download 23

ماسکو افغان امن کانفرنس …..

تحریر:عالمگیر آفریدی
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے سماجی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی حقائق کے تناظر میں ذمہ دارانہ سیاسی حل ہی سے افغانستان میں دیرپا امن بحال کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہارپاکستانی وفد کے سربراہ نے گزشتہ دنوں افغانستان میں امن کے فروغ سے متعلق ماسکو فارمیٹ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیاہے ۔ پاکستانی وفد کے سربراہ کاکہناتھا کہ افغان تنازع کا حل صرف بات چیت ہی سے ممکن ہے، پاکستان امن عمل کے لیے ہر ممکن کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان کئی برسوں سے افغانیوں کی قیادت میں افغان امن عمل کا حامی ہے اور اب افغانستان میں امن ومفاہمت پر پیشرفت کیلئے بین الاقوامی رہنما اصولوں پر مبنی اجتماعی راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ ماسکو فارمیٹ میں افغان حکومت کا کوئی اعلیٰ سطحی اہلکار توشریک نہیں ہوا البتہ ایساپہلی دفعہ ہواہے کہ افغان حکومت کی جانب سے اس کانفرنس میں افغان اعلیٰ امن کونسل کے نمائیندوں کے علاوہ افغان طالبان نے بھی ایک پانچ رکنی اعلیٰ سطحی وفدکی صورت میں قطر دفتر کے سربراہ مولوی شیرمحمدعباس ستانکزئی کی قیادت میں شرکت کی ہے جسے افغان امور کے ماہرین ایک بڑے سیاسی بریک تھروسے تعبیرکررہے ہیں۔اس اجلاس کی ایک اور خاص بات اس میں امریکہ اور بھارت کے مبصرین کی شرکت کو بھی قرار دیا جا رہاہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کی براہ راست میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں افغان طالبان اور افغان ہائی پیس کونسل کے نمائیندوں کے ساتھ ساتھ امریکا، پاکستان، چین، ایران، بھارت، وسطی ایشیائی ریاستوں تاجکستان،قازقستان،ترکمانستان،ازبکستان اور کرغیزستان پرمشتمل بارہ ممالک کے وفود نے شرکت کی۔ طالبان وفد نے افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان امریکہ سے براہ راست مذاکرات کریں گے۔ اس سلسلے میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ اس وقت تک مذاکرات نہیں کریں گے جب تک امریکہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کرکے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کاکوئی واضح شیڈول نہیں دے دیتا۔ اس کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ روس افغانستان میں امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ روس افغانستان میں گزشتہ 17 سالوں سے جاری خانہ جنگی کے حل کے لیے فریقین کے درمیان مذاکرات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔سرگئی لاروف نے کہا کہ مذاکرات میں حکومت اور طالبان کی موجودگی براہ راست مذاکرات میں معاون ثابت ہوگی۔
ماسکو فارمیٹ کے عنوان سے یہ اہم بین الاقوامی کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب ایک جانب امریکہ کے خصوصی مندوب برائے افغانستان زلمے خلیل زادنہ صرف دوماہ قبل کابل اوراسلام آبادکا دورہ کرچکے ہیں بلکہ وہ طالبان کے ساتھ بھی قطر میں ملاقات کے علاوہ عنقریب کابل اور اسلام آباد کاایک اور دورہ کرنے کے ساتھ ساتھ طالبان سے مذاکرات کے ایک اور دورمیں بھی شرکت کرنے والے ہیں۔ماسکو کانفرنس کو اس حوالے سے بھی اہمیت کاحامل قراردیا جا رہاہے کہ اس میں پہلی بار پاکستان ،طالبان اور بھارت کے نمائندے ایک ساتھ شریک ہوئے ہیں جب کہ چین اور افغان ہائی پیس کونسل کی شرکت سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغان قضیئے کے تمام سٹیک ہولڈر اس چالیس سالہ بحران کو حل کرنے کے متمنی ہیں جس کے نتیجے میں پورے خطے کا امن اور استحکام داؤ پر لگاہوا ہے۔اسی طرح طالبان اس کانفرنس میں شرکت کے ذریعے جہاں اپنی جدوجہد کو بین الاقوامی سطح پرمنوانے میں کامیاب ہوئے ہیں وہاں اس شرکت کے توسط سے وہ دنیا کو یہ باور کرانے میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں میں نہ صرف آذادہیں بلکہ ان میں مذاکرات کی میز پر آنے کی خواہش اور لچک بھی موجود ہے جسے بلا شبہ ان کی ایک بڑی اخلاقی اور سفارتی کامیابی سے تعبیر کیا جا سکتاہے۔دوسری جانب سفارتی حلقوں میں اس کانفرنس کے کامیاب انعقاد کو عالمی سیاست میں روس کی نئی حیثیت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔دراصل افغانستان میں قیام امن کے لئے اس کے پڑوسی ممالک کی دلچسپی خطے میں امن و استحکام کے قیام کو یقینی بنانے کی سنجیدہ کوششوں کا حصہ ہے۔ اسی طرح پاکستان کی ماسکو کانفرنس میں شرکت افغانستان میں قیام امن اور خطے میں استحکام لانے کی دیرینہ خواہشوں سے عبارت ہے۔ افغانستان کے عوام سے صدیوں کے مذہبی‘ ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات کے پیش نظر پاکستان کے عوام افغان بھائیوں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد محسوس کرتے ہیں۔ سرد جنگ اور پھر سوویت یونین کے خاتمے کے بعد جنوبی ایشیاء کی صورتحال کے حوالے سے روسی قیادت نے ماسکو کانفرنس کے ذریعے پہلی بار اپنی سیاسی ترجیحات کو ان ممالک کے سامنے رکھا ہے جو افغان تنازعہ سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہیں البتہ یہاں یہ امربھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ اس دیرینہ تنازعہ کا حل نکالتے وقت افغان عوام کے احساسات اورامنگوں کاخیال رکھا جانا بھی ضروری ہے۔توقع ہے کہ ماسکو افغان امن کانفرنس سے معاملات آگے بڑھیں گے کیونکہ ایک پر امن ،مستحکم اور ترقی کی طرف پیش قدمی کرتا ہوا افغانستان نہ صرف افغان عوام کی ضرورت ہے بلکہ یہ خطے کے تمام ممالک کی بھی ضرورت ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ماسکو کانفرنس میں ان تمام ممالک نے پرجوش شرکت کی ہے جن کا اپناامن اور استحکام افغانستان کے امن ا ورا ستحکام سے جڑا ہو اہے لہٰذا امید کی جانی چاہیے کہ یہ کانفرنس افغان عوام کے ساتھ ساتھ خطے کے تمام ممالک کے لیئے بھی امن اور آشتی کا ایک نیا پیغام لے کر آئے گا۔#

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں