sunat singh 21

بونیر کے 9 لاکھ آبادی میں ساڑھے تین ہزار اقلیتی برادری آباد

بونیر عمران بونیری
صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع بونیر میں اگر ایک طرف کئی اولیاں مدفون ہیں اور اس وجہ سے بونیر ضلع کو اولیاؤں کی سر زمین کہاجاتا ہے تو دوسری طرف اس وسیع و عر یض ضلع نے اپنے دامن میں ہزاروں اقلیتی براداری کو بھی جگہ دی ہے۔ضلع بونیر کی آبادی اس وقت تقر یبا 9لاکھ ہے جس میں تقر یبا ساڑھے تین ہزار اقلیتی برادری سے تعلق ر کھنے والے سکھ اور ہندو آباد ہیں۔اقلیت میں زیادہ تعداد یعنی تقر یبا 3320تک سکھ اور باقی 150تک افراد کا تعلق ہندوبرادری سے ہے۔

اقلیتی برادری بونیر کے مختلف علاقوں پیر بابا،دیوانہ بابا،غور غشتو،چینگلئی،کوگا،سواڑی،چینہ اور ڈگر میں آباد ہیں۔اقلیتی برادری کے مذہبی ر سومات اور عبادات کے لئے بونیر کے مختلف علاقوں میں تقر یبا 10گوردوارے ہیں جس میں اقلیت سے تعلق ر کھنے والے افراد اپنی عبادات پورے آزادی کیساتھ کر تے ہیں۔بونیر ضلع میں آباد زیادہ تر اقلیتی برادری کاروبار اور خاص کر کپڑے کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور یہ لوگ بونیر کے مختلف بازاروں میں پورے آزادی کے کیساتھ اپنا کاروبار کر تے ہیں۔کاروبار کے علاوہ اقلیتی برادری مختلف سر کاری و غیر سر کاری محکموں میں ملازمت بھی کر تے ہیں۔پاکستان میں اس وقت تقر یباٌ بیس ہزار سکھ آباد ہیں جبکہ یہ تعداد بنگلہ دیش میں 23ہزار اور انڈیا میں دو کروڑ سے زیادہ ہیں۔

sunat singh 2

بونیر ضلع میں آباد سکھ برادری کو در پیش مسائل و مشکلات کے حوالے سے جب وہاں پر مقیم اقلییتی برادری کے باشیندوں سے بات چیت کی گئی تو وہاں موجود اقلیتی ممبر ڈسٹر کٹ کونسل سنت سنگھ نے اقلیتی برادری کی پوری تاریخ سامنے ر کھ دی ۔سنت سنکھ نے کہاکہ بونیر ضلع میں اقلیت کو کسی قسم کی مسائل و مشکلات کا سامنا نہیں۔ہم پورے آزادی کیساتھ اپنے مذہبی ر سومات کی ادائیگی کر تے ہیں ،ہر جگہ گھر بسانے ،گوردوارہ تعمیر کر نے اور کاروبار کر نے کی آزادی ہے۔سنت سنکھ نے کہاکہ بونیر وہ واحد ضلع ہے جہاں اقلیت اور مسلمان آمن،محبت اور بھائی چارے کیساتھ ر ہ کر زندگئی گزارتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں مسلمانوں سے کسی قسم کی کو ئی تکلیف نہیں۔انہوں نے کہاکہ مسلمان ہماری غمی خوشی اور ہم مسلمانوں کے غمی خوشی میں شر کت کر تے ہیں اور اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر تے اور نہ ہی ہم پر کسی قسم کی پابندی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سنت سنکھ نے کہاکہ پیر بابا بازار کئی دہائیوں سے کاروباری منڈی تھی جہاں لوگ کاروبار کر نے آتے تھے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی آزادی سے پہلے ہمارے والد پرانا کالا ڈھاکہ اور موجودہ ضلع تور غر سے تعلیم کی غر ض سے پیر بابا آئے ۔انہوں نے کہاکہ تعلیم حاصل کر نے کے بعد انہوں نے یہاں شادی کی اور پھر کاروبار کی غر ض سے یہاں آباد ہو ئے ۔انہوں نے کہاکہ پیر بابا بازار کاروباروی منڈی ہو نے کی وجہ سے اقلیتی برادری نے بونیر اور دیگر اضلاع سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہو ئے اور کاروبار شروع کیا۔سنت سنگھ نے کہاکہ پیر بابا میں تقر یبا 50گھرانے اقلیتوں کے آباد ہیں جس میں بچے بڑے سب تقر یبا400 افراد ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان افراد کی مذہبی ر سومات اور عبادات کے لئے پیر بابا پاچا بازار میں ایک گورد وارہ 1934میں تعمیر ہوا ہے جو کہ اب بھی آباد ہیں اور ہم سب یہاں اپنی عبادات کر تے ہیں۔پی ٹی ائی کے ممبر ڈسٹر کٹ کونسل سنت سنگھ نے کہاکہ آبادی میں آضافے کیساتھ یہ گوردوارہ اب ان کے لئے کم پڑ گئی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ آبادی کے اندر ایک بڑا گوردوارہ تعمیر کر ے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ چونکہ سکھ برادری مشتر کہ عبادات کر تی ہے جس میں مر د و عورت ہو تی ہیں اس لئے ہم اپنا گوردوارہ آبادی سے باہر تعمیر نہیں کر سکتے اور ہم چاہتے ہیں کہ گاوں کے اند ر آبادی میں ہمیں گوردوارے کے لئے جگہ مل جائے۔

ایک اور سوال کے جواب میں سنت سنگھ نے کہاکہ انڈ یا میں جب بابری مسجد پر حملہ ہوا اور مسجد کو شہید کیا گیا تو یہاں پاکستان میں اقلیتی برادری کے عبادت خانوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا جس میں کچھ شر پسندوں جو کہ مقامی نہیں تھے نے ہمارے گوردوارے کو کافی نقصان پہنچایا ۔انہوں نے کہاکہ پیر بابا میں ہمارے گوردوارے کو گرایا گیا لیکن 1992میں میاں نواز شر یف کی حکومت نے ہمیں گوردوارے کے دوبارہ تعمیر کے لئے 9لاکھ 35ہزار روپے دئیے جس پر ہم نے گوردوارہ دوبارہ تعمیر کیا۔مقامی آبادی کے بارے میں بات کر تے ہوئے سنت سنگھ نے کہاکہ مقامی آبادی نے اس وقت ہمیں بہت سپورٹ کیا تھا اور ہمیں اپنے گھروں میں پناہ دی تھی۔

سنت سنگھ نے کہاکہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہمیں یہاں کسی قسم کی کو ئی سیکورٹی کی ضرورت نہیں لیکن حکومت نے پھر بھی ہمارے گوردوارے کو دو سیکورٹی دی ہے جو کہ 24گھنٹے گوردوارے کے سیکورٹی پر مامور ہو تے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں سنت سنگھ نے کہاکہ ہم پاکستان میں خوش ہیں کیونکہ ہم یہاں بھی اقلیت میں ہیں اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اقلیت میں ہیں۔انہوں نے کہاکہ دنیا کے تمام ممالک میں سکھ اقلیت کی زندگئی گزار ر ہی ہے اور دنیا میں کو ئی بھی ملک ایسا نہیں جہاں سکھ اکثریت میں ہو اور وہاں سکھوں کی حکومت ہو۔

سنت سنگھ نے کہاکہ ہمیں یہاں پر کسی قسم کی مشکلات در پیش نہیں کیونکہ یہاں جو حال مسلمانوں کا ہے وہ ہمارا ہے۔انہوں نے کہاکہ جو سکول مسلمانوں کے لئے ہیں وہ ہمارے لئے بھی ہیں ،اس طر ح ہسپتالوں ،تھانوں ،عدالتوں اور بجلی وغیر ہ بھی ہیں جس سے اقلیت اور مسلمان مشتر کہ استفادہ کر تے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے لئے کسی علحیدہ سکول،کالج یا ہسپتال کی ضرورت نہیں۔سنت سنگھ نے کہاکہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس ملک کے لئے ہم کسی بھی قر بانی سے در یغ نہیں کر ینگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں