کی بدلتی ترجیحات کے ساتھ خود کو بدلیں۔ جو نہیں بدلیگا وہ فنا ہوجائے گا اوراس کے نسل محروم رہ جائےگی ۔ اسی طرح جو انسان زمانے اور حالات کے تغیر کو نظر میں لائے بغیر اپنی ترجیحات نہ بدلے اور اپنے حالات بدلنے کی کوشش نہ کرے وہ بھی ایک زرہ ہے نشاں بن جاتا ہے ۔ معاشرے میں اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا اورترقی کے دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ بات قوموں کی زندگی پر بھی صادق آتی ہے۔ جوقومیں اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کرتی اور لگے بندے اصول و روایات پر چل کر خود کو سخت اور منجمند بنالیتی ہے ان کے مقدر بھی فنا ہی ہوجاتے ہیں ۔ فنا کی اسی خوف نے نعرہ تبدیلی لگانے والوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے ۔ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور اسی لیے تبدیلی کی ان دعویداروں کو مسند اقتدار تک پہنچایا ہے اور یہی ان کے پاس موقع ہے کہ ملک کی سیاسی ، سماجی ، معاشی اور معاشرتی حالت میں تبدیلی لائیں واگر نہ عوام انہیں بھی دوسرے لوگوں سے بدل دینگے ۔ کیونکہ ثبات صرف تغیر کو ہے چاہے کسی بھی شکل میں ہو.

mail: ssumbaljans@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں