book 33

پشتو میں سائنسی موضوعات پرلکھی گئی کتاب منظرعام پر

پشاور۔
پروفیسر ڈاکٹر یاسین اقبال کی تصنیف خاورے کہء لعلونہ (مٹی یا ہیرے؟ ) جسکا پشتو کے طلبا کو ایک عرصے سے انتظار تھا منظرعام پر آگئی۔یہ کتاب مذکورہ طلبا کے ساتھ ساتھ دوسرے معاشرتی اور سائنسی مضامین کے طلبا، والدین، تعلیمی اداروں کے سربراھان اور سائنسی اور تعلیمی پالیسی بنانے والے سرکاری اکابرین کے لئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ اس کتاب میں سائنسی طرز فکر، صوبے کی آبادی اور جغرافیہ، نظام تعلیم ، صوبے کے قدرتی وسائل اور اقتصاد کے علاوہ مادیات اور ہمارے تعلیمی اداروں کے مسائل پر بھی علیحدہ علیحدہ اسباق لکھے گئے ہیں ۔

یاد رہے کہ پروفیسر یاسین اقبال پچھلے تیس سال سے تعلیم وتحقیق سے وابستہ رہے ہیں۔ موصوف جامع پشاور کے مادیاتی تحقیقی تجربہ گاہ کے بانی ہیں اور برطانیہ کے تعلیمی اور صنعتی اداروں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ترقیافتہ ممالک کے تعلیمی اور صنعتی اداروں کے درمیان روابط اور ان اقدامات اور عوامل سے واقف ہیں جن کے بدولت سائنس معاشرے کی ترقی کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور ترقیافتہ ممالک نے ترقی کے منازل طے کئے ہیں ۔

اس لئے اس کتاب کا اولین مقصد یہ ہے کہ اگر طلبا، عوام اور سرکاری پالیسی ساز چاہیں تو اس سلسلے میں اس کتاب سے استعفادہ کرسکتے ہیں۔ یہ کتاب سائنسی اور معاشرتی علوم کے محققین کے لئے بھی نہایت کارآمد ہے کیوں کہ اس میں تحقیقی مقالوں اور مقاصد پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔یہ کتاب پشتو اکیڈمی کے بک شاپ میں دستیاب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں