education 2 13

تیری اذان میں نہیں ہے مری سحر کا پیام … شبیر بونیری

شبیر بونیری

الپ ارسلان ایک عظیم مجاہد صفت بادشاہ تھا ۔ اُس کے دور میں سلجوقیوں نے ترقی بھی کی اور سلطنت کے حدود کو وسعت بھی فراہم کی ۔ اُس کو اپنے بیٹے ملک شاہ کی فکر کھائی جارہی تھی کہ ملک شاہ کی تعلیم میں کوئی کمی نہ آئے اور اس کی وہ تمام ضرورتیں پوری ہوں جن کی وجہ سے آنے والے وقتوں میں ملک شاہ خود کو ایک بادشاہ کے ساتھ ساتھ ایک بہترین عالم کے طور پر بھی منوائیں ۔

یہ سلجوقیوں کی خوش قسمتی تھی کہ اُس دور میں نظام الملک طوسی جیسا مدّبر انسان حیات تھا ۔ نظام الملک طوسی کو الپ ارسلان نے اپنے باپ کی سفارش پر وزیر بنایا تھا ۔ نظام المک طوسی اور سلجوقی خاندان کا رشتہ آخر تک کیسا رہا یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ نظام المک طوسی نے تعلیم پر بہت ذیادہ توجہ دی اور ملک کے ہر حصے میں بڑے بڑے مدارس قائم کئے جن کو “مدارسِ نظامیہ” کہا جاتا تھا ان مدرسوں میں اس وقت کے بہترین معّلم معاشرے کو بہترین افراد دے رہے تھے اور یہی وجہ تھی کہ معاشرے میں تعلیم یافتہ افراد کی تشنگی بالکل نہ تھی امام غزالی بھی مدارس نظامیہ میں پڑھایا کرتے تھے ۔

یہ مدارس نظامیہ اس وقت کے مسلمان دنیا میں ہائیر ایجوکیشن میں اپنی مثال آپ تھے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ جس معیار کی تعلیم ان اداروں میں مل رہی تھی وہ طالب علموں کے اسلامی نظریات کو پروان چڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہورہی تھی ۔ حقیقیت یہ ہے کہ طوسی نے یہ ادارے بناکر مسلمان دنیا کی بہت بڑی خدمت کی ہے ۔

یہ دور تعلیمی انحطاط سے محفوظ رہا اور تاریخ شاہد ہے کہ بلند پایہ صوفی اور فلسفی امام غزالیؒ ، عظیم مصلح عبدالقادر جیلانیؒ ، فارسی کے مشہور شاعر عمر خیام اور مولانا جلال الدین رومیؒ کا تعلق اسی دور سے تھا ۔
ملک شاہ جب حکمران بنا تو تعلیم کی مد میں جو غیر معمولی اخراجات ہورہے تھے ان پر اس کو تشویش ہوئی اوراس نے نطام الملک طوسی کو بلا کر ان اخراجات پر اپنی فکر مندی ظاہر کی ۔

نظام الملک طوسی نے جب اس کی فکرمندی دیکھی تو انتہائی زبردست جواب دیا’ “اے بادشاہ! تیری فوج کے تیر تو فقط چند قدم پر کام دے سکتے ہیں لیکن جو فوج میں تیار کر رہا ہوں اس کے تیر زمین کے سارے طول و عرض میں موثر ثابت ہوں گے ۔”

ہم اگر سوچیں تو یہ حقیقت ہم پر واضح ہوجائیگی کہ ہمارے پاس امام غزالی جیسے استاد ، ملک شاہ جیسے شاگرد اور نظام المک طوسی جیسے ماہر تعلیم نہیں ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم چیزوں کی نیچر سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ ہمارا تعلیمی نظام ،ہمارے تعلیمی ادارے ، ہمارے اساتزہ اور ہمارے طالب علم مل کر بھی علم کی روشنیوں سے معاشرے کو منور کرنے میں ناکام ہیں ۔
ہمارا ایک تعلیمی نظام نہیں بلکہ ہمارے ہاں تین قسم کے طبقاتی نظام ہیں جن کی وجہ سے صرف مسائل پیدا ہورہے ہیں اور بدقسمتی سے یہ تینوں نظام ہم پر بغیر کسی تحقیق کے مسلط کئے گئے ہیں۔
پہلا ،انگلش میڈیم جہاں امراء کے بچے پڑھتے ہیں اور ان کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ جید دور کے تقاضوں سے خود کو کیسے ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔
دوسرا، اردو میڈیم جہاں غریب لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں اور ان کی گروومنگ اور صلاحیتیں قدرت کے حوالے کی جاتی ہے ۔ تیسرا، مدرسوں کا نظام ہے جہاں اسلامی علوم پر تو بہت فوکس دیا جاتا ہے لیکن جدید دور کی تعلیم پر اتنی توجہ نہیں دی جاتی ۔ یہ تین قسم کے نظام ہیں جن کی وجہ سے طبقاتی معاشرہ جنم لے رہا ہے ۔

ہم اگر اسلامی نظریات اور طالب علموں کی ذہن سازی کے متعلق تھوڑی سی بھی تحقیق کرلیں تو ایک سادہ سا نتیجہ سامنے ہوگا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں اسلامی نظریات،تاریخ اور عقائد کے حوالے سے بہت کم کام ہوتا ہے اور بجائے اس کے کہ طالب علموں میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کیا جائے ان میں مستقبل کا ڈر پیدا کرکے اُن کو ان دیکھے مقابلے میں الجھایا جاتا ہے ۔ یہاں طالب علموں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اوّل تو ان کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ہائیر ایجوکیشن کے لئے فیلڈ کی سلیکشن کیسے کریں ۔ بارہ سال سکول اور کالج میں کتابوں اور اساتزہ کے ساتھ رہنے کے بعد یہ فیصلہ کرنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ سکول میں بچے کی شخصیت پر اساتزہ کی فوکس ہوتی ہے اور نہ گھر میں والدین کی اور یہی بچہ جب کالج سے فارغ ہوتا ہے تو پھر نہ چاہتے ہوئے بھی اوروں کی خواہش پر ایسی فیلڈ کی سلیکش کردیتا ہے جس کے الف بے کا اس کو پتہ نہیں ہوتا اور پھر جب ڈگری ہاتھ میں آجاتی ہے تو مایوسی اور نظام کو گالیاں دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا ۔

کیرئیر کونسلنگ کا فقدان اور بچوں پر ایک مخصوص شعبے کو جوائن کرنے کے دباؤ نے ایک پوری نسل کو الجھن میں ڈال دیا ہے ۔ سکول اور کالج میں غیر نصابی سرگرمیوں کی کمی اور بچوں کی اضافی انتریکشن نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ۔ پچھلے دنوں ایک انتہائی پریشان طالب علم سے ملاقات ہوئی جو انٹرمیڈیٹ کے بعد فارغ تھا اور اس الجھن کا شکار تھا کہ مجھے اب آگے کیا کرنا چاہیئے ۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ والدین کی ضد ہے کہ میں ڈاکٹر بنوں اور میری یہ خواہش بالکل نہیں ہے اور نہ مجھ میں وہ صلاحیتیں ہیں جو ایک ڈاکٹر کے لئے ضروری ہوتی ہیں ۔ وہ ڈاکٹر تو نہیں بننا چاہتا تھا لیکن اس کے علاوہ بھی اس کو کسی چیز کا پتہ نہیں تھا کہ آگے جاکر کیا کرے ۔ استاد تعلیمی نظام کا انتہائی اہم ستون ہوتا ہے اور یہ استاد ہی ہوتا ہے جو بچے کی شخصیت پرکھ کر اس میں آگے بڑھنے کی سوچ پیدا کرتا ہے ۔ تکنیکی بنیادوں پر اگر ہم سوچیں تو ہمارے نظام کے اس اہم ستون کو روایتی طریقوں کے علاوہ پڑھانے میں دلچسپی نہیں ہوتی اور نہ اتنا وقت ہوتا ہے کہ ہر وقت اپنے طالب علم کے ساتھ مصروف رہے ۔ سکول اور کالج میں بچوں میں نئی چیزوں کو جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے بچے کی شخصیت میں نکھار لانا آسان ہوتا ہے لیکن کرنے اور نہ کرنے کا فرق ہوتا ہے۔

ہم جب تک پریکٹیکل ایجوکیشن کی طرف نہیں بڑھیں گے یہی رونا روتے رہیں گے ۔ یونیورسٹیز میں بھی بہت کم ہی ہمارے اساتزہ طالب علموں کے ساتھ خود کو انوالو رکھتے ہیں ۔ تحقیق پر بھی بہت کم توجہ دی جاتی ہے اور کلاس کے اندر وہی سکول اور کالجز کے رویتی طریقوں کا سہارا لے کر پڑھایا جاتا ہے ۔ انٹرنیٹ سے بنے بنائے سلائیڈز لے کر کلاس میں پڑھایا جاتا ہے اور پھر طالب علمو ں کو سی جی پی اے کی ڈراؤنی حقیقیت سے ڈرایا جاتا ہے ۔ یہاں نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہی رٹّے مار طریقے اپنائے جاتے ہیں اور تحقیق سے مکمل طور پر طالب علموں کو دور کیا جاتا ہے ۔ سی جی پی اے بہترین ہو تو بہت خوشی ہوتی ہے لیکن ساتھ ساتھ اگر تحقیق اور پریکٹیکل چیزوں کا تڑکا ہو تو پھر خود کو اور اپنے تعلیم کو ثابت کرنا آسان ہوتا ہے ۔

ہم جب تک تعلیم کو پریکٹیکل نہیں بنائیں گے خود کھبی بھی پریکٹیکل نہیں بن سکیں گے ۔ خود کو اور اپنی آئندہ نسلوں کو صحیح سمت دینے کے لئے اور اساتزہ کو ترجیحی بنیادوں پر دلچسپی لینی ہوگی کیونکہ جب تک استاد کی دلچسپی شامل نہیں ہوگی تب تک معاشرے میں یکسوں طالب علم سامنے نہیں آئیں گے ۔

تعلیمی نظام ،تعلیمی ادارے ،استاد اور طالب علم یہ چاروں مل کر ایک بہترین ریاست اور معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں بس تعلیم کو حقیقت میں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں