2 14

پاکستان میں ہر سال لیبر مارکیٹ میں 30 لاکھ لوگ مزدوری کرنے نکلتے ہیں

پاکستان میں ہر سال لیبر مارکیٹ میں 30 لاکھ لوگ مزدوری کرنے نکلتے ہیں جن میں صرف 5 لاکھ تربیت یافتہ ہوتے ہیں

پشاورنسرین جبین )

پاکستان میں ہر سال لیبر مارکیٹ میں 30 لاکھ لوگ مزدوری کرنے نکلتے ہیں جن میں صرف 5 لاکھ تربیت یافتہ ہوتے ہیں ملکی فنی تعلیم و تربیتی اداروں میں صرف 20 فیصد عملی کام کروایا جاتا ہے جبکہ 80 فیصد تھیوری ہوتی ہے جبکہ ان اداروں کی اسناد اکثر بین الاقوامی منڈیوں میں ہنر مند وں کو باعزت روزگار کے لئے قابل قبول نہیں ہوتیں ان اداروں میں عام طور پرسکھائی گئی فنی مہارت اعلیٰ معیار کی بجائے کم سطح تک ملازمت کرنے تک ہی محدود رہتی ہے جبکہ اپنے روزگار کی اورکاروبارکو چلانے کے لئے بھی مطلوبہ ہنر اور تربیت دینے کی کمی ہے .

ان خیالات کااظہار ٹی ویک سیکٹرزسپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام منعقدہ 2 روزہ تربیتی ورکشاپ کے شرکاء4 نے کیا پروگرام کے انعقاد کا مقصد پاکستان میں تکنیکی پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیتی پروگرام کی طرف سے (ٹی ویٹ) کے مقاصد، حکمت عملی اور پالیسی کے بارے میں تربیت حاصل کرنیسے متعلق معلومات اور اس کے بارے میں عوام کو تعلیم دیناتھااس موقع پر پروگرام کے ٹیم لیڈر محمد علی خان ، محمد افتاب عالم ، عدیل پٹھان اور خالد جمیل نے ٹی ویٹ سیکنر کے مختلف حوالوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نوجوان ہمارے ملک کا سرمایہ ہیں جن کی درست سمت میں رہنمائی ملکی ترقی و خوشحالی کی کنجی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں فنی تربیت پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی حالانکہ دنیا بھرمیں فنی مہارت کو فوقیت دی جاتی ہے جوکہ صنعتوں کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں ہنر مندوں کے لئے فنی تعلیمی اداروں کی کمی ہیاور جو موجود ہیں ان میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے.

انہوں نے بتایا کہ دنیامیں ترقی یافتہ ممالک جن میں جرمنی بھی شامل ہے وہاں 70 فیصد لوگ فنی مہارت کو ترجیح دیتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں جہاں شرح خواندگی حیران کن حد تک کم ہے اور فنی مہارت کے اداروں کی بھی کمی ہے جبکہ دوسری طرف صحت مند ماحول نوجوانوں کے لئے دستیاب نہیں ایسے میں انہیں فنی مہارت کی تعلیم و تربیت دے کر نوجوان نسل کو ملک کا باعزت اور باروزگار شہری بنانے میں اہم کردار ادا کیا جا سکتاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں