china 5

گلوبلائزیشن نے جنگل کے قانون کا خاتمہ کر دیا،چینی صدر

شنگھائی۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے کہاہے کہ گلوبلائزیشن نے جنگل کے قانون کا خاتمہ کر دیا، چین درآمدات بڑھا کر عالمی برادری سے تعلقات مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے، تمام ممالک کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔

اس وقت دنیا بھر کے ممالک کو مشترکہ چیلنجز اور خطرات کا سامنا ہے،تمام ممالک کیلئے چین کے دروازے مزید وسیع کریں گے، د،چین دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی فرق ختم کرنا چاہتا ہے۔

تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ یک طرفہ نظام کے خلاف متحدہ ہو جائیں،ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے دنیا میں انقلاب برپا کر رکھا ہے، چین دنیا کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کرے گا، ہم اقوام عالم کے لیے تجارت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کریں گے، چین دو طرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کو فروخ دے گا،چین کی درآمدات آئندہ 15 سال میں 30 ٹریلین ڈالر ہوجائیں گی،تین سو کھرب امریکی ڈالرزکی مصنوعات درآمد کی جائیں گی اور سو کھرب ڈالرز خدمات کی مد میں صرف کئے جائیں گے۔

چین کسٹم ڈیوٹی میں مزید کمی لائے گا اور درآمد کنندگان کی سہولت کے لئے اس نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔چینی صدر مملکت شی جن پنگ نے پہلی چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں شرکت کی اور ” تخلیق ، اشتراک اور کھلے پن پر مبنی عالمی معیشت کی مشترکہ تعمیر “کے مو ضوع پر خطاب کیا ۔ شی جن پنگ نے چینی حکومت اور عوام کی جانب سے ایکسپو میں شریک ایک سو بہتر ممالک ، علاقوں ، بین الاقوامی تنظیموں اور تین ہزار چھ سو سے زائد کاروباری اداروں سے آئے ہوئے افراد کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا ۔

سی آر آئی کے مطابق انہوں نے امید ظاہر کی کہ مختلف ممالک کے دوست چین کی ترقی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے مشترکہ خوشحالی اور ترقی کے لئے کوششیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو درآمد ات کے موضوع پر دنیا کی پہلی قومی ایکسپو ہے۔ یہ بین الاقوامی تجارت کی ترقی کی تاریخ میں بڑا اقدام ہے۔شی جن پھنگ نے کہا ایکسپو کا انعقاد چین میں اصلاحات و کھلے پن کے نئے دور کو فروغ دینے کیلئے ایک اہم فیصلہ ہے۔

یہ چین کی جانب سے دنیا کے لیے اپنی مارکیٹ کھولنے کے لیے بھی اہم اقدام ہے۔ اس ایکسپو کے ذریعے کثیرالجہتی تجارتی نظام کی حمایت، آزاد تجارت کے فروغ کے حوالے سے چین کے موقف کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ کھلے عالمی معیشت کے فروغ اور اقتصادی گلوبلائزیشن کی حمایت کے لئے چین کا حقیقی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا شنگھائی میں امید ظاہر کی کہ مختلف ممالک مزید ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلے پن اور تعاون کو مثبت انداز میں فروغ دیں گے اور مشترکہ ترقی پر عملدرآمد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی معیشت میں گہری تبدیلیاں آرہی ہیں۔تحفظ پسندی اور یکطرفہ پسندی دوبارہ نظر آرہی ہیں۔اس وقت اقتصادی عالمگیریت کو متعدد چیلنچز درپیش ہیں۔ جن سے کثیرالطرفہ پسندی اور آزاد تجارتی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔ عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اس صورتحال میں لوگوں کو ضوابط اور ترقیاتی رجحان کے مطابق کھلے پن اور تعاون کے اعتماد کو مضبوط بنانا چاہیئے اور خطرات اور چیلنچز سے مشترکہ طور پر نمٹنا چاہیے۔

شی جن پنگ نے پرزور الفاظ میں کہا کہ اقتصادی عالمیگریت ایک نا قابل واپسی تاریخی رجحان ہے۔ کھلے پن کی پالیسی اور تعاون عالمی اقتصادی و تجارتی وحدت کو قوت حیات بخشنے اور مضبوط بنانے کے لئے اہم قوتیں ہیں اور عالمی اقتصادی استحکام اور بحالی کو فروغ دینے کے حقیقی مطالبے ہیں اور انسانی معاشرے کی مسلسل ترقی کو آگے بڑھانے کے زمانی مطالبے ہیں۔

صدر ملکت شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں تمام ممالک سے اپیل کی کہ روابط اور تعاون کو توسیع دے کر تخلیق کو اہمیت دیتے ہوئے اشتراک اور مفادات کے مشترکہ حصول کی بنیاد پر ترقی کو آگے بڑھائیں ۔انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کو تجارتی تحفظ پسندی اور یک طرفہ پسندی کی مخالفت جبکہ کثیرالجہتی اور دو طرفہ تعاون کے معیار کو بلند کرنے کی حمایت کرنی چاہیئے اور کھلے پن پر مبنی عالمی معیشت کے قیام کی کوشش کرنی چاہیئے ۔

انہوں نے کہا کہ معقول ، منصفانہ اور شفاف بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی نظام کے قیام اور آزاد تجارت اور سرمایہ کاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے کوشش کی جا نی چاہیے ۔ شی جن پنگ نے مزید کہا کہ مختلف ممالک کو سائنسی و تکنیکی انقلاب کے نئے دور کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈیجیٹل معیشت ،مصنوعی انٹیلی جنس اور نینو ٹیکنالوجی سمیت جدیدتریں شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہیئے ۔

انہوں نے کہا کہ اشتراک ، تعاون اور مشترکہ مفادات کے حصول کی بنیاد پر مشترکہ ترقی دنیا کے لئے درست راستہ ہے ۔ شی نے کہا کہ کھلے پن کی پالیسی موجودہ چین کا منفرد نشان بن گیا ہے۔ اصلاحات و کھلے پن پر عمل درآمد کے چالیس برسوں میں چین اپنی مارکیٹ کو کھول کر ترقی کو فروغ دینے کے راستے پر گامزن ہے۔ جس سے چین میں بند یا نیم بند کرنے سے مکمل کھولنے تک کی عظیم تاریخی تبدیلی آئی ۔

چین کھلے پن کو مسلسل فروغ دیتا رہا ہے۔ جس سے نہ صرف اپنی ترقی کو مضبوط بنایا گیا، بلکہ پوری دنیا کی ترقی کے لئے مدد بھی فراہم کی گئی ہے۔ اعلی سطحی کھلے پن کے فروغ، کھلی عالمی معیشت کی تعمیر اور انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے حوالے سے چین کا یہ اقدام جاری رہیگا۔ انہوں نے پرزور الفاظ میں کہا کہ چین باہمی مفادات کی بنیاد پر کھلے پن کی حکمت عملی پر عمل درآمد کرتا رہے گا۔

چین ہمیشہ کے لئے عالمی اصلاحات و کھلے پن کا اہم شریک ہے، عالمی اقتصادی ترقی کی مستحکم قوت ہے، مختلف ملکوں کے درمیان تجارتی مواقع کو فروغ دینے والا ہے اور عالمی انتظامی اصلاحات کے لئے خدمات سرانجام دینے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پندرہ برسوں کے دوران چین ایک محتاط اندازے کے مطابق چار سو کھرب امریکی ڈالرز کی درآمدات کرے گا۔ جن میں سے تین سو کھرب امریکی ڈالرزکی مصنوعات درآمد کی جائیں گی اور سو کھرب ڈالرز خدمات کی مد میں صرف کئے جائیں گے۔

چین کسٹم ڈیوٹی میں مزید کمی لائے گا اور درآمد کنندگان کی سہولت کے لئے اس نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا ۔سرحد پارای کامرس سمیت دیگر نئی صنعتوں کی ترقی کو تیز رفتاری سے فروغ دیا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ مالیاتی شعبے میں کھلے پن کو توسیع دی جائے گی اور تعلیمی اور طبی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تناسب میں اضافہ کیا جائے گا۔

شی جن پنگ نے مزید کہا کہ چین چاہتا ہے کہ علاقائی جامع اقتصادی ساتھی کے تعلقات کے معاہدے کو جلد از جلد فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کے حوالے سے چین اور یورپ کے معاہدے سے متعلق بات چیت کو تیز کیا جائے گا اور چین-جاپان -جنوبی کوریا آزاد تجارتی زون سے متعلق مذاکرات کے عمل کو بھی تیز کیا جائے گا۔ انہوں کہا کہ کھلے پن کی پالیسی موجودہ چین کا منفرد نشان بن گیا ہے۔ اصلاحات و کھلے پن پر عمل درآمد کے چالیس برسوں میں چین اپنی مارکیٹ کو کھول کر ترقی کو فروغ دینے کے راستے پر گامزن ہے۔

جس سے چین میں بند یا نیم بند کرنے سے مکمل کھولنے تک کی عظیم تاریخی تبدیلی آئی ۔ چین کھلے پن کو مسلسل فروغ دیتا رہا ہے۔ جس سے نہ صرف اپنی ترقی کو مضبوط بنایا گیا، بلکہ پوری دنیا کی ترقی کے لئے مدد بھی فراہم کی گئی ہے۔ اعلی سطحی کھلے پن کے فروغ، کھلی عالمی معیشت کی تعمیر اور انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے حوالے سے چین کا یہ اقدام جاری رہیگا۔

انہوں نے پرزور الفاظ میں کہا کہ چین باہمی مفادات کی بنیاد پر کھلے پن کی حکمت عملی پر عمل درآمد کرتا رہے گا۔ چین ہمیشہ کے لئے عالمی اصلاحات و کھلے پن کا اہم شریک ہے، عالمی اقتصادی ترقی کی مستحکم قوت ہے، مختلف ملکوں کے درمیان تجارتی مواقع کو فروغ دینے والا ہے اور عالمی انتظامی اصلاحات کے لئے خدمات سرانجام دینے والا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشتوں کے مقابلے میں چین کی اقتصادی ترقی کی شرح پیش پیش رہی ہے۔ اور طویل المدتی صحت مند ترقی کی پوری شرائط موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی معیشت کی اچھی ترقی کا رجحان جاری ہے۔چینی حکومت اصلاحات کو مزید گہرائی تک لے کے جائیگی۔ دوسری طرف چینی صدر نے تسلیم کیا کہ اس وقت چینی معیشت کی ترقی کے سلسلے میں کچھ مسائل درپیش ہیں۔

کچھ شعبوں میں نقصان کے خطرے کا اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی معیشت جھیل کی بجائے ایک سمندر کی مانند ہے۔ جو جلد ہی اعلی معیار کی حامل ترقی کے راستے پر واپس آ جائیگی۔چین نے پانچ تاریخ کو شنگھائی سمیت علاقوں میں کھلے پن کے فروغ کے لئے تین اہم پالیسیوں کا اعلان کیا ہے۔چین کے صدر شی جن پنگ نے شنگھائی میں کہا کہ چین شنگھائی آزاد تجارتی زون کا نیا علاقہ قائم کرے گا۔

جس کے ذریعے سرمایہ کاری اور آزاد تجارت کے حوالے سے سہولتوں سے متعلق تجربات کو ملک بھر میں متعارف کرنے کے لئے شنگھائی کی حوصلہ افزائی اور حمایت کی جائے گی۔ شنگھائی سٹاک ایکسچینج میں سائنسی و ٹیکنالوجی کی تخلیق کا سیکٹر اور رجسٹریشن کا نظام قائم کیا جائے گا۔ شنگھائی بین الاقوامی مالیاتی مرکز اور ٹیکنالوجی انوویشن سینٹر کی تعمیر میں معاونت کی جائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ، شنگھائی، زے جیانگ اور جیانگ سو سمیت دریائے یانگسی کے ڈیلٹا علاقے کی ترقی کو قومی حکمت عملی کے تحت فروغ دینے کی حمایت کی جائے گی۔ جس سے دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر ، بیجنگ تھیان جن حے بے کی ترقی، دریائے یانگسی کی اقتصادی پٹی کی ترقی اور گوانگ دونگ ہانگ کانگ مکاو گرینڈ بے ایریا کی ترقی کو ہم آہنگی سیفروغ دیا جائے گا اور چین میں اصلاحات و کھلے پن کیڈھانچے کو بہتر بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں