Jumati E ISlami 42

کیا بونیر میں جماعت اسلامی پارٹی کو بحرانوں نکال پائیگی…؟

بونیر عمران بونیری
کیا خیبر پختون خوا کے ضلع بونیر میں جماعت اسلامی کی نومنتحب قیادت پارٹی کو بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہو پائی گی۔کیا جماعت اسلامی کے نو منتحب امیر محمد حلیم باچا پارٹی کو دوبارہ فعال بنانے میں کردار ادا کر سکے ینگے۔کیا بونیر میں جماعت اسلامی کی قیادت پارٹی کو دوبارہ وننگ ٹر یک پر لاسکے گی۔کیا جماعت اسلامی کی مر کزی امیر سینئٹر سراج الحق کا دورہ بونیر موجودہ سیاسی صورت حال میں اہم ثابت ہو گا اور جماعت اسلامی ماضی کی طر ح دوبارہ بونیر کی سیاسی فضا پر چھا جائے گی۔یہ وہ سوالات ہیں جو ضلع بونیر کے باسی جماعت اسلامی کے نومنتحب قیادت کے بارے ایکدوسرے سے پوچھ ر ہے ہیں۔موجودہ وقت میں بونیر ضلع سے جماعت اسلامی کی ایک بھی امیدوار صوبائی یا قومی اسمبلی کا ممبر نہیں اور نہ ہی بونیر کے کسی ایک ٹاون میں جماعت اسلامی کی الگ یا کسی دوسرے سیاسی جماعت کے ساتھ مشتر کہ حکومت ہیں۔

بونیر کے ضلعی حکومت میں جماعت اسلامی اور اے این پی اتحادی ہیں اور ضلعی ناظم کا تعلق جماعت اسلامی جبکہ نائب ناظم کا تعلق اے این پی سے ہے۔سال 2019میں بلدیاتی حکومت کا دورانیہ بھی ختم ہو جائے گا اور جماعت اسلامی ہر قسم حکومت سے اوٹ ہو جائے گی ۔جماعت اسلامی کے نومنتحب قیادت کو اس بارے سنجیدگی سے کام کر نا ہو گا تاکہ وہ آنے والے بلدیاتی اور عام انتحابات میں پارٹی کو اہم پوزیشن دلواسکے اور بونیر ضلع میں بلدیاتی حکومت کیساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے سیٹس کے لئے ابھی سے منظم جدوجہد کر نا ہوگی۔

بونیر ضلع کے سیاسی صورت حال پر نظر دوڑائی جائے تو سال 2008کے عام انتحابات میں اے این پی نے کلین سوئپ کر تے ہوئے بونیر کے تین صوبائی اور ایک قومی سیٹ اپنے نام کی تھی ۔صوبے میں اے این پی کی حکومت ائی اور مر کز میں اے این پی پاکستان پپلز پارٹی کی اتحادی بنی ۔سال 2013کے عام انتحابات میں جماعت اسلامی نے ایک صوبائی اور ایک قومی سیٹ اپنے نام کی جبکہ ایک صوبائی سیٹ اے این پی اور ایک صوبائی سیٹ جمعیت علماء اسلام کے حصے میں ائے۔صوبے میں جماعت اسلامی اور پی ٹی ائی کی حکومت بنی اور جماعت اسلامی کے ممبر صوبائی اسمبلی حاجی حبیب الر حمان خان صوبائی وزیر عشر و زکواۃ منتحب ہو ئے۔اسی طر ح سال 2018کے عام انتحابات میں
پاکستان تحر یک انصاف نے بونیر کے دو صوبائی اور ایک قومی سیٹ اپنے نام کی جبکہ ایک صوبائی سیٹ پی کے 22اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹر ی سردار حسین بابک کے حصے میں ائی ۔سال 2018کے عام انتحابات میں جماعت اسلامی پہلے ایم ایم اے کا حصہ بنی اور بعد میں انہوں نے قومی اسمبلی کی سیٹ پر پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کیا جس میں نہ صرف جماعت اسلامی بونیر سے کو ئی سیٹ نہ جیت سکی بلکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار برائے قومی اسمبلی اور جماعت اسلامی کے اتحادی کامران خان بھی اپنا سیٹ نہ جیت سکے ۔

ایک زمانہ تھا جب جماعت اسلامی پورے صوبے میں کافی منظم اور فعال تھی اور خاص کر ضلع دیر اور بونیر میں جماعت اسلامی کو شکست دینا آسان نہیں ہو تا تھا لیکن اب جماعت اسلامی بونیر سے کو ئی بھی سیٹ نہ جیت سکی اور ضلع دیر سے ایک صوبائی سیٹ جیت سکی ہے۔جماعت اسلامی کی ضلعی قیادت کو اس بارے میں سنجیدہ اقدامات کر نے ہو نگے اور پارٹی کو دوبارہ منظم اور تنظیموں کو فعال بنانے کے لئے ابھی سے کام کر نا ہو گا اور ابھی سے بلدیاتی اور عام انتحابات کے لئے لائیحہ عمل طے کر نا ہو گاکہ وہ اکیلے میدان میں اُتر ے گی یا کسی دوسرے سیاسی جماعت سے اتحاد کر ے گی کیونکہ الیکشن قر یب آنے کے بعد سیاسی سیٹ اپ بنانا مشکل ہو تا ہے۔جماعت اسلامی کو اتحادی سیاست سے نکل کر اپنے پیروں پر کھڑا ہو نا ہو گا اور اپنے ہی پارٹی کے امیدواروں کو سپورٹ کر نا ہو گا چاہے وہ جیتے یا ہارے جس طر ح اے این پی سال 2018کے عام انتحابات میں اکیلے میدان میں اُتر ے تھی ۔اگر چہ اے این پی کی پوزیشن بھی بونیر میں کافی کمزور ہو چکی ہے کیونکہ اے این پی سال 2013اور سال 2018کے عام انتحابات میں صرف پی کے 22کی سیٹ جیت چکی ہے۔جماعت اسلامی کے مقابلے میں اے این پی بلدیاتی سیٹ اپ میں کامیاب ہے کیونکہ اے این پی ضلعی حکومت میں جماعت اسلامی کی اتحادی ہے اور نائب ناظم کا تعلق اے این پی سے ہے جبکہ ٹاون خدوخیل اور ٹاون مندنڑ میں اے این پی کی اکیلے حکومت ہے اور ٹاون گاگر ہ میں وہ پی ٹی ائی کی اتحادی ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی نے انٹرا پارٹی الیکشن کے لئے سردار حسین بابک کو صوبائی الیکشن کمشنر منتحب کیا ہے اور صوبائی صدر امیر حیدر خان ہو تی نے بونیر ضلع کے لئے پانچ ر کنی الیکشن کمیٹی نامزد کی ہیں جس نے با ہمی اتحاد و اتفاق سے سردار جہاں کو اپنا چیر مین اور قر یب الر حمان ایڈوکیٹ کو جنر ل سیکرٹری منتحب کیا ہے ۔
جماعت اسلامی ،اے این پی اور جمعیت علماء اسلام ف کے ر کنیت سازی مہم کی وجہ سے بونیر کی سیاسی فضا ایک مر تبہ پھر گر م ہو گئی ہے اور سیاسی جماعتوں کی کار کنوں کی نقل و حر کت ضلع میں دیکھنے کو آر ہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں