koga camp 35

کوگا مہاجر کیمپ کی زمینیں اصل مالکان کو حوالہ کی جائے. بخت بلند خان

بونیر . عمران بونیری
قومی وطن پارٹی کے رہنماء و سابق امیدوار پی کے 22اور رزڈ اصلاحی کمیٹی کوگا کے سابق چیر مین بخت بلند خان نے ریڈیو بونیر سے خصوصی گفتگو کر تے ہوئے کہاہے کہ کوگا آفغان مہاجر کیمپ مندنڑ بونیرمیں آباد آفغان مہاجر ین کو نکال کر زمینیں اصل مالکان کو حوالہ کی جائے۔انہوں نے کہاکہ آفغان مہاجر ین گذشتہ 38سالوں سے کوگا کے 22سو کنال زرعی زمینوں پر قابض ہیں جس کی وجہ سے کوگا کے غر یب عوام کو زراعت کے لئے زمین دستیاب نہیں۔

بخت بلند خان نے کہاکہ گذشتہ 25سالوں سے عوام احتجاجا زمینوں کا معاوضہ نہیں لے ر ہے ہیں کیونکہ حکومت ہمیں1980کے حساب سے 75روپے فی کنال اچارہ دے ر ہاہے جو کہ کم ہیں اور موجودہ یعنی سال 2018کے ر یٹ کے مطابق ہمیں 8ہزار فر کنال معاوضہ ملنا چاہیئے۔ایک سوال کے جواب میں بخت بلند خان نے کہاکہ 1980میں روس اور آفغان جنگ کے دوران آفغانستان سے تقر یباٌ 40ہزار مہاجر ین کو کوگا مہاجر کیمپ میں آباد کیا گیاتھا ۔انہوں نے کہاکہ کوگا کے عوام نے انصار مدینہ کی یاد تازہ کر تے ہوئے اپنے مسلمان اور پختون بہن بھائیوں کو اپنے زمینوں میں آباد کیا لیکن 38سال گزرنے کے باوجود نہ تو حکومت ان مہاجر ین کو نکال ر ہی ہے اور نہ ہی زمین کے آجارہ میں اضافہ کر دیتی ہے جو کہ ہمارے ساتھ ظلم ہے۔انہوں نے مذید کہاکہ کوگا مہاجر کیمپ میں اس وقت بمشکل تقر یباٌ 10ہزار مہاجر آباد ہیں جس نے ہماری 22سو کنال زمین میں دوکانیں اور گھر تعمیر کر دئیے ہیں اور ہماری زمینوں پر قابض ہیں۔انہوں نے کہاکہ 1980میں آبادی کم تھی اور لوگوں کی زر عی اور ر ہایشی ضروریات کم تھی جس کی وجہ سے ہمیں ان زمینوں کی ضرورت نہیں تھی لیکن اب ان 38سالوں میں کوگا کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور لوگوں کی ر ہایشی اور زرعی ضروریات زیادہ ہو گئی ہے جس کی وجہ سے عوام کو ان 22سو کنال زمین کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے وضاحت کر تے ہوئے کہاکہ 1980میں کو گا کے جو لوگ تین کمروں کی مکان میں ر ہ ر ہے تھے اب ان کی ضرورت 10کمروں سے بھی پوری نہیں ہو تی جبکہ خوراک کے پیداوار کے لئے بھی لوگوں کو زیادہ زرعی زمین کی ضرورت ہیں کیونکہ آبادی میں مسلسل آضافہ ہور ہاہے جس کے لئے خوراک اور ر ہایش کا بندوبست کر نا ضروری ہے۔

بخت بلند خان نے کہاکہ زرعی زمینوں پر قبضے کے علاوہ بھی عوام کو ان مہاجر ین سے شدید مسائل و مشکلات در پیش ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کاروبار ،ٹر انسپورٹ ،ہوٹل اور دیگر اہم کاروباروں پر آفغان مہاجر ین کا قبضہ ہیں جس کی وجہ سے عوام کو معاشی مشکلات در پیش ہیں۔انہوں نے کہاکہ آفغان مہاجر ین کے لئے کیمپ میں ایک سکول اور ایک ڈسپنسری لگائی گئی ہیں لیکن آفغان مہاجر ین اس کے علاوہ ہمارے سکولوں ،ہسپتالوں اور دیگر سر کاری اور پرائیویٹ اداروں کا استعمال کر تے ہیں جو کہ ہمارے اداروں پر بوجھ ہیں اور بونیر اور خاص کرتحصیل مندنڑ کی عوام کی اپنی ضروریات پوری نہیں ہو تی۔

بخت بلند خان نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ کوگا کے عوام نے رزڈ اصلاحی کمیٹی کے نام پر ایک تنظیم بنائی ہے جوکہ آفغان مہاجر ین کے انخلا اور کوگا کے دیگر مسائل کے حل کے لئے سر گر م ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جب موجودہ وفاقی حکومت نے آفغان مہاجر ین کو نیشنلٹی دینے کی بات کی تو اس سے ہمارے تحر یک میں تیزی آئی اور عوام نے اس مسلے کے حل کے لئے کوششیں تیز کر دی ۔انہوں نے کہاکہ ہم صوبائی و وفاقی حکومتوں،وزیر سیفران،ڈی سی بونیر اور دیگر اعلیٰ عہداداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ آفغان مہاجر ین کو نکالے یا پاکستان کے کسی اور کیمپ میں شفٹ کر یں اور ہماری زمینوں کو ہمیں حوالہ کر یں کیونکہ ہمیں بے حد مسائل و مشکلات در پیش ہیں۔بخت بلند خان نے کہاکہ بونیر کے علاوہ دیگر اضلاع میں مہاجر ین کو بنجر اور خراب زمینوں پر آباد کیا گیاہے جبکہ کو گا میں زر عی زمین کو ان مہاجر ین کے لئے استعمال میں لایا گیاہے۔

انہوں نے کہاکہ آفغان مہاجر ین ہماری فصلوں ،شاملاتی زمینوں اور باغات کو نقصان پہنچا ر ہے ہیں جس کی وجہ سے عوام اور مہاجر ین کے در میان لڑائی جھکڑے معمول بن چکے ہیں اور اب عوام تنگ آچکی ہیں۔انہوں نے کہاکہ رزڈ اصلاحی کمیٹی کے انتحابات 11نومبر کو ہونگے اور نئی کابینہ کا انتحاب عمل میں لایا جائے گا جس کے بعد ہم ائیندہ کا لائیحہ عمل طے کر ینگے۔انہوں نے کہاکہ ہم بنی گالہ ،صوبائی اور وفاقی اسمبلیوں کے باہر احتجاج بھی ر یکارڈ کر سکتے ہیں اور قانونی راستہ بھی اپنا سکتے ہیں لیکن اس کا فیصلہ رزڈ اصلاحی کمیٹی کے انتحابات کے بعد ہو گا اور کمیٹی نے جو راستہ اپنایا اس پر عمل کر ینگے کیونکہ آفغان مہاجر کیمپ کے زمینوں سے 3سو خاندانوں کا مستقبل وابستہ ہیں اور کوگا کے عوام کوگا سے ہجرت پر مجبور ہیں کیونکہ اُنہیں یہاں ر ہایش کے لئے زمین میسر نہیں۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی نقصان کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی کیونکہ ہم مذید تنگ آچکے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں