Dak and Dakia 14

ڈاک تو آتی ہے پر اب ڈاکیا نہیں آتا …خصوصی رپورٹ

خصوصی رپورٹ:
زمانہ بدل گیا، انٹرنیٹ موبائل فون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد الیکٹرانک ڈاک تو آ ہی جاتی ہے پر اسے لانے والا ،خاکی وردی پہنے ڈاکیا نہیں آتا۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ڈاک کا عالمی دن منایا جارہا ہےجس کا مقصد ڈاک کے نظام کو بہتر بنانا، محکمہ ڈاک کی اہمیت اور اسکی کارکردگی کو اجاگر کرنا ہے۔

دنیا میں پہلا ڈاک کا عالمی دن 9 اکتو بر 1980 کو منایا گیا۔ہر سال دنیا کے 160 سے زائد ممالک یہ عالمی دن مناتے ہیں۔ اور ہر وہ ملک جو اقوام متحدہ کی خصوصی تنظیم یونیورسل پوسٹل یونین (UPU) کے ممبران میں شامل ہے اس موقع پر خصوصی ڈاک ٹکٹ کا اجرا ء کرتا ہے۔

ڈاک کا نظام ایک تاریخی اور عالمی نظام ہے۔برصغیر پاک و ہند میں پہلا ڈاک خانہ 1837 میں قیام پذیر ہوچکا تھا لیکن ایک طویل عرصے تک برطانوی ڈاک ٹکٹوں سے کام چلا یا جا تا رہا ہے۔

تقسیم ِ ہند کے بعد15 اگست 1947 سے پاکستان پوسٹ نے لاہور سے اپنا کام شروع کیا، اسی سال پاکستان یونی ورسل پوسٹل یونین کا نواسی واں رکن بنا۔ سن 1948 میں پاکستان پوسٹ نے ملک کے پہلے جشن ِ آزادی کے موقع پر اپنے پہلے یادگاری ٹکٹ شائع کیے۔

شعبہ ادب سے وابستہ افراد خط کو آدھی ملاقات کہتے ہیں اور خط کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے والا شخص ڈاکیا کہلاتا ہے ، برسوں قبل روزانہ ڈاکیا گلے میں ایک تھیلا لٹکائے گلی گلی ، گاؤں گاؤں ڈاک کے ذریعے لوگوں کے آئے ہوئے خطوط پہنچا تا نظر آتا تھا لیکن اب یہ شخص کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

دور جدید میں ترقی کے سفر میں جہاں فاصلے سمٹ گئے وہیں پیغام رسانی کے ذرائع میں بھی جدت آتی گئی ،خط کی جگہ تارپھر ٹیلی گرام ،فیکس،لینڈ لائن فون،پھر موبائل فون،انٹر نیٹ، ای میل اور اب واٹس اپ کے آنے سے ڈاکیا اور ڈاک کے نظام کی اہمیت میں کمی آئی ہے۔

دوسری جانب گزشتہ چند سالوں سے نجی کوریئر سروسز کےذریعے اپنے پیاروں کو تحفے تحائف بھیجنے ،ضروری دستاویزات کی ترسیل بھی بڑھی ہے ۔اگر محکمہ ڈاک کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو خط و کتابت کی قدیم روایت کو برقرار رکھا جا سکتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں