download (1) 46

کیا اولڈ ایج ہاؤس ہی حل ہے ؟؟؟ تحریر: سنبل صدیقی

بچپن کے کچھ سہانے خیالات بڑے ہونے پر تلخ حقیقتوں کا روپ دھار لیتے ہیں خوش گمانی اور خود فریبی کے محل گرنے کے بعد حقیقت کے کھنڈرات سے واسطہ پڑتا ہے ۔ روشنی کے لبادے میں لپٹی تاریکی سامنے آتی ہے اور جنہیں ہم قابل فخر حقائق سمجھتے ہیں خام خیالیاں ثابت ہو جاتی ہیں۔
جیسے ہمارے بچپن کی یہ خوبصورت خام خیالی کہ مغربی معاشرے کے برعکس ہمارے معاشرے کا بزرگ ایک قابل قدر زندگی گزار رہا ہے جس کی ضرورتوں کا خیال رکھا جاتا ہے اسے احترام دیا جاتا ہے معاشرے کا سلوک اس سے مشفقانہ و ہمدردانہ ہوتا ہے خاندان کا سربراہ وہی ہوتا ہے ۔
ہر چھوٹے بڑے فیصلے میں اس کی مشاورت ضروری سمجھی جاتی ہے وہ ضعیف العمری کے باوجود زندگی کی دوڑ میں شامل ہوتا ہے ۔ گھر کی زندگی کا ایک متحرک فرد ہوتا ہے جو اپنے پیاروں کے درمیان ہشاش بشاش اور بڑی خوش گوار زندگی گزارتا ہے۔ اپنوں کی اپنائیت اسے سہارا دیتی ہے اسے جینے پر آمادہ کرتی ہے اور اسے تنہائی کا شکار نہیں ہونے دیتی جبکہ مغربی معاشرے کے بزرگوں پر بڑا ترس آتا تھا وہاں کی بے حسی کا رونا روتے تھے کہ ساری زندگی اپنی اولاد کو پال پوس کر جب خود ان کی نگہداشت کا وقت آتا ہے تو وہ ‘اولڈ ایج ہاؤسز’ بھیج دئے جاتے ہیں۔
گھر سے اور اپنی زندگیوں سے انہیں دور کر دیا جاتا ہے جہاں اگرچہ ان کے کھانے پینے کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن خلوص کی مٹھاس انہیں حاصل نہیں ہوتی ۔ محبت کے لئے ترستے ہیں تنہائی کا شکار ہوتے ہیں اور کسی کو اپنا ہمدرد و غمخوار نہیں پاتے ۔ کسی کی اپمائیت محسوس نہیں ہوتی، کوئی ان کے بڑھاپے میں ان کا سہارا نہیں ہوتا اور پیارومحبت کی تشنگی لئے زندگی کی گاڑی گھسیٹ گھسیٹ کر رخصت ہوجاتے ہیں۔

ترقی یافتہ دنیا کی تیز زندگی میں کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں ، معاشرے سے انہیں بے دخل کر دیا جاتا ہے اور ان کا وجود ذرّہ بے نشان بن جاتا ہے۔
اب جب شعوری زندگی میں قدم رکھا تو صورتحال اس کے برعکس پائی ۔ جس قسم کا سلوک اپنے مشرقی اقدار پر فخرکرنے والے معاشرے میں بزرگوں کے ساتھ دیکھا مغرب کا خاندانی اقدار سے عاری معاشرہ اس سے بدرجہ اتم بہتر پایا ۔ جس قسم کی دیکھ بھال ان کی وہاں کی جاتی ہے ہمارے ہاں اس کا تصّور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
وہاں ان کی غذائی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے ان کے لباس کا مناسب بندوبست کیا جاتا ہے۔ ہمارے گھروں کی بہ نسبت ان کی صفائی کا انتظام اعلی ہوتا ہے رشتے اگرچہ ان کے پاس نہیں ہوتے لیکن اپنے عزیز و اقارب کا ساتھ ضرور ہوتا ہے۔
ہمارے بزرگوں کے پاس نہ تو رشتے ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کا ساتھ ۔ ہمارے گھر ان کے لئے “تنہائ گھروں” کی صورت اختیار کر چکے ہیں جہاں بیٹھ کر وہ عہد رفتہ کی یاد داشتوں کی ادھیڑ بن میں لگے رہتے ہیں۔ خود ہی آہیں بھرتے ہیں اور خود ہی ان کا ماتم کرتے ہیں کیوںکہ ان کے پاس چند لمحیں گزارنے کی فرصت کسی کو نہیں ملتی ۔ گھر کے برائے نام سربراہ کی سربراہی کمرے میں بچھی چارپائی تک محدود رہتی ہے۔ زندگی کی ہنگامہ خیزیوں کو حسرت سے دیکھتا اور اپنی پیری کو کوستا رہتا ہے۔ اپنی مصروف زندگی میں کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ سانس لیتا وجود ایسا بھی ہے جسے ہماری محبت کی ضرورت ہے،جو توجہ کا متلاشی اور خلوص کا طلبگار ہے جس کے پاس سوچنے کیلئے خیالات اور کہنے کیلئے الفاظ ہیں جو کہ ایک جیتا جاگتا،زندہ معاشرے کا زندہ فرد ہے لیکن اپنی عمر کی ناتوانی ، معاشرے کی خود پرستانہ بھاگم دوڑ اور اپنوں کی ستم ظریفی کی وجہ سے کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔
ہمارے معاشرے کا بزرگ لائق ترّحم بھی ہے اورتنہائی کا شکار بھی اور اپنے ہی گھر میں کسی مایوس اجنبی کی طرح کن آنکھیوں سے ہر ایک کو گھورتا رہتا ہے . عدم توجّہی کا مارا ہے خود کو مصروف رکھنے کیلئے، سوائے عہد جوانی کو یاد کرنے کےاس کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا ۔اپنوں کے درمیان رہتے ہوئے اپنائیت سے محروم ہے . سمجھنے کی حس بے کار ہوچکی ہے ہماری ورنہ جس کے دم سے گھر کی رونق اور برکت ہوتی ہے اسے وقت سے پہلے ہی زندگی کے دائرے سے خارج کر دیا جاتا ہے۔
گستاخی معاف اقدار مشرق کے گن گانے والوں!لیکن مجھے اس گروہ بےکساں کیلئے حکومت سے اولڈ ہاؤسز کے قیام کا مطالبہ کرنا ہے تا کہ ان سے بات کرنے کیلئے انہیں سننے کیلئے،ان کے خوشیوں میں شریک ہونے کیلئے،ان کا دکھ درد بانٹنے کیلئے کسی کا ساتھ تو انہیں میسؔر ہو۔ یہی ایک حل باقی رہ گیا ہے جس سے وہ تنہائی کی دلدل سے باہر نکل کر زندگی کو زندوں کی طرح جی سکتے ہیں .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں