download 17

بھارت کا طبل جنگ ،پاکستانی قوم اور حکمرانوں کی ذمہ داریاں ۔

تحریر : شبیر بونیری

آشوک سلطنت موریہ کا حکمران تھا اور تاریخ نے اس کی شہرت کو دیکھتے ہوئے اکثر اس کو اشوک اعظم کے نام سے بھی یاد کیا ہے ۔ جنگ و جدل آشوک کا سب سے محبوب مشغلہ تھا، تخت سے اسے بے پناہ محبت تھی اور یہی وجہ ہے کہ تخت ہی کی خاطر اس نے اپنے ننانوے بھائیوں کو قتل کردیا تھا۔ اپنے دور حکمرانی میں اس کی جو سب سے بڑی خواہش تھی وہ کلنگ
( اڑیسا) کو فتح کرنا اور کلنگ کے رہائشیوں پر اپنی حکومت قائم کرنا تھی ۔ یہ خواہش جنون کی حد تک پہنچ چکی تھی اوروہ اپنے مشیروں اور وزیروں کے ساتھ جب بھی بیٹھتا کلنگ (اڑیسا ) کو فتح کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا ۔ خواہش جب جنون کی حد تک پہنچ گئی تواس نے اپنی فوجوں کے ساتھ کلنگ پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا ۔ انسانی کھوپڑیاں ہر طرف بکھری پڑی تھیں اور سلطنت موریہ کے گھڑ سوار ان کو روند رہے تھے ۔ لشکر جشن منانے میں مصروف تھا اور فاتح بادشاہ کسی گہرے سوچ میں غرق تھا ۔ سورج جب دن کے آخری پہر میں کائنات پر اپنی کرنیں بکھیر رہا تھا تو آشوک اپنے پاؤں تلے لاکھوں انسانوں کا بہتا خون اور قلم شدہ سر دیکھ رہا تھا ۔ اس بھیانک منظر میں جب ٹھنڈی ہوائیں چلی تو آشوک کے دل نے پلٹا کھایا اور عین اسی لمحے اس نے تاحیات جنگ و جدل سے توبہ کرکے بدھ مت مذہب کی تعلیمات عام کرنے کا ارداہ کیا اوراپنے چودہ احکامات جاری کئے ۔ان چودہ احکامات میں صرف امن اور محبت ہی کا درس تھا اور تاریخ نے پھر دیکھا کہ اس نے مذہب کی خدمت کرکے ہی وفات پائی ۔
ہم اگر دیکھیں تو ہندوستان ایک بہت بڑا جمہوری ملک ہے اورتصّور میں جب ہندوستان کا نام آتا ہے تو مندروں کی گھنٹیاں بجتی ہیں اور گنگا جمنا کا پانی بہتا ہے ۔ یہ تصّور جب مزید طول پکڑتا ہے تو اس میں کرکٹ کے دیوتا،ہندوستانی فلموں کے ڈائیلاگز اور ہیرو ہیروئن کی فلمی ولن کے ساتھ محبت کے جنگ میں جیت کے لئے تگ و دو اور پس منظر میں خوب صورت اور دل آویز گانوں کی آمیزش نظر آتی ہے ۔
اس کے علاوہ وہاں اور کچھ نہیں بس اقلیتوں پر زندگی تنگ کرنے کا رواج اور غربت کی چکیوں میں پھنسے ہوئے مظلوم لوگوں کی دھاڑیں ہیں ۔ نریندر مودی بھی اگر تاریخ میں آشوک کی کہانی ہی پڑھ لیں تو شائد اس کو تھوڑی بہت سمجھ آجائے کیونکہ سلطنت موریہ ہندوستانی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی سلطنت تھی لیکن آشوک کی جنگی جنون کی وجہ سے اس کا خاتمہ ہوا ۔
بھارت میں ستر فی صد افراد بیس روپے روزانہ سے کم کماتے ہیں ۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں غریب لوگوں کی آمدنی میں مستقل کمی آرہی ہے ۔ آمدنی میں اسی کمی کی وجہ سے بھارت میں ہر سال خود کشیوں میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق طلبہ کی خود کشیوں میں پوری دنیا میں بھارت کا پہلا نمبر ہے ۔ اس سراسیمگی میں مذہبی انتہا پسندی اتنی عروج پر ہے کہ نہ مسلمان محفوظ ہیں اور نہ عیسائی ۔ پوری دنیا میں خود کو ایک سیکولر ملک منوانے کی کوشش بھارت تو بہت کررہا ہے لیکن گائے کے گوشت کو بہانہ بناکر اب تک بے شمار مسلمانوں کو قتل کردیا گیا ہے ۔اس عجیب صورتحال میں بجائے اس کے کہ بھارت کی حکومت زندگی کی بازی ہارنے والوں کی فلاح و بہبود پر پیسہ لگائے بھارت صرف دفاعی بجٹ ہر سال بڑھانے پر اکتفا کر رہا ہے اور دنیا کے پانچ ان ملکوں میں شمار ہوتا ہے جو دفاعی بجٹ پر سب سے ذیادہ پیسے خرچ کر رہے ہیں بلکہ بھارت نے اس ضمن میں برطانیہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔
اس تمام صورتحال میں بھارت اگر جنگی جنون سے باز نہ آیا تو پھر خود اپنے ملک کے اندر نریندر مودی کی حکومت کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ غریب اور مایوس عوام جب حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے تو پھر یہ ایک عجیب رد عمل ہوگا جس کی تلافی ناممکن ہوگی ۔
ہمارے کپتان نے امن بحال کرنے میں پہل کرکے واقعی بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے ہم لاکھ اختلافات کے باوجود کپتان کے اِس اقدام پر داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے لیکن ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی یہی مسائل ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کا عام شہری الجھن کا شکار ہے ۔
یہاں بھی چالیس فی صد آبادی غربت کا شکار ہے اور اوپر سے ان پر مہنگائی کی اس نئی لہر نے تو گویا بم گرایا ہے ۔ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ جب بھارت کے آرمی چیف نے ہرزہ سرائی کی تو پاکستان کے عوام یہ سب کچھ بھول گئے اور اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ لٹانے کا پکا ارادہ کرلیا ۔ حکومت نے سوشل میڈیا پر اس جذبے کا تماشہ کیا ہوگا ، جس میں سیاستدان ، نوجوان ،بوڑھے حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو ریاست سے انتہائی ناراض ہیں لیکن انہوں نے بھی وطن کی خاطر سب کچھ لٹانے کا عہد کیا ۔ جنگوں کے لئے تو ضروری چیز قوم کا ایک ہوناہوتا ہے اور یہ پاکستانی ہر اس لمحے میں ایک قوم بن جاتے ہیں جب بھی کوئی ملک دشمن اس وطن کو میلی آنکھ سے دیکھتا ہے ۔ ہمارے کپتان کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ جب قوم منتشر ہو اور حکمرانوں سے نالاں ہو تو پھر جنگیں نہیں جیتی جاسکتی لیکن جس قوم نے جنگ سے پہلے ہی صرف سوشل میڈیا ہر ہندوستان کو چاروں شانے چت کردیا ہے اس قوم کے لئے زندگی دن بہ دن اجیرن کیوں بنائی جارہی ہے ۔؟
ان معصوموں کے لئے زندگی کی بنیادی ضرورتیں مہنگی ہوچکی ہیں اور ستم بالائے ستم اداروں میں بدیانتی کی انتہا نے ان کا جینا دوبھر کردیا ہے ۔ مالی ،قانونی واخلاقی کرپشن کا بازار اتنا گرم ہے کہ پاکستان کی جڑیں ختم ہو رہی ہیں ۔ ہمارے کپتان کا جذبہ قابل دید ہے اور ہم سب اس پر فخر بھی کرتے ہیں کہ برسوں بعد ہمیں ایک نڈر حکمران ملا ہے لیکن کیا ہمارے کپتان کو یہ اندازہ نہیں کہ عشرے بیت گئے لیکن ہم غربت ، کرپشن ،اور احساس کمتری کے خلاف جنگ مسلسل ہار رہے ہیں ۔؟ ہمارا کپتان محنتی انسان ہے اور ہمیں یقین ہے کہ بیرونی جنگ میں کھودنے کی بجائے اس اندرونی جنگ کا خاتمہ پہلے کریں گے ۔ ہمارے کپتان کو چاہیئے کہ پورے ملک میں غریبوں کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں اور پھر ان لوگوں کا بھی ڈیٹا نکال لیں جو دن بہ دن امیر ہوتے جارہے ہیں ۔اس ڈیٹا پر تحقیق کرنے کے بعد ہمیں یقین ہے کہ کپتان غربت کو شکست دینے کے لئے ایک بہترین پالیسی اور بہترین ٹیم تشکیل دیں گے ۔ اس ملک میں جب یہ محرومی ختم ہوجائیگی تو پھر کسی میں جرات بھی نہیں ہوگی کہ پاکستان اور افواج پاکستان کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لیں ۔ ہمارے کپتان کو ٹیکسز کا بھی جائزہ لینا چاہیئے کہ کیوں بیس کروڑ آبادی کے اس ملک میں صرف پندرہ لاکھ لوگ ٹیکس دے رہے ہیں ۔ ہمارے کپتان کو بجلی اور پانی کے اس بحران کو ٹیکنیکل بننیادوں پر حل کرنی کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیئے۔ ہمارے کپتان کو سوچنا چاہیئے کہ بجلی چور اور ٹیکس چور کیوں اس ملک کو داؤ پر لگا رہے ہیں ۔ ہمارا کپتان جب ان سارے مسائل کے لئے اپنے کرکٹ ٹیم کی طرح ایک کمیٹڈ ٹیم بنائیگا تو پھر کوئی سرپھرا پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی نہیں کرسکے گا ۔ ہم جب حقیقت میں ایک قوم بنیں گے تو پھر اس ملک کا ہر پاکستانی اس ملک کا فوجی ہوگا ۔ ہمارے کپتان جو ایک نڈر انسان ہیں اور وہ حقیقت میں پاکستان کے لئے کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں لیکن ساتھ عشروں کے مسائل بیچ میں آرہے ہیں اور یہ سب مسائل اتنی آسانی سے حل بھی نہیں ہوسکتے اسی لئے ہمارے کپتان کو حضرت عمر کی سیرت کا فی الفور مطالعہ کرکے ریاست مدینہ کی طرح ایک مظبوط ریاست کے لئے کوشش شروع کرنی چاہیئے جس میں وزیروں کی فوج اور ان کے لئے کروڑوں کے مراعات نہیں ہوا کرتے تھے ۔ ہمارے کپتان کو اس بات پر فخر کرنا چاہیئے کہ ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے اور اگر کسی نے اس ملک کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تورسوائی ان کا مقدر ہوگی بس کپتان کو صرف اندرونی لڑائی کے لئے صفیں درست کرنے کی ضرورت ہے جس میں ہمارا دشمن غربت ، اقرباءپروری ،کرپشن،احساس کمتری ،اداروں کی زبوں حالی ،بے روزگاری ،بدامنی اور عام پاکستانی کے وہ مسائل ہیں جس کی وجہ سے وہ ہر روز مرتا ہے ۔ ہم جب یہ جنگ جیتیں گے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمارے سامنے نہیں ٹہر سکے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں