court 19

تعلیمی اداروں میں منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈا ؤ ن کا حکم

اسلام آباد۔
چیف جسٹس نے تعلیمی اداروں میں منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈان کا حکم دیتے ہوئے کہا کھلے عام منشیات کی اسکولوں اور کالجوں میں فروخت تشویشناک ہے ،اگرمنشیات ختم نہ کرسکے تو مستقبل تباہ اور ایک بیمار قوم پیدا کریں گے، ویڈیو دیکھی جس میں اچھے گھرکی لڑکی منشیات استعمال کررہی تھی، حیران ہوں ہمارے ادارے کیا کر رہے ہیں۔

پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر ازخودنوٹس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کھلے عام منشیات کی اسکولوں اور کالجوں میں فروخت تشویشناک ہے۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صورتحال اسکولوں تک جاپہنچی ہے ، بچوں کو اسٹرابری کے نام پرچیزیں کھلائی جارہی ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ویڈیو دیکھی جس میں اچھے گھرکی لڑکی منشیات استعمال کررہی تھی، حیران ہوں ہمارے ادارے کیا کر رہے ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ حدودچھوڑیں ،منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈا ؤ سن کریں، جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا ایکشن لیں گے اورایک ہفتے میں رپورٹ آپ کو فراہم کریں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگرمنشیات ختم نہ کرسکے تو مستقبل تباہ اورایک بیمار قوم پیدا کریں گے۔سپریم کورٹ نے تحقیقات اور روک تھام کے لئے ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرتے ہوئے دس روز میں جواب پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے ڈی جی آئی بی ڈاکٹر سلمان سے مکالمہ کیا ہممیں آپ سے مدد چاہئے۔ ڈاکٹر صاحب اس معاملے میں بھول جائیں آپ کی کیا حدود ہیں۔ آئندہ نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے حدود سے بڑھ کر کام کریں۔ بعد ازاں سپریم کورٹ میں سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں