bio mack 10

پاکستان کی پہلی خاتون میکینک، عظمٰی نواز کی کام یابیوں کی داستان

ویب ڈیسک
ضلع لودھراں کی تحصیل، دُنیا پور کے ایک چھوٹے سے گائوں سے تعلق رکھنے والی دبلی پتلی سی لڑکی اپنی کام یابی کی داستان سُنا رہی تھی اور ہمیں یوں لگ رہا تھا، جیسے یہ سب باتیں حقیقت نہیں، کوئی گھڑا گھڑایا افسانہ ہوں۔ ایک ایسی کہانی، جس میں دیہات سے تعلق رکھنے والی ایک پُرعزم اور باہمّت لڑکی نے کانٹوں بھرے راستے کو اس حوصلے سے طے کیا کہ وہ آج دیگر لڑکیوں کے لیے ایک درخشاں مثال بن چُکی ہے۔ اس سفر میں کئی ایسے مواقع آئے، جہاں اچھے خاصے جوان بھی ہمّت ہار بیٹھیں، مگر اس دھان پان سی لڑکی اور اُس کے غریب والدین نے عزم و حوصلے کا دامن کسی طور نہیں چھوڑا۔ اور پھر جیسا کہ ہوتا آیا ہے، اس لڑکی کو بھی اُس کی محنت، صبر کا میٹھا پھل مل گیا ۔ وہ کام یاب ہوئی اور اس جداگانہ شان سے کہ اسے پاک وطن کی پہلی’’ خاتون میکینک ‘‘ کا اعزاز حاصل ہوگیا۔

پاکستان کی پہلی خاتون میکینک، عظمٰی نواز کی کام یابیوں کی داستان
جنوبی پنجاب کی تحصیل لودھراں کے چَک نمبر 389 ڈبلیو بی ویسٹ کی رہائشی، عظمیٰ نواز نے ثابت کر دِکھایا کہ عورت اگر کچھ کرنے کی ٹھان لے، ایک بار کوئی چیلنج قبول کرلے، تو پھر راہ کی بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی مٹّی کا ڈھیر ثابت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عظمیٰ نے نامساعد گھریلو حالات کے باوجود اپنا تعلیمی سلسلہ کبھی تَرک نہیں کیا۔ اُن کے والد، محمّد نواز گرمی کے موسم میں برف فروخت کرتے ہیں اور اُن کی چھوٹی سی پرچون کی دُکان بھی ہے۔ عظمیٰ کی دو بہنیں اور چار بھائی ہیں۔ بڑی بہن اور بھائی تو بس واجبی سی تعلیم حاصل کر سکے، تاہم باقی بہن، بھائیوں نے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ عظمیٰ نے پانچویں تک تعلیم گائوں کے سرکاری اسکول سے حاصل کی۔ اپنی ابتدائی تعلیم سے متعلق عظمیٰٗ نے ایک دِل چسپ واقعہ سُنایا کہ’’ شروع میں مجھے پڑھائی سے کوئی خاص دِل چسپی نہیں تھی۔ مَیں دن چڑھے تک سوئی رہتی۔ امّی کہتیں’’ تم جاہل رہ جائو گی اور باقی بچّے پڑھ لکھ جائیں گے‘‘ مگر مَیں پھر بھی ٹس سے مَس نہ ہوتی۔ پھر ایک روز ٹیچر نے اسکول سے زیادہ چھٹیاں کرنے اور پڑھائی پر توجّہ نہ دینے پر خُوب پٹائی کی، تو بس پھر وہ میری سُستی اور کاہلی کا آخری دن تھا۔ اُس کے بعد مَیں نے کبھی پڑھائی میں ڈنڈی نہیں ماری اور امّی بھی مجھ سے خوش اور مطمئن ہوگئیں۔‘‘ پانچ جماعتیں مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے عظمیٰ کو دوسرے چَک جانا پڑا تھا ۔ اس حوالے سے عظمیٰ نے بتایا’’ مَیں روزانہ اکیلی ہی پیدل اسکول آتی جاتی۔ کبھی کبھار راستے میں کوئی لڑکی بھی مل جاتی، مگر مجھے اکیلے جاتے ہوئے کبھی ڈر نہیں لگتا تھا۔ بہرحال آٹھویں جماعت کے بعد مَیں نے قریبی قصبے، بستی ملوک کے ایک نجی اسکول میں داخلہ لے لیا۔‘‘

عظمیٰ نے اپنی چیلنج قبول کرنے کی صلاحیت سے متعلق ہمیں بتایا کہ’’ مجھے ریاضی کا مضمون بہت مشکل لگتا تھا اور اسی حوالے سے اپنے آپ پر بے حد غصّہ بھی آتا۔ پھر ایک روز مَیں نے سوچا، ریاضی مشکل مضمون سہی، مگر اس میں مہارت حاصل کرنا ناممکن تو نہیں اور بس، پھر مَیں اسے سیکھنے میں جُت گئی۔ یہاں تک کہ کچھ ہی عرصے میں اس پر بہت حد تک عبور حاصل کرلیا۔ نیز،اسی بنیاد پر ایف ایس سی، پری انجینئرنگ سے کرنے کا فیصلہ کیا اور ایف ایس سی کا نتیجہ آیا، تو ریاضی میں، مَیں نے 200 میں سے 188 نمبرز حاصل کیے تھے، جب کہ مجموعی طور پر 1100 میں سے 922 نمبر حاصل کرکے میتھس گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ اس کے بعد کالج کے ایک استاد، سر ابراہیم نے انجینئرنگ میں داخلے کے لیے رہنمائی کی، کیوں کہ مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ مزید تعلیم کیسے اور کس طرح حاصل کرنی ہے۔ ٹیچر نے ابّو سے بات کی، تو وہ مطلوبہ رقم نہ ہونے کے باعث تعلیم جاری رکھنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے، مگر پھر سر ابراہیم نے ابّو کو جیسے تیسے منا ہی لیا۔‘‘ عظمیٰ نے ایک ماہ تک انجینئرنگ کے اینٹری ٹیسٹ کی تیاری کی اور پھر ٹیسٹ میں نمایاں نمبرز سے کام یابی کے بعد اُن کا نام میرٹ لسٹ میں آگیا۔ یہ مرحلہ تو طے ہوگیا، مگر اب گھر میں داخلے تک کے لیے پیسے نہیں تھے، تو یہ پہاڑ کیسے سَر ہوا؟ اس سے متعلق عظمیٰ نے بتایا’’ چھوٹا بھائی بھی ایف ایس سی کرچُکا تھا، اُسے بھی آگے پڑھانا تھا اور ابّو کی جیب خالی تھی کہ دُکان اور برف کی فروخت سے تو صرف گھر کا ہانڈی چولہا ہی چل سکتا ہے۔ ایسے میں بھابی کے کہنے پر بڑے بھائی، شاہد نواز نے اپنی بیوی، ارشاد بی بی کا زیور گائوں کے ایک شخص کے پاس گروی رکھ کر کچھ رقم حاصل کی۔ پھر دو ایکڑ اراضی پر کچھ درخت تھے، وہ کاٹ کر فروخت کیے۔ یوں رقم کا انتظام ہوا، تو ملتان کا رُخ کیا، جہاں جامعہ بہاء الدّین زکریا انجینئرنگ کالج کے میکینیکل ڈیپارٹمنٹ میں بی ایس پروگرام میں داخلہ لیا۔‘‘ عظمیٰ پہلے سیمسٹر میں 3.89 جی پی لے کر لڑکیوں میں اوّل قرار پائیں، تو اُنھوں نے اپنے استاد، اسد گردیزی کو اپنے مالی مسائل سے آگاہ کیا اور پھر اُن ہی کے مشورے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن میں اسکالرشپ فارم جمع کروا دیا۔ چوں کہ عظمیٰ کا تعلیمی ریکارڈ انتہائی شان دار تھا، سو، درخواست منظور ہوئی اور اُنھیں سالانہ 92 ہزار روپے اسکالر شپ کی مَد میں ملنے لگے۔

پاکستان کی پہلی خاتون میکینک، عظمٰی نواز کی کام یابیوں کی داستان
عظمیٰ نے ملتان میں اپنی رہائش کے متعلق ایک سوال کے جواب میں بتایا’’ چوں کہ میرا بھائی بھی مزید تعلیم کے لیے ملتان منتقل ہوگیا تھا اور ہم دونوں کے لیے ہاسٹل میں رہائش رکھنا ممکن نہیں تھا، اس لیے ہم نے یونی ورسٹی کے قریب ہی 35 سو روپے ماہانہ کرائے پر ایک گھر حاصل کرلیا۔ جس کے بعد دوسرا بھائی بھی پڑھنے کے لیے ملتان آگیا۔ کھانا پکانا، صفائی، برتن دھونا، کپڑوں کی دُھلائی اور استری وغیرہ جیسے کام تو مَیں ہی کرتی، مگر دونوں بھائی، شہزاد اور شہباز بھی میرا بہت ہاتھ بٹاتے۔‘‘ عظمیٰ کا ایک بھائی بھی اُسی یونی ورسٹی کے ایگری کلچر ڈیپارٹمنٹ میں زیرِ تعلیم تھا، تو اس بنیاد پر اُنھیں Kinship اسکالرشپ ملنے لگی۔ دوسری جانب، جب بھی عظمیٰ امتحانات میں پوزیشن لیتیں، تو اُنھیں 10 ہزار روپے بہ طور اسکالر شپ ملتے، یوں اُنھیں اپنے تعلیمی اور رہائشی اخراجات پورے کرنے میں مدد ملتی رہی۔ رواں برس عظمیٰ نے’’3.71‘‘ CGPA کے ساتھ میکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ تاہم، دَورانِ تعلیم ہی اُنھیں احساس ہوگیا تھا کہ اگر ڈگری کے ساتھ تجربہ بھی ہو، تو ہی نئے گریجویٹس کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ لہٰذا، یونی ورسٹی کے قریب ہی واقع کاروں کی ایک معروف کمپنی کے سروس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے کی ٹھانی۔

پاکستان کی پہلی خاتون میکینک، عظمٰی نواز کی کام یابیوں کی داستان
والد اور والدہ کے ساتھ
اگرچہ، کار کمپنی کے ذمّے داران نے اُنھیں آفس ورک کی پیش کش کی تھی، مگر عظمیٰ نے گاڑیوں کی سروس ہی کو ترجیح دی تاکہ وہ تھیوری کے ساتھ، عملی طور پر بھی مہارت حاصل کرسکیں۔ وہ صبح ساڑھے نو بجے ورکشاپ پہنچتیں اور شام چھے بجے گھر واپس لَوٹتیں۔ قبل ازیں مذکورہ ورکشاپ سے اُنہو ں نے2016 ء میں چار ماہ کی انٹرن شپ بھی کی، اس لیے کسی خاص پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ورکشاپ میں مَردوں کے ساتھ اکیلی لڑکی کا کام کرنا، ہمارے ہاں معیوب تصوّر کیا جاتا ہے۔ سو، عظمیٰ کے والد بھی طرح طرح کے تحفّظات و تذبذب کا شکار تھے، مگر بیٹی کی خود اعتمادی اور اپنی ذات پر بھروسے نے والدین کو فیصلہ کرنے میں مدد دی۔ عظمیٰ نے بتایا’’ دراصل، ابّو جانتے ہیں کہ اُن کی بیٹی جو بھی قدم اٹھائے گی، وہ نہ صرف اُس کی اپنی ذات، بلکہ والدین اور تمام اہلِ خانہ کے لیے بھی بہتر ہوگا۔‘‘ یعنی گائوں سے تعلق رکھنے والی، عظمیٰ کی ذات میں اعتماد اور خود اعتمادی کی جھلک، اُس کے اپنوں کے دیے گئے بھروسے ہی کا عکس ہے۔ والدین کو راضی کرنے کے بعد اگلی منزل ورکشاپ میں کام کرنا تھا، تو عظمیٰ نے بھاری بھر کم مشینری اٹھا کر عورت کے کم زور ہونے کی بھی نفی کردی کہ وجود نازک سہی، لیکن اگر ارادے فولادی ہوں، تو پھر کوئی مشکل، مشکل نہیں رہتی اور یہ اپنے کام سے لگن ہی تھی کہ عظمیٰ نے ورکشاپ میں کام کرنے والے مَردوں کے برابر کھڑے ہو کر کسی بھی کام کو عار نہ سمجھا اور نہ ہی عورت ہونے کا غیر ضروری فائدہ اٹھایا۔ اسی لگن اور محنت کا نتیجہ ہے کہ آج عظمیٰ نے پاکستان کی پہلی’’ میکینک خاتون‘‘ ہونے کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔ گائوں میں کھیت کی پگڈنڈیوں میں گرم و سرد سے بے خبر، کچھ کرنے کی دُھن نے عظمیٰ کو اپنے خوابوں کی منزل دے دی ہے۔ وہ منزل، جس کے پیچھے زندگی کے چوبیس سال کی جدوجہد پوشیدہ ہے۔

ورکشاپ ایک ایسی جگہ ہوتی ہے، جہاں عورت کو ہراساں کیا جانا قدرے آسان تصوّر کیا جاتا ہے، تاہم اس حوالے سے عظمیٰ کے تجربات کچھ مختلف رہے۔ اُنہوں نے بتایا’’ جس کمپنی کی ورکشاپ میں، مَیں کام کر رہی تھی، وہاں کے قوانین اور انتظامی امور بہت اچھے تھے، پھر یہ کہ اگر عورت اپنی حدود سے تجاوز کرے گی، تو ہی نقصان اٹھائے گی۔ آپ کی ظاہری و باطنی شخصیت، آپ کے لیے ڈھال کا کام کرتی ہے۔ سو، اگر عورت اپنے کام سے کام رکھے، تو پھر کوئی بھی اُسے گزند نہیں پہنچا سکتا۔‘‘ عظمیٰ نے ’’حرکت میں برکت ہے‘‘ کے محاورے کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ جس عُمر میں لڑکیاں سجنے سنورنے پر توجّہ مرکوز رکھتی ہیں، وہ اُس عُمر میں بہتر زندگی کے سپنے کی تعبیر کے لیے تگ و دَو کرتی رہیں۔ دَورانِ تعلیم بھی جہاں کسی خالی اسامی کا اشتہار دیکھا، اپلائی کردیتیں تاکہ تعلیم مکمل ہوتے ہی اچھی ملازمت مل جائے اور ورکشاپ میں کام بھی اسی سوچ کی کڑی تھی۔ عظمیٰ کو ڈگری ملتے ہی لاہور کی ایک کار کمپنی میں’’ انسپیکشن اسپیشلسٹ‘‘ کی ملازمت مل چُکی ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ’’ مَیں زندگی بھر اپنے بھائی اور بھابی کا احسان نہیں بھول سکتی کہ جب تعلیم جاری رکھنا قریباً ناممکن ہو چُکا تھا، تو اُنہوں نے ساتھ دیا۔ وگرنہ تو آج رشتے اس قدر عارضی اور سطحی ہوچُکے ہیں کہ کوئی کسی کو مُسکراتا دیکھنے کا بھی روادار نہیں ہے۔‘‘عظمیٰ کی زندگی بہت دشوار گزری۔ گائوں میں سہولتوں کا فقدان تو ہوتا ہی ہے، مگر سرمائے کا نہ ہونا بھی تکلیف دہ اَمر تھا۔ عظمیٰ نے بچپن سے اپنے ابّو کو بہت کٹھن وقت گزارتے دیکھا کہ بچّوں کی تعلیم کے لیے پیسے نہ ہوتے، تو دوسروں سے اُدھار لے کر بچّوں کی ضروریات پوری کرتے۔ فیس کی ادائی نہ ہونے پر نکال دیا جاتا، تو اگلے روز ابو پیسوں کا انتظام کر کے اسکول واپس چھوڑ آتے۔ عظمیٰ کو جہاں معاشی مسائل کا سامنا رہا، وہیں سماجی مسائل بھی منزل کے حصول میں آڑے رہے۔ عزیز واقارب اور گائوں والوں کی زبان پر وہی بات رہتی کہ’’ بیٹی ذات ہے، اتنی آزادی نہ دو۔ کوئی غلط قدم اٹھالے گی۔ ویسے بھی بیٹیاں تو پرایا دَھن ہوتی ہیں، لکھا پڑھا کر کیا کرنا۔‘‘مگر یہ باتیں، جیسے تازیانے بن کر عظمیٰ کی سوچ کو منفی کی بجائے، مثبت سمت میں لے کر مضبوط تر کرتی چلی گئی۔ وہ والدین کے ساتھ، اپنے محترم استاد، سر ابراہیم کی بھی شُکر گزار اور اُن کے لیے دِل سے دعا گو ہیں کہ اُنہوں نے استاد ہونے کا حق ادا کردیا۔ بلاشبہ، ایسے اساتذہ مُلک و قوم کا سرمایہ ہیں۔ عظمیٰ نے اپنی زندگی تو بدلی، ساتھ ہی اپنے گائوں کی سوچ بھی بدل ڈالی کہ اب گائوں کا ہر گھرانہ اپنی بیٹی کو تعلیم دلوانے کا خواہش مند ہے۔

پاکستان کی پہلی خاتون میکینک، عظمٰی نواز کی کام یابیوں کی داستان
عظمیٰ کی اس اَن تھک محنت، ہمّت وجستجو کے احساسات و جذبات کو معاشرے میں خوش بُو کی مانند بکھیرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو بھی اپنی راہیں متعیّن کرنے میں آسانی ہو۔ ایسی بیٹی کی دُعا تو ہر والدین کو کرنی چاہیے کہ جس نے اپنے گائوں میں ہی نہیں، بلکہ مُلک بھر میں اپنےوالدین کا سر فخر سے بلند کردیا۔ سب سے اہم بات یہ کہ ایک نایاب ہیرا، محنتِ شاقّہ کے بعد وطن کی خدمت میں مصروف ہوگیا۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ ناقدری کے شکار ایسے قیمتی جواہرات ڈھونڈ ڈھونڈ کے مُلکی ترقّی کے دھارے میں شامل کرے تاکہ مُلک حقیقی معنوں میں’’ نئے پاکستان‘‘ کی عملی تفسیر بن سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں