kohaTi chruch 10

پشاور کوہاٹی گرجا گھر اور مسیحی برادری

صبا رانی پشاور
پشاور کے وسط میں واقع کوہاٹی گرجا گھر اور اسی کے نزدیک آباد مسیحی برادری گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے تین گوداموں میں رہائش پذیر ہے ۔جن میں ایک گول گودام ، دوسرا سنڈا گودام اور تیسرا تیل گودام کے نام سے مشہور ہیں۔ ان گوداموں کو ماضی میں انگریز ناموں کے حساب سے گائے بھینس پالنے ، سڑکوں اور گزر گاہوں پر لگے لالٹین میں بھرنے والا تیل سٹور کرنے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے ،آزادی کے بعدیہ گودام مسیحی برادری کو رہنے کے لیے کوارٹرکے طور پر فراہم کئے گئے۔ رقبے کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ان گوداموں میں سب سے بڑا تیل گودام تقریبا 3کنال پر واقع ہے جس میں 55خاندان آباد ہیں۔ اسی طرح دوسراے نمبر پر سنڈا گودام 2کنال اراضی پر تقریبا 35 خاندان کا مسکن ہے جبکہ تیسرااور سب سے چھوٹا گودام ڈیڑھ کنال کی زمین پر مشتمل ہے جس میں 25خاندان رہائش پذیر ہیں ۔ ان گوداموں میں اس وقت بھی ایک ہزار سے زائد مسیحی اپنی زندگی کے دن چھوٹے چھوٹے ایک یا دو کمروں کے کوارٹر میں گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہر خاندان کے ممبران کی تعداد کم از کم چار سے پانچ افراد پر مشتمل ہے۔

نسلوں سے اس کچی آبادی میں رہنے والے مسیحی افراد نے اب حکومت سے یہ گلا کرنا بھی چھوڑ دیا کہ انھیں زندہ رہنے کے لیے کوئی ایسی جگہ فراہم کی جائے جہاں کبھی کھلی ہوا کا گزر بھی ہو جاتا ہو۔ دم گھوٹتاماحول اور تنگ ترین گلیوں میں صفائی کی ابتر صورتحال کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ کھڑا گندا پانی نا صرف ان گوداموں کے رہنے والوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کیے رکھتا ہے بلکہ ہر آنے جانے والے کے لیے شدید کوفت کا سبب بھی بنتا ہے۔ اشیاء خوردونوش پر مکھیوں کی بھنبھناہٹ ، ایک ہی کمرے کے کوارٹر میں موجود غسل خانوں کی بدبو اور اسی کمرے میں بنایا گیا چھوٹا سا باورچی خانہ ان گوداموں میں رہنے والی کی حالت زار بتانے کے لیے کافی ہے ۔ اس طرح گوداموں کے سامنے سے گزرتا نالہ بھی بچوں اور دیگر افراد کے لیے گندگی کا سبب بنا ہوا ہے۔ پیسے کے حوالے سے یہاں آباد مسیحی برادری یا تو کسی سرکاری محکمے میں کلاس فور کی ملازم ہے یا پھر کارپوریشن میں بھرتی کسی چھوٹی سی ملازمت پر مامور ہیں۔

سرسٹھ سالہ ولیم بھٹی کے مطابق یہ کوارٹر ان کے دادا کو الاٹ کیا گیا جس کے بعد ان کے والد اور اب یہ خود بھی اسی ایک کمرے کے کوارٹر میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ ان کے بچے بھی اسی کوارٹر میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی سالوں تک امید لگائے بیٹھے تھے کہ حکومت ہمارے لیے کوئی سکیم بنا کر ہمیں بھی عزت سے رہنے کا حق فراہم کرے گی لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ شہر بھر کے مختلف گرجا گھروں کے قریب کئی کنال پر مشتمل زمین ابھی بھی خالی پڑی ہیں جنہیں گزشتہ حکومت نے ان گودام میں رہائشی افراد کو عطیہ کی جائیں لیکن ان گرجا گھروں کی دیکھ بھال کرنے والوں اور ان کی جانب سے قایم کمیٹیوں نے اپنی ہی برادری کوملنے والی اس زمین پر عدالت عالیہ سے حکم امتناعی جاری کروایا۔

مشیر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا برائے اقلیتی امور روی کمار نے ان گوداموں میں بسنے والوں کی حالت زار اور مکانوں کی صورتحال کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے کئی مرتبہ ان گرجا گھروں میں قائم کمیٹیوں سے ارد گرد کی اراضی کو مسیحی برادری کے مفاد میں لاتے ہوئے ان کی رہائش کا مناسب بندوبست کرنے کو کہا لیکن ہر بار ان کی جانب سے انکار ہی ملا۔ روی کمار کا کہنا ہے کہ 2017میں بیس لاکھ روپے سے تیل گودام میں تقریبا 34 گھروں کی مرمت کی گئی لیکن ابھی بھی ان کے کئی کوارٹر رہائشیوں کے لیے خطرہ ہیں۔ ان کے مطابق موجود بجٹ میں اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش اور مرمت کے لیے ڈیڑھ کروڑ رپوے مختص کیے گئے ہیں جنہیں وقتا فوقتا استعمال کیا جاتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں