inde3 13

باعزت روزگارکی فراہمی کے لیے تیار منصوبہ حکومتی نظرثانی کا منتظر

پشاور (نسرین جبین)
پاکستان میں لاکھوں نوجوانوں کو باعزت روزگارکی فراہمی ، فی کس امدنی بڑھانے ، صنعتوں کی بحالی ، بین الاقوامی معیار کے مطابق فنی تعلیم و تربیت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم پر مشتمل اسناد کی فراہمی کے لئے پالیسی منظور تاہم حکومتی نظرثانی کی منتظر ہے ٹی ویٹ سیکٹر پر وگرام کے نام سے شروع کئے جانے والے منصوبے میں نوجوانوں کوفنی تعلیم و ہنر کی تربیت صنعتوں کی ضروریات اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق جبکہ بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے دی جائے گی جس میں بین الاقوامی اسسمنٹ کے بعد دی جانے والی اسناد بیرون ملک میں با عزت روزگار کے لئے قابل قبول ہونگی.

تفصیلات کے مطابق نوجوانوں کو 20 فیصد تھیوری 80 فیصد عملی تربیت سکھائی جائے گی ٹی ویٹ اداروں میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق الات و مشینری فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ طلباء4 اور اساتذہ کو تربیت دی جائے گی جس سے دوکانوں میں ’’ چھوٹے ‘‘ کی حیثیت سے نوکرہکرنے کی بجائے پی ایچ ڈی تک کی تعلیم اورفنی مہارت کی سند کے ہمراہ باعزت و باوقار طریقے سے ملازمت کر سکے گے جبکہ مذکورہ پروگرام میں لڑکوں کے ساتھ ساتھ نوجوان لڑکیوں کو بھی معاشرے کی ضروریات کے مطابق اپنا کاروبار شروع کرنے ، ملازمت کرنے اور ملکی ترقی میں اپنا بہترین کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے گا قبل ازیں نیشنل ووکیشنل کو الفیکیشن فریم ورک کے نام سے پالیسی بنائی گئی تھی۔

یورپی یونین، وفاقی جمہوریہ اور رائل نارویجین سفارت خانے کے زیر اہتمام اس پروگروم کے دوسرے مرحلے میں مزید ریفارمز کر کے انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق لیول بیسڈ بنایا گیاہے جس میں ابتدائی طور پر لیول چار تک اسناد دی جائیں گی جبکہ بعدازاں اسیلیول 8 تک بڑھایا جائے گا جس میں طلباء4 کو ہنر مندی کے ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی تک کی ڈگری حاصل ہو سکے گی جبکہ انٹرنیشنل اسسمنٹ سنٹرز میں جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہنر مندوں کو ایسی اسناد فراہم کی جائیں گی جو کہ دنیا بھر میں قابل قبول ہونگی واضح رہے کہ صنعتوں اور دیگر مارکیٹس کو ٹی ویٹ کے اداروں جن کی تعداد ملک بھر میں 4 ہزار ہے کے ساتھ منسک کیا جائے گا جس میں طلباء4 اور ہنر مند عملی تربیت حاصل کریں گی۔ جبکہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد نوجوان لاکھوں کی تعداد میں قابل قبول اسناد اور متعلقہ شعبے میں مہارت رکھتے ہوئے نہ صرف ملازمت کر سکیں گے بلکہ بین الاقوامی مارکیٹس میں ورک فورس بھی پاکستان میں تیار ہو سکیگی اور ملک میں اپنا کروبار شروع کرنے کے موقع اور تربیت بھی موجود ہوگی جس سے بے روز گاری ، کے ساتھ ساتھ بلواسطہ یا بلاواستہ طو ر پرغیر صحت مند سرگرمیوں اور جرائم کی شرح میں کمی کی طرف بھی پش رفت ہوسکے گی اور پاکستان چند سالوں میں ترقی یافتہ ممالک میں کھڑا ہو سکے گا۔

جبکہ پاکستان میں تکنیکی پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیتی پروگرام کا مقصد مزدور مارکیٹوں کی طلبوں کے ساتھ بازار میں مہارت کی ترقی کو بہتر بنانے کے لیے تکنیکی پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیتی شعبے (ٹی وی ا یٹ) میں گورنمنٹ اور نجی شعبے کی شرکت میں بہتری لانا شامل ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں