Musa kamal Main GF 31

ہے جذبہ جنون تو …! موسی کمال

موسی کمال ( عبدلولی خان‌ یونیورسٹی مردان)
Musa-Kamal-e1539191565921-150x150

انسان کی زندگی میں سب سے پہلے اور اہم درجہ اس کی صحت کا ہوتا ہے، مشہور محاورے ہے کہ” جان ہے تو جہان ہے” اگراس محاورے کو مزید مختصر کرے تو کچھ ایسا ہی بنےگا ” صحت ہے تو جان ہے”، اللہ تعالی نےتمام انسانوں کوباقی مخلوقات پر شرف بخشا ہےیہی وجہ ہے کہ انسانی جسم کے سٹرکچرکے ساتھ ساتھ عقل و شعور نے بھی اس کو افضل بنایا ہے ، اس کے ساتھ ہم تمام انسان ایک دوسرے سے سہولت، طاقت اور شکل میں مختلف ہیں، مصور کائنات نے دنیاوی فہم و ادراک سمیت ذہنی قابلیت ، ہاتھ ، پاؤں اور بدن کے دوسرے اعضاء میں ہماری عبرت کے لئے بہت سے انسانوں کو محروم پیدا کیا ہےاب اس میں اس ذات پاک کا کیا فلسفہ ہے…؟ وہی رب جانتا ہے.

c

اگرچہ بعض افراد مختلف قسم کی باتیں اور نظریے بیان کرتے ہیں، لیکن اس دنیا میں ہزاروں ایسے انسان موجود ہیں جنہوں نے کبھی بھی ان ظاہری محرومیوں کو اپنے اعصاب پر طاری نہیں کیا اور نہ ہی محرومیوں کو اپنے راستے کا دیوار بنایا.
انہی لوگوں میں سے شاکر اللہ بھی ایک ایسا ہی نوجوان ہے جسے رب کائنات نے بلا کی ذہانت دی ہے ، بچپن میں پولیو کے قطرے نہ پلانے کی وجہ سے اگرچہ شاکراللہ چلنے سے قاصر رہا لیکن اس نے اپنی اس ظاہری کمزوری کو طاقت میں بدل دیا ہے. ان سے ایک خصوصی نشست قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں.

شاکر اللہ گفتگو کےدوران بھی اپنی وئیل چئیر میں پرسکون ٹیگ لگائےہوئے تھے ، انھوں نے کہا اگرچہ پیر بہت بڑی نعمت ہے جس کی اہمیت بغیر پیروں انسان کو ہوتی ہے، مگر میں دیکھنے سونگھنے اور کھانے پینے کی صلاحیتوں پر بھی اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ شکر گزار ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر مجھ میں قابلیت موجود ہو تو میں ان نامکمل اعضاء کے ساتھ بھی دنیا میں نام کما سکتا ہوں.
شاکر اللہ نے جوش سے اپنی چئیر کے بازوں سے جکڑ لیا دوسرے لمحے میں انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ چونکہ میرا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع اپردیر سے ہے مگر تعلیم کے سلسلے میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں زیرتعلیم ہوں، انھوں نے مزید کہا کہ ہر زندہ مخلوق کو کسی نہ کسی کام اور مقصد کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہے ۔ اور مجھے یقین ہے کہ میرا وجود بھی بغیر مقصد کے نہیں ہے.

انھوں نے کہا چونکہ میرے والد صاحب محکمہ پولیس میں ہے اور اس وقت گھر میں سب سے بڑا بھی میں ہی ہوں … میری شدید خواہش ہے کہ گھر کے اخراجات میں اپنے والد کا ہاتھ بٹا سکوں ۔
شاکراللہ باٹنی ڈیپارٹمنٹ کا طالبعلم ہے انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ، میرے کلاس فیلوز کا رویہ میرے ساتھ انتہائی دوستانہ اور محبت والا ہے اور میرے خیال میں یہی وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے مجھ میں کچھ کرنے کی توانائی پہلے سے بڑھ کر ہے ۔
بس اس بات پر تکلیف ہوتی ہے کہ پاکستان میں سپیشل افراد کا سب سے بڑا مسئلہ یہاں کی نجی اور حکومتی عمارتوں میں چلنا پھیرنا ہے. … ہمارے ملک میں بہت ہی کم بلڈنگز میں سپیشل افراد کے لئے خصوصی راستہ بنا ہوتا ہے ۔

d

یہی مسلہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں بھی ہے کیونکہ اس عمارت کا نقشہ بنانے اور پاس کرنے والوں کی نظر میں معذور پاکستانی ، پاکستانیت کے قابل ہی نہیں ہے ۔
ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں دس فیصد سے زیادہ افراد مختلف قسم کی معذوریوں میں مبتلا ہے اگر آپ اتنی بڑی آبادی کو وطن کی ترقی میں کردار ادا کرنے نہیں دیں گے تو یہ لوگ معاشرہ پر بوجھ بن کر رہ جائیں گے ۔
اس موقع پر انہوں نے حکومت وقت سے مطالبہ تھا کہ باعزت شہری بنانے کے لئے خصوصی افراد کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں اور تعلیم سے فراغت کے بعد ان کےلئے مخصوص کوٹہ پر ان کو بھرتی کرنے دیں تاکہ ان کے دلوں میں کبھی بھی احساس کمتری پیدا نہ ہوسکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں