Screen Shot 2018-10-09 at 12.30.49 pm 18

ابھی بہت کام باقی ہے… شبیر بونیری

تحریر : شبیر بونیری
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا حال ملاحضہ کیجیئے ۔
ایک ترقی پزیر ملک کا وزیر خارجہ جس کا نام شاہ محمود قریشی ہے چند لمحے بعد جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرنے والا ہے ۔ پوری دنیا میں حالات کے جبر کی وجہ سے ایک قیاس آرائی ہے کہ مذکورہ وزیرڈر،ہچکچاہٹ اور احساس محرومی کے شکنجوں میں بند رہ کر اس سالانہ اجلاس میں اپنے ملک کا نقطہ نظر پیش کرے گا ۔ اُس مک کا نقطہ نظر جس کو ستر سال سے مسلسل مسائل کی آماجگاہ بنایا گیا ہے ۔ امید یہ کی جارہی تھی کہ شاہ صاحب بھی ہاتھ پھیلا کر کچھ اس انداز سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ نہ ہم بدلے نہ ہمارے معیار ہم آج بھی خود کو کھوڑیوں کے دام بیچتے ہیں، ہم اور ہمارے عوام اگر بھوک ،غربت، مہنگائی اور معاشرتی مسائل سے مربھی جائیں توبھی ہم اُن قوتوں کے خلاف آواز نہیں اُٹھائیں گے جو ہمارے بنیادی حقوق ہم سے چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں … لیکن یہ تمام قیاس آرائیاں اس وقت غلط فہمیاں ہی ثابت ہوئیں جس وقت قریشی صاحب سٹیج کی طرف بڑھنے لگے ، اُس کی چال قابل دید تھی اور باڈی لینگویج میں بَلا کا اِعتماد تھا ۔ پُوری دُنیا یہ منظر دیکھ رہی تھی اور یہ پُراعتماد انسان جب بولنے لگا تو قومی زبان اُردو کے الفاظ جنرل اسمبلی کے حال میں ایسے گونجنے لگے جیسے ہندوستان کے مندروں میں بھگوان کے سامنے لٹکتی گھنٹیاں بجتی ہوں ۔ اپنے وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں اردو میں خطاب کرتے دیکھ کر پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہوگئے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے شاہ صاحب کو سراہا ۔

ہم تحریک انصاف اور قریشی صاحب سے اختلاف بھی رکھ سکتے ہیں اور بطور پاکستانی ان کو مشورے بھی دے سکتے ہیں لیکن مثبت لوگ وہ ہوتے ہیں جو صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہیں ۔ یہ یقیناً خوشی کی بات ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ صاحب نے قومی زبان اُردو میں وہ تمام باتیں کی جو وہاں پر کرنی چاہیئے تھیں ۔ اُن تمام مسائل کا ذکر کیا جن کی وجہ سے ہم عالمی دنیا میں تنہا اور بدنام ہوچکے ہیں ۔ وہ بجا فرمارہے تھے کہ” پاکستان اقوام عالم کے ساتھ عالمی مسائل میں ہر طرح کا تعاون کرے گا لیکن یہ تعاون ماضی کی طرح بالکل نہیں ہوگا جس میں پاکستان کی ریاستی آزادی ،قومی مفادات ،حق خود اِرادیت ،عوام اور ملکی سلامتی کو داؤ پر لگادیا گیا اور جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔ ہم پاکستانی عوام کی سلامتی کا حد سے ذیادہ خیال رکھیں گے اور میں اقوام عالم سے درخواست کرتا ہوں کہ ہماری آزادی اور ہمارے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا جائے ” ۔ اس کے علاوہ ناموس رسالتﷺ ،مسئلہ کشمیر ،مسئلہ فلسطین اور ہندوستان کی روایتی ہٹ دھرمی کو پوری دنیا کے سامنے کھل کر بیان کیا ۔
خارجہ اُمور میں شاہ صاحب تجربہ رکھتے ہیں اور اُسی تجربے کو استعمال میں لاتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کی بہترین نمائندگی کی ۔ شاہ صاحب ایک نڈر اور ذہین سیاستدان ہیں اسی لئے ہم داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنرل اسمبلی کے اس “اُردو فارمیٹ” والے خطاب سے ہمارے سارے مسائل حقیقیت میں حل ہوگئے ہیں ؟

کیا صرف وزارت خارجہ کی کارکردگی کی وجہ سے ہم اپنے حقیقی مسائل سے نکل سکتے ہیں؟ نہیں کیونکہ فعالیت ترقی یافتہ قوموں کی وہ خصلت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے قوموں کو یا تو سیاسی طور پر زیر کرلیتے ہے یا ذہنی طور پر ۔ ہم کو بدقسمتی سے سیاسی اور ذہنی دونوں میدانوں پر زیر کیا جاچکا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے اور اس تضاد کی وجہ سے ہم میں ستر سال بعد بھی فعالیت پیدا نہیں ہوئی ۔
ہم فطری طور پر جذباتی قوم واقع ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم باتوں کی جادوگری میں آجاتے ہیں اور خود کو مطمئین بھی کرلیتے ہیں۔ ہمارے جذباتی فن کی کہانی ساتھ عشروں پر محیط ہے ۔ ہم اتنے جذباتی ہیں کہ لیڈر کو ایک لمحے سر پر بٹھا دیتے ہیں اور دوسرے لمحے بے عزت کرکے گرا دیتے ہیں ۔ ہماری اس جذباتی خصلت کی وجہ سے نقصانات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہماری تاریخ میں موجود ہے ۔ جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارا دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم غریب ہیں اور ہماری یہ غربت ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہم غریب قوم ہیں اور ہمارے وسائل غلط استعمال ہورہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں ایک استحصالی نظام نے جنم لیا ہے ۔ ہم کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہماری اشرافیہ اور ہمارے حکمران طبقے کا لائف سٹائل دن بہ بن بدل رہا ہے ۔ ہمارے حکمران ہمیشہ تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن زندگی بادشاہوں جیسی گزارتے ہیں ۔ ہم پچھلی حکومت کا ڈیٹا اگر نکال کر دیکھ لیں تو پنجاب میں صرف شریف فیملی کے لئے ساتھ سو اکساٹھ پولیس کے نوجوان اور باؤن سرکاری گاڑیاں سیکیورٹی مقاصد کے لئے تھی اور ایک ایک پولیس والے پر چالیس ہزار کا ماہانہ خرچہ اوراس پورے پروٹوکول پر تین سو پینساٹھ اعشاریہ تین آٹھ ملین خرچہ سالانہ اس غریب قوم کے جیب سے نکالا جاتا اور ستم بالائے ستم یہ کہ ہمیشہ یہ کوشش کی گئی کہ اس پروٹوکول کو بڑھایا جائے کیونکہ سیکیورٹی تھریٹس تھیں۔ ان لوگوں کو سیکیورٹی دینے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔

میں سمجھتا ہوں حکمران چاہے ملک کا صدر ہو ،وزیر اعظم ہو ، وزیر ہو ،مشیر ہو ، ایم پی اے ہو،ایم این اے ہو یا کوئی اور عہدہ دار ان کو کم از کم سیکیورٹی لینی چاہیئے کیونکہ جہاں غریب کی زندگی رسک پر ہو وہاں حکمرانوں کا کوئی حق نہیں بنتا کہ سیکیورٹی لے ہمارے حکمرانوں کا یہ لائف سٹائل آج تک نہیں بدلا ۔ موجودہ حکومت کے بارے میں بھی یہی اطلاعات ہیں کہ وزیروں اور مشیروں کے مراعات پچھلے حکومت سے کچھ کم نہیں اور دکھ اسی بات کا ہے کہ کوئی خاطر خواہ تبدیلی ابھی تک دیکھنے کو نہیں ملی ۔ ۔ اس دوغلے فن کی وجہ سے ہمارے ملک میں ایک استحصالی نظام وجود میں آیا ہے جس کی وجہ سے مسائل دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں ۔ایسے حالات میں اگر تبدیلی کا دعویٰ کرنے والے حکمران بھی پرانی روش پر چلتے رہے تو جس تبدیلی کا خواب اس ملک کے نوجوانوں نے دیکھا ہے وہ چکنا چور ہوجائیگا ۔ ہم پر اٹھائیس ہزار تین سو ارب کا قرضہ ہے یہ تقریروں میں تو بار بار یاد دلایا جاتا ہے لیکن اس قرضے سے جان کیسے چھوٹے گی یہ کسی کے پلان میں نہیں ۔ ہماری روزمرہ زندگی میں غریب لوگوں کی قوت خرید کا اندازہ شائد کسی کو نہیں لیکن سوشل میڈیا پراور نجی محفلوں میں تقریروں پر واہ واہ کرنے سے کسی کو فرصت نہیں ملتی ۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہمارے اندرونی مسائل کے حل کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جاسکتے ۔ ہمیں اگر حقیقیت میں پوری دنیا سے داد سمیٹنی ہے تو آگے کی طرف دیکھنا ہوگا اور عام پاکستانی کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ پوری دنیا میں سر اٹھا کر چلے اور ایسا صرف اُس وقت ممکن ہے جب عام پاکستانی کے پاس زندگی گزارنے کے وسائل موجود ہوں ۔ صرف ایک خطاب پر اتنی خوشیاں نہیں منانی چاہیئے کیونکہ کروڑں نوجوان بے روزگار ہیں . ابھی بہت کام باقی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف 39 فیصد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہیں جبکہ 57 فیصد نوجوان سرے سے ملازمت کے بارے میں سوچتے ہی نہیں ۔

77 فیصد نوجوان ملازمت کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں اور یا تو ملک سے باہر چلے جاتے ہیں یا ادھر پاکستان ہی میں کسی مستری خانے کی زینت بن جاتے ہیں ۔ یہ بات ذہن میں رکھ لینی چاہیئے کہ ہر سال 40 لاکھ نوجوان مارکیٹ میں جاب کی تلاش میں داخل ہوتے ہیں لیکن روزگار کے مواقع نہیں ہوتے ۔ اس رپورٹ میں نوجوانوں کے حوالے سے یہ بات بھی بتادی گئی ہے کہ وہ کھیلوں سے تقریباً محروم ہیں صرف ساتھ فیصد نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولتیں حاصل ہیں ۔
ان تمام مسائل پر اگر اس حکومت میں قابو نہیں پایا گیا تو مایوسی اور ناامیدی ہمارا مقدر بن جائیگی اور پھر داخلہ اور خارجہ دونوں محازوں پر ہمارے پاس ناکامی کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوگا ابھی جشن منانے کا وقت نہیں کیونکہ ابھی بہت کام باقی ہے ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں