girja gar 19

گرجا گھروں اور مشنری سکولوں کی سکیورٹی کیلئے ٹیم تشکیل

پشاور۔صوبائی دارالحکومت پشاورمیں پولیس نے اقلیتی برادری کو درپیش مسائل اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر گرجا گھروں اور تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کیلئے ایس پی سکیورٹی کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے۔

اس ضمن میں جمعرات کے روز سربراہ چرچ آف پاکستان بشپ ہمفری سرفراز پیٹر نے چیف کیپٹل پولیس آفیسر پشاور قاضی جمیل االرحمان سے ملک سعد شہید پولیس لائن میں ملاقات کی ملاقات کے دوران ایس پی سکیورٹی عنایت علی شاہ اور ایس پی ہیڈ کوارٹرز عبدالسلام خالد بھی موجود تھے اس موقع پر سی سی پی او قاضی جمیل الرحمان نے کہا کہ پشاور پولیس بلاتفریق مذہب، رنگ و نسل تمام اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کی روسے مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاسکتا، بشپ ہمفری سرفراز پیٹر نے کہا کہ ملک میں اقلیتیں خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں عیسائی برادری ملک کی ترقی میں اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کر رہی ہے جبکہ انہوں نے گرجا گھروں اور عیسائی تعلیمی اداروں کو پشاور پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی سکیورٹی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پشاور پولیس کا شکریہ اد اکیا۔

سی سی پی او نے کہا کہ امن پسند معاشرے کا قیام یقینی بنانے کیلئے تمام مذاہب کے ماننے والوں کے مابین تعاون ضروری ہے، مذہبی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہونے سے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس موقع پر سی سی پی او قاضی جمیل الرحمان نے ایس پی سکیورٹی عنایت علی شاہ کوپشاور میں قائم گرجا گھروں اور دوسرے مذہبی جگہوں کی سکیورٹی کا ازسر نو جائزہ لینے کا حکم جاری کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں