kachra colony 13

پشاور کرسچن کالونی یا کچرا کالونی

صبا رانی پشاور
گھروں میں ہر طرف ناقابل برداشت بدبو، اشیاء خوردونوش پر بھنبھنای مکھیاں اور اور پینے کو گندا پانی اور گھر کے سامنے دور دور تک کچرے کے پہاڑ ، یہ مناظر رنگ روڈ پر واقع کرسچن کالونی کے ہیں جو کچرا کالونی کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ کالونی پشاور کی کچرا کنڈی کے کنارے پر واقع ہے جو 1994میں گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے بنائے گئے ٹریٹمنٹ پلانٹ پر اسلیے بنائی گئی کیونکہ شہر بھر میں گند پھینکنے اور بعدازں تلف کرنے کے لیے کوئی جگہ موجود ہی نہ تھی ۔اس کچرا کنڈی میں شہر بھر کا تقریبا 800ٹن کچرا روزانہ کی بنیاد پر پھینکا جاتا رہا تاہم رواں سال جون کے مہینے میں پشاور کے نواحی علاقے شمشتو میں819کنال پر نئی کچرا کنڈی کے قیام کے باوجود ابھی تک اس ٹریٹمنٹ پلانٹ کو آلودہ پانی کو صاف کرنے کے لیے استعمال میں نہین لایا جا سکا۔

کرسچن کالونی کے اکثر رہائشی کارپوریشن کے ملازمین اور خاکروب ہیں جو شہر کے دیگر حصے کو تو روز صاف کر دیتے ہیں مگر اپنے ہی گھروں کے باہر سو کنال سے زائد اراضی پر واقع کچرا کنڈی کو صاف کرنا شاید ان کے بس میں نہیں۔ یہ کالونی میسیحی برادری کو 2010میں اس وقت دی گئی جب لاہوری میں تجاوازت کے خلاف اپریشن کرتے ہوئے وقت کے ڈپٹی کمشنر سراج احمد خان نے ان کے گھروں کو مسمار کردیا۔ اس وقت ڈپٹی کمشنر سراج احمد نے یہاں آباد ہونے والی مسیحی برادی کو یہ وعدہ بھی کیا کہ جلد از جلد یہ کچرا یہاں سے صاف کر کے انھیں ہر طرح کی سہولیات مثلا صاف پانی ، بجلی اور گیس کے ساتھ تعلیم اور صحت کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ مگر حکومتی دعوے ہمیشہ کی طرٖح دعوے ہی ثابت ہوئے اور ان مسیحوں کے مسائل آج تک حل نہ ہوپائے۔ دوسروں کے دفاتر، گھروں اور محلوں کی صفائی کرنے والوں کے اپنے گھروں میں ایسی بدبو ہر وقت پھیلی رہتی ہے کہ سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے۔ گندگی پر پھیلے مچھر جہاں مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں وہیں جب بھی شہر میں کوئی جانور مر جاتا ہے تو اس دفناے کی بجائے یہاں پھینک دیا جاتا ہے جس سے آلودگی بھری فضا میں مزید تعفن پھیل جاتا ہے۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ پشاور میں پھیلے چوہوں کے خلاف آپریشن کے بعد جتنے چوہے مارے گئے ان کی لاشوں کو بھی تلف کرنے کی بجائے یہیں پھینکا جاتا رہا ۔ جس سے ان مسیحوں کی زندگی مزید اجیرن ہوگئی۔ کرسچن کالونی کی رہائشی مسیحی خاتون نسیمہ بی بی کا کہنا ہے کہ کچھ ہی دن پہلے ہمارے گھر کے سامنے بنے کچرے کے ٹیلے پر کوئی مردہ گھوڑا چھوڑ گیا جس سے پھیلی بدبو سے میرے بچے بیمار ہونے لگے۔ یہاں کے لوگ اکثر ڈینگی ، ملیریا اور گندا پانی پینے سے پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں لیکن نہ ہی قریب کوئی ہسپتال ہے نہ ہی کوئی ڈسپنسری اس علاقے میں واقع ہے۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ گندی اور کچرے سے بھرے علاقے میں اکثر پانی کے پائپ ٹوٹ جاتے ہیں جس سے پانی الودہ ہوکر مختلف بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ بات یہیں ختم نہین ہوتی بلکہ میسحی برادری کی عبادت گاہ بھی عین اس کچرا کنڈی کے کنارے واقع ہونے کے باعث گندگی میں اٹی رہتی ہے۔ اس آبادی کے رہائشی سیمسن کے مطابق جون 2018 میں نئی کچرا کنڈی کے قیام کے بعد اب تک حکومت کو اس جگہ کی صفائی اور یہاں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام کو یقینی بنانا چاہیے تھا مگر ابھی تک یہ جگہ اس حالت میں ہے جیسے 2010میں تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں