ricket 42

پاکستان کرکٹ ٹیم کا نیا امتحان

تبصرہ :‌عمران عثمانی
ایشیا کپ 2018 بھارت نے جیت لیا،اس نے فائنل میں بنگلہ دیش کو شکست دی،میچ کا فیصلہ آخری گیند پر ہوا،اوپنر لٹن داس کی شاندار سنچری اور 120 رنز کے بڑے اوپننگ اسٹینڈ کے بعد بنگلہ دیشی کھلاڑیوںنے بڑے اسکور کا موقع گنوایا جو انہیں مہنگا ثابت ہوا،بھارت نے 7 ویں مرتبہ ایشین حکمرانی کا تاج سجایا ،بنگلہ دیشی ٹیم حسب سابق فائنل کھیلنے کے باوجود خواب کی تعبیر نہ پاسکی، ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم نے بنگلہ دیش کے خلاف جس طرح آخری میچ کھیلا،وہ پلاننگ ،کمبی نیشن ،جیت کے جذبے سے عاری ،شکست خوردہ چہروںسے بھر پور تھا ،کپتان سے لیکر 11 ویں کھلاڑی تک حواس باختہ تھے، اگلے ورلڈ کپ سے قبل یہ پہلا ناکام ترین سفر تھا ،بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف فتح اور پھر فائنل میں زبردست مقابلہ پاکستانی ٹیم کے لئے یہ سوال ضرو ر چھوڑ گیا کہ پاکستان نے بھارت کے خلاف اسکور 237 بنائے تو بولرز اس پر بھارت کو روک کیوں نہ سکے اورپھر بنگلہ دیش کے خلاف 240 رنز بنانے تھے تو وہ کیسے نہیں بنے۔

چیف سلیکٹر انضمام الحق سے سوال تو ضرور ہوگا کہ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے لئے جس ٹیم کا انتخاب کیا ،اس میں کمبی نیشن اور توازن کا فقدان کیوں تھا،میدان میں کپتان کے فیصلے بھی کمزور رہے،سب سے اہم بات یہ کہ منیجمنٹ وکٹوں کو پڑھنے میں بھی اچھی نہیں رہی ،میچ کے دن پچ کو پڑھنا سمجھنا ٹیم کا کام ہے اور اس میں قومی منیجمنٹ زیادہ کامیاب نہ رہی ۔ایشیا کپ میں مایوس کن پرفارمنس کے بعد قومی ٹیم انہی میدانوںمیں آسٹریلیا کے خلاف 2ٹیسٹ میچ کھیلنے والی ہے، کپتان ،کھلاڑی اور آفیشلز کا مورال یقینی طور پر گرا ہواہے۔ فارمیٹ کی تبدیلی سے قومی کرکٹرز شاید حقیقی تبدیلی لا سکیں۔ اس مقابلے کے لئے جس ٹیم کا اعلان کیا گیاہے وہ غلطیوں اور خرابیوں میں ایشیا کپ جیسی ہی ہے ۔عثمان صلاح الدین، محمد رضوان ایک ایک ٹیسٹ ، امام الحق 3میچوں کا تجربہ رکھتے ہیں ،حارث سہیل 5، شاداب خان 4، فہیم اشرف 3میچوں کے اعدادو شمار کے ساتھ اس سائیڈ کا حصہ بنے۔ فخر زمان ، بلال آصف اور میر حمزہ ٹیسٹ کیپ کے منتظر ہوں گے، وہاب ریاض ڈراپ ہونے کے بعد اعتماد کھو کر واپس آئے ہیں۔ بابراعظم کے پاس 13میچوں کا معمولی تجربہ ہو گا، حسن علی اب تک 4ٹیسٹ کھیل سکے ہیں۔ 8ٹیسٹ کھیلنے والے محمد عباس گزشتہ سال کی کارکردگی اور حالیہ کائونٹی پرفارمنس کی وجہ سے امیدوں کا مرکز ہوں گے، کپتان سرفراز احمد اپنے کیرئیر کا 42واں ٹیسٹ کھیلیں گے ان کے ساتھ 65ٹیسٹ کھیلنے والے اظہر علی اور 61میچوں کا تجربہ رکھنے والے اسد شفیق بنیادی تجربہ کار بیٹسمین ہوں گے۔

بلال آصف رائٹ آف بریکر، معمولی تجربہ کے حامل شاداب خان اور تجربہ کار یاسر شاہ میں سے 2اسپنرز اٹیک ہوں گے۔ فاسٹ بولرز میں میر حمزہ اور وہاب ریاض جبکہ محمد عباس، فہیم اشرف اور حسن علی فاسٹ بولر ہوں گے۔ گویا پاکستان کرکٹ کیمپ میں رائٹ ہینڈ فاسٹ بولر کوئی نہیں ہے۔ محمد عامر کو ون ڈے کارکردگی پر ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ کرنا درست فیصلہ نہیں ہے،پاکستان اور آسٹریلیا کی کرکٹ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو دیگر ٹیموں کے مقابلوں میں آسٹریلیا واحد ٹیم ہے جس نے پاکستان کی ہوم سیریز میں بھی متاثرکن پرفارمنس پیش کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ 24ویں ٹیسٹ سیریز ہو گی گزشتہ 23سیریز میں سے پاکستان 6جیت سکا۔ آسٹریلیا 12میں فاتح رہا۔ 5سیریز ڈرا رہیں۔ پاکستان آسٹریلوی سرزمین پر کبھی سیریز نہیں جیتا ،جبکہ آسٹریلیا نے پاکستانی میدانوں میں 2اور عرب امارات و سری لنکا کی ایک سیریز اپنے نام کی ہے۔ انگلینڈ میں کھیلی گئی سیریز1-1سے ڈرا رہی تھی۔ متحدہ عرب امارات میں دونوں ملک تیسری سیریز میں مدمقابل ہوں گے۔2002ء میں 2میچ عرب امارات اور ایک سری لنکا میں کھیلا گیا پاکستان تینوں میچ ہار کر سیریز ہار گیا 2014-15ء کے سیزن میں پاکستان نے 2میچوں کی سیریز 2-0سے اپنے نام کی۔ اس طرح متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے 4میچوں میں سے دونوں ٹیمیں 2-2میں کامیاب رہیں۔ موجودہ سیریز کے 2میچ دبئی اور ابوظبی میں ہوں گے جہاں پاکستان ایک ایک کامیابی کے ساتھ نا قابل شکست ہے۔

آسٹریلیا نے دونوں میچ شارجہ میں جیتے تھے۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے مجموعی 62میچوں میں سے پاکستان نے 14جیتے اور 31ہارے ہیں 17میچ ڈرا رہے۔پاکستان کی جانب سے جاوید میانداد25میچوں میں شرکت کے ساتھ 1797 رنز اور آسٹریلیا کی جانب سے ایلن بارڈر 22 میچوں میں 1666رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر ہیں ،دونوں نے 6,6سنچریاں بنائیں۔ بہترین انفرادی اننگز میں مارک ٹیلر 334*اور سلیم ملک 237رنز کے ساتھ اب بھی نمایاں ہیں۔ شین وارن15میچوں میں 90اور عمران خان 18 میچوں میں 64 وکٹوں کے ساتھ اپنے اپنے ملک کے ٹاپ وکٹ ٹیکر ہیں۔ سرفراز نواز کی 86رنز کے عوض 9اور میک گراتھ کی 24رنز کے عوض 8وکٹیں بہترین انفرادی گیند بازی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں