khwaja sara 43

خواجہ سراء ایچ آئی وی مرض کے ساتھ لڑتے لڑتے آخر کار دم توڑ گیا

پشاور (نسرین جبین )
پشاور میں 29 سالہ خواجہ سراء ایچ آئی وی مرض کے ساتھ لڑتے لڑتے آخر کار دم توڑ گیا‘ خطیبوں کی جانب سے نماز جنازہ سے انکار کے بعد علاقے کے مقامی شخص کی جانب سے نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد اسے سپرد خاک کر دیاگیا ‘ خواجہ سرائوں کی فلاح وبہبود کیلئے کام کرنے والی تنظیم بلیو وینز کے کوآرڈی نیٹر قمر نسیم کے مطابق شاہد نامی خواجہ سراءبٹ خیلہ کا رہائشی تھا اور 10سال پہلے بٹ خیلہ چھوڑ کر پشاور منتقل ہوا تھا جہاں وہ گلبہار میں رہائش پذیر تھا تاہم شاہد کچھ عرصے سے جان لیوا مرض ایچ آئی وی میں مبتلا تھا اور اس کا علاج معالجہ ہی نہ ہو سکا تاہم شاہد مرض سے لڑتے لڑتے دم توڑ گیا ‘ اس کی نماز جنازہ پڑھانے کیلئے بہت سے خطیبوں سے رابطہ کیاگیا تاہم انہوں نے مسلسل انکار کیا جس کے بعد علاقے کے مقامی شخص کی جانب سے اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور پھر اسے دفنا دیاگیا.

قمر نسیم کے مطابق شاہد کی فوتگی کی اطلاع اس کے گھر والوں اور دیگر لواحقین کو بھی دی گئی تاہم انہوں نے لاش وصول کی اور نہ ہی نماز جنازہ و تدفین میں بھی شرکت نہیں کی ‘ واضح رہے کہ خواجہ سرائوں کی فلاح وبہبود کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے 2016ء میں بجٹ میں 20کروڑ روپے مختص کئے گئے تاہم یہ رقم ان پر خرچ ہی نہ ہو سکی جبکہ صوبائی حکومت کی پالیسی بھی تاحال کاغذی کارروائی تک محدود ہے‘ پشاور میں 6 سے 7 ہزار کے قریب خواجہ سراء موجود ہیں‘ جن کیلئے ایڈز /ایچ آئی وی سے آگاہی کیلئے مختلف پروگرامز شروع کرنے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام خصوصی انتظامات کرے تاکہ خواجہ سرائوں ایچ آئی وی کے مریضوں کا علاج معالجہ کرکے ان کی زندگیاں بچائی جا سکیں جبکہ انہیں مناسب روزگار اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے حالات زندگی کی بہتری کیلئے بھی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ وہ باعزت شہری کی زندگی گزار سکیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں