Fuzia 10

’امریکا عافیہ صدیقی کو بعض شرائط پر واپس کرنے کو تیار‘

کراچی: (ویب ڈیسک) عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا پاکستان سے بعض شرائط منوانے کے بدلے عافیہ صدیقی کو لوٹانے کے لیے تیار ہے۔

امریکی جیل میں قید پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا پاکستان سے کچھ چیزیں چاہتا ہے اور ان کے عوض وہ عافیہ صدیقی کو پاکستان لوٹانے کے لیے تیار ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق فوزیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ امریکا کی جانب سے اس طرح کے لیے اشارے ملے ہیں لیکن ان مطالبات کے بارے میں تفصیلات وہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات سے پہلے بیان نہیں کر سکتیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں عافیہ صدیقی نے وزیراعظم عمران خان کے نام پیغام میں کہا ہے کہ وہ پاکستان آنا چاہتی ہیں۔

عافیہ صدیقی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ عمران خان کو اپنے ہیروز میں سے ایک گنا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان تمام مسلمانوں کے خلیفہ بن جائیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیا کہ جون میں ایک پاکستانی قونصلر کی ملاقات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی جیل حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر تم اپنا دین بدل لو تو تمھیں فوراً رہا کر دیں گے۔

فوزیہ صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق عافیہ صدیقی کو جنسی طور پر بھی ہراساں کیا جا رہا ہے اور انھیں عبادت بھی نہیں کرنے دی جا رہی۔

فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ عافیہ صدیقی کو واپس لانے کے تین راستے ہیں۔

پہلا تو یہ کہ پاکستان اُس عالمی معاہدے کا شریک بن جائے جس میں مجرمان کو اپنے ملک منتقل کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ پہلے سے ہی اس معاہدے پر دستخط کر چکا ہے تاہم پاکستان اس معاہدے کا رکن نہیں۔ اس حوالے سے درکار ایک قانونی نقطہ عافیہ صدیقی کی جانب سے اس منتقلی کی درخواست تھی اور فوزیہ صدیقی کے مطابق عافیہ صدیقی کی جانب سے عمران خان کو پیغام اسے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

فوزیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کے نائب اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بروس شوارٹس نے ایک خط میں کہا ہے کہ اگر پاکستان اس معاہدے میں شرکت کر لیتا ہے تو امریکہ عافیہ صدیقی کو واپس بھیجنے کے لیے تیار ہوگا۔ اگرچہ فوزیہ صدیقی کے پاس مذکورہ خط موجود نہیں مگر ان کے مطابق یہ پاکستانی حکام کے پاس موجود ہے۔

فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ عافیہ کو پاکستان لانے کا دوسرا راستہ امریکہ اور پاکستان کے مذاکرات ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے امریکہ نے مثبت اشارے دیے ہیں تاہم ان کی تفصیلات وہ وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے بعد ہی ظاہر کر سکتی ہیں۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ تیسرا راستہ صدارتی معافی کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کے دورِ حکومت میں عافیہ صدیقی کی صدارتی معافی کی تیاری کی جا رہی تھی تاہم پاکستانی حکومت نے بروقت کارروائی نہیں کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں