45809614_1893919577340942_9217933216688635904_n 22

پی ایف یو سی کا ورکشاپ ۔۔۔ تحریر :شبیر بونیری

آج میری زندگی کا یادگار دن ہے اور کیوں نہ ہو میں نے اس دن کا برسوں انتظار جو کیا ۔ زندگی میں اتار چڑھاؤ کے ڈھیر سارے موڑ دیکھے ۔ اپنے اوپر تذبذب اور غم کے بیتے وہ تمام لمحات مجھے یاد ہیں جن میں کئی بار میں بکھرا لیکن قدرت کی ان دیکھی طاقتوں اور مہربانیوں نے مجھے ہمیشہ بکھرنے اور ٹوٹنے سے بچایا ۔
روز اوّل سے ایک مستقل لڑائی میں پھنسا ہوا میں خود سے جنگ کرتے کرتے ڈر رہا تھا کہ کہیں تنکوں کی طرح تیز ہواؤں کی نذر نہ ہوجاؤں لیکن قدرت کے عجیب فیصلوں نے ہمیشہ مجھے تھام کے رکھا ۔ مجھے وہ سب کچھ ملا جس کا میں بالکل حقدار نہ تھا اور آج تو ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے زندگی کا آخری دن ہو اور زندگی آج ہی سب کچھ لٹا رہی ہو۔ میں لمحوں کو قید تو نہیں کر سکتا لیکن ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ زندگی کے ہر لمحے کو کچھ ایسا یاد گار بناؤں کہ ذہن پر ان مٹ نقوش موجود رہے ۔ میں اگر لمحوں کو قید کرسکتا تو اس یادگار دن کے لمحات مٹھی میں ہمیشہ بند رکھتا ۔
یہ دن تھا ہی کچھ ایسا کہ جس کو بھلانا ناممکن ہے ۔ اس دن پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ کے چھٹی سالانہ ورکشاپ کا اہتمام اسلام آباد چیپٹر کے دوستوں نے کیا تھا جس میں ملک بھر کے نئے لکھنے والوں کو مدعو کیا گیا تھا ۔ پی ایف یو سی کے ملک بھر کے تقریباً تمام ممبرز نے اس ورکشاپ میں شرکت کی ۔
خوب صورت ماحول تھا ،مسکراتے چہرے تھے ،عزتیں دی جا رہی تھی ، پہلی بار ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے گھر والوں سے دور گھر والے ملے ہوں اور سونے پر سہاگہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ایسے بغل گیر ہورہے تھے جیسے برسوں کی جان پہچان ہو۔ ہم وقت مقررہ سے تھوڑی دیر بعد پہنچے اور جیسے ہی اسلام آباد ہوٹل کے دیوان ہال میں ہم نے قدمیں رکھی عمرعبدالرحمن جنجوعہ،زیشان قریشی اور سید عباس کاظمی جوکہ پروگرام کے آرگنائزرز تھے نے دیدہ دلیر مسکراہٹیں ہماری راہ میں بچھادی ۔ ہم کیا تھے اس کا تو پتہ نہیں تھا لیکن جو ریسیپشن ہمیں ملی اس کے خلوص میں ایسی تڑپ تھی جس میں ہم ایسے یکسُو ہوگئے جیسے ہم ہی آرگنائزرز ہوں ۔ ہال کے اندر ماحول میں اتنی اپنائیت تھی کہ کسی نے بھی یہ محسوس ہی نہیں کیا کہ مہمان کون ہے اور میزبان کون اور یہی سب سے اہم اور بڑی بات تھی جس کی وجہ سے کسی کو بھی سیکھنے سکھانے میں کوئی دقت پیش نہیں آرہی تھی ۔
سینیئر کالم نگاروں میں خورشید ندیم صاحب ،زاہد حسین چغتائی صاحب ،یاسر پیر ذادہ صاحب اور معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر صاحب نے نوجوانوں کو کالم کے حقیقیت سے آگاہ کیا ۔
کالم لکھتے کیسے ہیں اور کالم لکھنے کے لئے ضروری چیزیں کیا ہوتی ہیں ۔ خورشید ندیم صاحب نے نئے لکھنے والوں کو اس میدان کے اتار چڑھاؤ سے بالخصوص طور پر آگاہ کیا جو سب سے بہترین بات خورشید ندیم صاحب نے کی کہ نئے لکھنے والے فیصلہ کرلیں کہ وہ اپنے عہد میں جینا چاہتے ہیں یا تاریخ میں اپنے عہد میں جیوگے تو صرف خود تک تک محدود رہوگے اور اگر تاریخ میں جیوگے تو اس کے لئے آپ کو بھرپور محنت کی ضرورت ہوگی ۔ آپ کے منہ سے الفاظ ایسے نکل رہے تھے جیسے پھول جھڑرہے ہوں تھبی تو مکمل خاموشی میں آپ کی آواز کی گونج تھی ۔ ” آپ لوگ ایک بات یاد رکھیں کہ جب تک آپ لوگ اپنا ضرف نہیں بڑھائیں گے تب تک آپ خود کو نہیں پہچان سکیں گے ۔ اپنا ضرف بڑھائیے ایک دن آئیگا جب یہ خود چھلک اٹھے گا” ۔ بڑے لوگ ہمیشہ بڑی باتیں کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جتنے بھی سینیرز آئے تھے وہ کمال مہارت سے لکھنے کے گن سکھارہے تھے ۔
حسن کوہاٹی(سیلانی)، جناب زاہد حسین چغتائی، جناب طاہر ملک، ثاقب اکبر، عدیل ایوب ،فرنود عالم ،طارق ملک ،نھنے پروفیسر حماد صافی اور پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ کے چئیرمین فرخ شہباز وڑائچ نے بھی خطاب کیا ۔
اس ورکشاپ میں مطالعے کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ۔ مطالعہ ،مستقل مزاجی اور صحیح سمت کا تعین ہی وہ تین بنیادی باتیں ہیں جن کی وجہ سے کالم نگاری میں نام کمایا جا سکتا ہے ۔ یاسر پیرذادہ صاحب نے بھی اس بات پر زور دیا کہ آپ مطالعہ جاری رکھیں گے تو آپ نئے انداز سے لکھنا سیکھیں گے کیونکہ عام موضوعات پر تو روزانہ اخبارات بھرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ آپ بے شک انہی عام موضوعات پر قلم اٹھائیں لیکن انداز اور الفاظ آپ کے ایسے ہوں جس کی وجہ سے پڑھنے والے پورا کالم پڑھنے پر مجبور ہوں۔
کسی بھی شعبے میں آگے بڑھنے کے لئے ٹریننگ بہت ضروری ہوتی ہے اور آج مجھے پہلی بار احساس ہو رہاتھا کہ یہ اللہ کی خصوصی کرم نوازی ہے کہ مجھے پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ کی چھت فراہم کی ۔
میں تجربات سے سیکھنے والا انسان ہوں اور زندگی کے ہر خوب صورت اور تلخ تجربے سے ہمیشہ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ گناہوں کے بوجھ تلے اتنا دب رہا ہوں کہ ہر وقت یہ ڈر ساتھ رہتا ہے کہ کہیں اس بوجھ تلے دب کر ہی زندگی ناطہ نہ توڑدے لیکن اس ورکشاپ میں میں خود سے ملا ہوں کیونکہ یہاں مجھے بہت اچھے اچھے دوست ملے ہیں جن کی حوصلہ افزائی اور محبت کا میں اس قدر گرویدہ ہوگیا ہوں کہ مجھے اب سب کچھ آسان لگنے لگا ہے ۔
ورکشاپ کے آخر میں عمر عبدالرحمن جنجوعہ جو پی ایف یو سی اسلام آباد کے صدر ہیں کی کتاب “لب گویا” جو آپ کے کالموں کا مجموعہ ہے کی رونمائی بھی ہوئی ۔
پی ایف یو سی کا یہ ورکشاپ اور پی ایف یو سی کی پوری ٹیم حوصلہ افزائی کا باعث کیوں نہ بنے جس میں راجہ وحید چوہان جیسے ہنس مکھ انسان ،رانا علی زوہیب جیسے پیارے لوگ ،شاہد یوسف جیسے متجسس لکھاری ،عمر عبدالرحمن جیسے مخلص ساتھی ،سید عباس کاظمی جیسے پیارے دوست ،فرخ شہباز وڑائچ جیسے محنتی راہنما، ذیشان عباسی جیسے جلد گل مل جانے والے ہیرے، عبدالماجد ملک جیسے داد دینے والے سینیئر ساتھی اور شہزاد چوہدری جیسے شفیق اور مہربان بڑے موجود ہوں ۔
اس کامیاب ورکشاپ کو پورا کریڈٹ اسلام آباد چیپٹر کو جاتا ہے ۔ اللہ ان سب کو اس کا اجر دیں اور پی ایف یو سی کے اس تناور درخت کو ہمیشہ خزاں کے منحوس ہواؤں سے دور رکھیں ۔
نوٹ : خیبر پختون خواہ کے نئے لکھاری پی ایف یو سی کا حصہ بننے کے لئے shabiruom618@gmail پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں