larib 1 18

شخصیت اور شناختوں سے خود آشنائی … لاریب اطہر

لاریب اطہر ( یونیورسٹی اف مردان)

کسی گورے کو کالے پر، کسی کالے کو گورے پر ۔ کسی عربی کو عجمی پر ، کسی عجمی کو عربی پر۔ کسی امیر کو غریب پر، کسی غریب کو امیر پر کوئی برتری حاصل نہں ہے ۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ کا یہ فرمان میں نے ابتدائی تعلیم کے دوران ہی پڑھا تھا مگر ہوش سنبھالا تو جا بجا اس کے خلاف ہوتے دیکھا۔ کوئی امارت کے نشے میں چور ہے تو کسی کو طاقت اور برتری کے خمار نے مخمور کررکھا ہے۔ معاشرتی تفریق سے مبرا ہمارے کہنے کو مسلم معاشرے کا کوئی کونہ نہیں ہے۔ صرف مذہب کے نام پر ہی اتنی تفریق در آئی ہے کے کھوٹے اور کھرے کی پہچان کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔

ہم اسلام کے ماننے والے ہیں اور اسلام کے نام پر بننے والے دور جدید کے واحد ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسی ہیں۔ لیکن ایک ملک میں رہتے اور کلمہ گو ہونے کے باوجود پنجابی،سندھی، بلوچ، اور پختونوں میں نفرتیں در آئی ہیں۔ ہم رئیس اور طاقتور ہیں تو غریب، کمزور اور نادار کو قریب نہیں آنے دیتے۔ گورے ہیں تو کالی رنگت والوں کو مذاق کا نشانہ بناتے ہیں۔ کوٹھی والے جھونپڑی مکینوں، مالک اپنے نوکر کو برابری کا درجہ دینا گوارہ نہیں کرتے۔ تعلیم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے کی حدیث کا ورد تو کرتے ہیں مگر ہمارے ہاں تعلیم، میوزک، ادب، کھیل اور پیشے میں بھی برابری کا تصورمحال ہے۔ اور تو اور مرد کی حیثیت سے معاشرے میں عورت کی شناخت کو برابری کا درجہ نہیں دیا جاتا۔

آخر ایسا کیوں ہے …. ؟ یہ سوال مدت سے میرے ذہن کے پنہا خانوں میں کلبلاتا رہتا ہے مگر اب اچانک یہ میرے لاشعور سے نکل کر میرے سامنے آچکے ہیں۔ اس کی وجہ بنی اسلام آباد میں ہونیوالی ایک میڈیا ورکشاپ۔ جے ڈی ایچ آر کی جانب سے کروائی جانیوالی اس ورکشاپ میں جانے سے پہلے میرے ذہن میں ایسا گمان بھی نہیں تھا کہ مجھے وہاں سے درست سمت میں سوچنے اور سوچوں کو یکجا کر کے خیالات بنانے کی ایسی بے مثال صلاحیت ملے گی۔ اپنے یونیورسٹی کے ساتھیوں کیساتھ مردان سے اسلام آباد گئی تو خیال تھا کہ ویسی ہی ورکشاپ ہو گی جیسی ہم پہلے بھی “بھگت” چکے ہیں یا جیسا ہمیں یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا اور لکیر کا فقیر بنایا جا رہا ہے۔ گمان تھا کہ اسلام آباد کی سیر کا موقع مل رہا ہے تو اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ مگر دو دن کی ورکشاپ نے میرے خیالات ہی بدل ڈالے۔ اتنے مختصر وقت میں سوچنے کا انداز اور سوچ کا دھارا کیسے بدلا جاتا ہے یہ میرے لئے ایک انوکھا اور دلچسپ تجربہ تھا۔ ساتھ ہی مجھے ادراک ہوا کہ میں تو اکلوتی شناخت ہی نہیں رکھتی۔ میرے تو کئی روپ اور کئی شناختیں ہیں۔ جو جانے کہاں کہاں سے مجھے مل چکی ہیں اور مجھے خود بھی کبھی اندازا نہیں ہوا تھا کہ معاشرے نے مجھ پر اتنی ملمع کاری کررکھی ہے۔ میری اپنی شخصیت کی اتنی زیادہ شناختوں سے میں خود ہی ناآشنا تھی۔ اس بارے آشنائی ملنے پر بھی میں خالد جمیل صاحب اور جی ڈی ایچ آر کی مشکور ہوں۔

کیا آپ ایک سے زائد شناخت رکھتے ہیں؟۔ یہ سوال مجھ سے کیا گیا تو سب کی طرح میرا بھی جواب تھا کہ نہیں۔ میں لاریب ہوں اور میری سوچ میں اپنی کوئی دوسری شناخت تھی ہی نہیں۔ بالکل نہیں۔ میری پہلی سوچ یہی تھی۔ لیکن جلد ہی میرے اندر سے آواز آئی کہ میں ابھی تک غلط تھی۔ میری تو اتنی زیادہ شناختیں ہیں اور میری اصل شخصیت پر ملمع کاری ہوئی ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں محروم طبقات کو قلم، مائیک، کیمرے کے دائرے میں شامل کرنے بارے میں منعقدہ ورکشاپ کیلئے ہم جمعہ کی شام ہی پہنچ گئے تھے مگر ورکشاپ کا آغاز ہفتے کی صبح ہوا۔ ناشتے کی میزوں پر کئی اجنبی چہرے دکھائی دئیے مگر اندازہ نہیں تھا کہ چند لمحوں بعد انہی سے شناسائی ہونے جارہی ہے۔ ہم مردان یونیورسٹی کے طلبہ ورکشاپ کیلئے مختص”دیوان خاص”میں پہنچے تو ہال میں پختون بیلٹ کے شناسا چہروں کے علاوہ بھی کئی چہرے ملے۔ خیال تھا کہ شائد اسلام آباد کے مقامی طلباء و طالبات ہوں گے۔ تعارف میں پختون بیلٹ والے تو مردان، سوات اور پشاور کے مردوزن تھے مگر اسلام آباد کا ایک بھی طالب علم نہیں تھا۔ ہاں میرے ددھیال کے شہر فیصل آباد اور لاہور کی جامعات کے طلبہ کا تعارف سن کر خوشگوار حیرت ہوئی ۔ تعارف کے بعد ورکشاپ کے آغاز میں ہی ہمیں ایک فارم ملا اور پہلے ہی سوال نے سوچنے پر مجبور کردیا۔

سوال تھا کہ “کیا آپکی ایک سے زیادہ شناختیں ہیں”۔ باقیوں کا تو اندازہ نہیں مگر مجھے سوال نے حیران کردیا کہ یہ کیا سوال ہوا۔ دوہری شناخت بھلا کون رکھتا ہے ۔ میں تو نہیں رکھ سکتی ۔ میرا صاف صاف جواب نہیں میں تھا۔ اس وقت تک مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ورکشاپ میں اسی پر تو بات ہونی ہے ۔ پہلے روز خالد جمیل صاحب نے پاکستان میں میڈیا کی صورتحال اور معروضیت کیساتھ رپورٹس تیار کرنے بارے انتہائی اہم پوائنٹس بتائے۔ ساتھ ہی یکطرفہ سوچنے کی ممانعت بھی کی۔ ہمیشہ تمام پہلوئوں کو مدنظر رکھ کر میڈیا کیلئے رپورٹس تیار کرنے کی اہمیت اور ضرورت بارے مفید معلومات دیں۔ دوسرا دن اتوار کا تھا اور ورکشاپ کا آغاز ہی اس بات سے ہوا کہ کیا آپ کی ایک سے زیادہ شناختیں ہیں اور ہیں تو کون کون سی۔ مگر میری سوچ اس نکتے سے آگے جانے کو تیار ہی نہیں تھی کہ دوہری شناخت کیسی ہو سکتی ہے۔ صرف میں ہی نہیں اور بھی کئی چہروں پر حیرانی کا تاثر نمایاں تھا۔ چونکہ ہمیں دوہری شناخت کے حوالے سے پہلی بار سوال کا سامنا تھا اور جواب واضح تھا۔ نہیں۔ نہیں۔ نہیں۔

سب کے جواب کے بعد محترمہ عظمیٰ لطیف نے سب کو اپنی گفتگو میں شریک کیا تو ہمیں اپنی پوشیدہ شناختیں نظر آنے لگیں،مجھے پہلی بار اندازہ ہوا کہ ہر انسان کی ایک سے زیادہ شناختیں ہیں، کیونکہ وہ مختلف جگہوں اور مختلف اوقات میں الگ الگ کردار نبھا رہا ہوتا ہے۔ گھنٹے بھر کی بحث و مباحثے کے بعد علم ہوا کہ انسان معاشرے میں جنم صرف انسان کی حیثیت سے لیتا ہے، لیکن اس کے بعد اسے بتدریج جنس، مذہب، عقیدے، مسلک، نسل، برادری، حالات اور پیشے کے اعتبار سے شناختیں ملتی رہتی ہیں، کچھ شناختیں وہ خوشی سے قبول کرتا ہے، اور کچھ زبردستی اس کے گلے ڈال دی جاتی ہیں۔ہم سبکی ایک سے زیادہ شناختیں ہیں، اور اسی طرح معاشرہ تشکیل پاتا ہے، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ہم اپنی ایک سے زیادہ، اچھی اور بریشناختوں کو برداشت کرتے ہوۓ ہر شناخت کے ہونے کا جواز ڈھونڈ لیتے ہیں، تو ایک معاشرے میں رہتے ہوۓ دوسروں کی شناخت کو مذاق یا نفرت کی نذر کیوں کر دیتے ہیں؟ انکی شناخت کا احترام کیوں نہیں کرتے۔

اچانک شرکاء سے پوچھا گیا کہ ان کی کوئی ایک شناخت جو وہ کبھی ناں کبھی ، کہیں ناں کہیں چھپا لیتے ہیں ۔ تو ہال میں خاموشی طاری ہو گئی۔ مگر سوچ کا دھارا بڑھایا تو سامنے آیا کہ کچھ ناں کچھ ایسا ہے جو ہم کبھی کبھار، کسی ناں کسی کے سامنے چھپا لیتے ہیں۔ حوصلہ کرتے ہوئے سب نے کوئی نہ کوئی پوشیدہ شناخت ظاہر کر دی۔ اپنی باری پر میں نے بھی بتایا کہ مجھے کئی زبانیں آتی ہیں۔ مگر میں کئی مقامات پر اپنی یہ صلاحیت ظاہر نہیں کرتی اور کچھ زبانوں کو بولنے سے احتراز کرتی ہوں۔ ورکشاپ میں ہی مجھ پر مزید مقامات حیرت وا ہوئے۔ پہلی مرتبہ یہ بھی اندازہ ہوا کہ کئی شناختیں انسان کو کمزور کرتی ہیں اور کئی شناختیں طاقت بن جاتی ہیں۔ سوچا تو میرے ساتھ بھی ایسا ہی تھا۔ میرے ارد گرد روز یہ تماشائے حیرت ہوتا تھا مگر کبھی اس طرف سوچ گئی ہی نہ تھی۔ کمزور شناخت کے حامل افراد کو کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بارے بھی پہلی بار سوچ کے دروازے کھلے۔

ورکشاپ میں شرکت کے بعد یہ سوچنے پر مجبور ہوئی کہ بظاہر تو ہم برابری کی بات کرتے ہیں، اور اسے اپنی شناخت بنا کر نیک نامی سمیٹتے ہیں، لیکن عملی طور پر ہماری شناخت کچھ اور ہوتی ہے، اور ہم اپنی بری شناختوں کو خوبصورت جھوٹ کے لبادے میں چھپا کر پیش کرتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر بحیثیت مسلمانغیر مذہب کے لوگوں سے خود کو الگ رکھتے ہیں،مسلک اور عقیدے کی بنیاد پر ہماری تفریق پوری دنیا پر واضح ہے۔ بحیثیت پاکستانی ہماری صوبائی شناختوں میں تفریق، منافرت اور اسی بنیاد پر روا رکھے گئے سلوک کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ اگر ہم ایک صوبے میں بھی رہتے ہیں، تب بھی برادری، نسل، رنگ، کلاس، پیشے اور نہ جانے کون کون سے شناخت کی تفریق اور اسی کی بنیاد پر تعصب کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ہم جس مذہب اور جس پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کی تعلیمات میں مساوات، رواداری، اور بھائی چارے کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ یہ اسلام ہی تو تھا جس نے رنگت، نسل، حیثیت، اور زبان کی تفریق کو ختم کرتے ہوئے اخلاق، اعمال اور صلہ رحمی کو درجہ بندی کا طریق بتایا تھا۔

قصہ مختصر کہ دو روزہ ورکشاپ تو ختم ہوگئی لیکن ہمارے ذہنوں میں ایسے کئی سوال چھوڑ گئی، جن کے جواب ڈھونڈنے میں وقت لگے گا۔ حقیقی خوشی اس بات کی ہورہی ہے کہ مجھے درست سمت میں معروضیت کیساتھ سوچنے کی سوچ ملی۔ اور اگر دیکھا جائے تو “سوچ” سے بہتر شائد ہی کچھ مل سکتاہے۔ سوچ سے ہی تو سچ کی کھوج لگانا ممکن ہوسکتاہے۔ شائد سوچ ہی ہے جو ہمارے معاشرے میں ناپید ہے اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے درست سوچ سے زیادہ شائد ہی کسی چیز کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں