Screen Shot 2018-10-24 at 12.23.43 pm 17

خیبرپختونخوا اسمبلی : اقلیتی رکن کا ہیلمٹ پہننے اور کرپان نہ ہٹانے سے استثنی کا مطالبہ

عارف حیات پشاور
خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس میں اقلیتی رکن رنجیت سنگھ نے ہیلمٹ پہننے اور کرپان نہ ہٹانے سے استثنی کا مطالبہ کیا.

متحدہ مجلس عمل کے مخصوص نشست پر اقلیتی رکن رنجیت سنگھ نے اسمبلی اجلاس میں خطاب کے دوران کہا کہ پگ اور کرپان انکے مذہب کا حصہ ہے انہیں نہ ہم اور نہ ہی آپ ختم کرسکتے ہیں۔
رنجیت سنگھ نے کہا کہ پگ کے اوپر ہیلمٹ نہیں پہن سکتے ٹریفک پولیس جرمانہ نہ کرے جبکہ کچھرے یا دوسری سرکاری دفاتر میں جاتے وقت کرپان اتارا جاتا ہے۔ اقلیتی رکن نے بتایا کہ قوانین کا احترام کرتے ہیں مگر مذہبی رسومات کی ادائیگی آسانی فراہم کی جائے۔

رنجیت سنگھ نے ایوان میں خطاب کنگی، کڑا، کیس، کچھہ کرپان ہماری مذہبی نشانیاں ہیں اور یہ ہر وقت ہمارے پاس ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں انکے مذہبی نشانیوں کی عزت کی جاتی ہے مگر انہیں یہاں ہٹانے کو کہا جاتا ہے۔
ایم ایم اے رکن اسمبلی نے کہا کہ دنیا بھر میں مذہبی آزادی ہے اور انہیں بھی نہ روکا جائے۔ رنجیت سنگھ نے مطالبہ کیا کہ ہیلمٹ نہ پہننے اور کرپان نہ ہٹانے کی قانونی اجازت کی جائے۔

اسمبلی اجلاس میں خیبرپختونخوا کے وزیر قانون نے کہا کہ سکھ برادری کے مطالبہ سے متفق ہوں، تمام مذاہب کی عزت ملک کے آئین میں شامل ہے۔ سلطان محمد خان موقف اپنایاتمام برداریوں کی مذہبی روایات کا خیال رکھنا ضروری ہے مگر قانونی پیچیدگیاں دیکھنا پڑے گا۔

وزیر قانون نے کہا کہ قانونی پیچیدگیوں کو دیکھنے کے بعد اس معاملے پر فیصلہ کرینگے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں