javid chudri 10

مرشد کے قریب قریب .. جاوید چوہدری

جاوید چوہدری
میں کولمبس کی قبر کے سامنے کھڑا تھا‘ دنیا کے زیادہ تر لوگ موت کے بعد زمین میں دفن ہوتے ہیں لیکن کولمبس شاید دنیا کا واحد شخص تھا جو مرنے کے بعد چار بار دفن ہوا اور پانچویں مرتبہ اس کی لاش کو ہوا میں معلق کر دیا گیا‘ وہ 20 مئی 1506کو میڈرڈ کے قریب والا ڈولیڈ (Valladolid) شہر میں فوت ہوا‘ آخری زندگی مایوسی‘ غربت اور بیماری میں گزری۔

بادشاہ فرڈیننڈ نے اس سے وعدہ کیا تھا ہندوستان (وہ مرنے تک امریکا کو ہندوستان سمجھتا رہا) سے حاصل ہونے والی دولت کا دس فیصد اس کا ہو گا اور اسے نئی دنیا کا والئی بھی بنایا جائے گا لیکن پھر بادشاہ مکر گیا اور کولمبس کسمپرسی میں مارا مارا پھرنے لگا‘ کولمبس کے مرنے کے بعد پتہ چلا وہ سادگی میں جس سرزمین کو ہندوستان سمجھتا رہا وہ نئی دنیا ہے‘ نئی دنیا کو نئی دنیا کولمبس کے دوست امریکانو ویسپیوسیو نے ثابت کیا اور بادشاہ نے امریکا کو امریکانو کے نام پر امریکا ڈکلیئر کر دیا۔

بادشاہ کو کولمبس کے بعد کولمبس کی قدر ہوئی‘ کولمبس کے بیٹے ڈیگو کو حکم دیا گیا اور وہ باپ کا تابوت والا ڈولیڈ سے نکال کر سیویا لے آیا‘ کولمبس کو دریا کے ساتھ قدیم درگاہ لا کارتوہا (Lacartuja) میں دفن کر دیا گیا‘ کولمبس کا بڑا بیٹا ڈیگوکولمبس سیویا کے شاہی خاندان اور اشرافیہ میں پاپولر تھا‘ بادشاہ فرڈیننڈ نے ڈیگو کو امریکن اسپینش کالونی ڈومنیکا کا وائسرائے بنا دیا‘ ڈیگو کی وفات کے بعد اس کی بیوی ماریا جاتے جاتے سیویا سے اپنے شوہر اور سسر کولمبس کا تابوت بھی ساتھ لے گئی۔

ماریا نے اسے سانتو ڈومینگوکیتھڈرل(Santo Domingo cathedral) میں دفن کر دیا‘یہ کولمبس کی مرنے کے بعد دوسری قبر کشائی اور دوسری نقل مکانی تھی‘ کولمبس 258 سال ڈومنیکا میں دفن رہا‘ 1795 میں ڈومنیکا میں اسپین کے خلاف شورش برپا ہوئی‘ کیوبا اسپین کی کالونی تھا‘ کولمبس اس وقت تک عالمی اثاثہ بن چکا تھا چنانچہ تیسری بار اس کی قبر کھولی گئی اور اس کی لاش کو ڈومنیکا سے ہوانا (کیوبا) شفٹ کر دیا گیا‘ وہ1898 تک ہوانا میں رہا‘1898میںامریکا اور اسپین کے درمیان جنگ شروع ہو گئی‘کیوبا میں بھی اسپین کے خلاف بغاوت شروع ہو گئی۔

1898 میں چوتھی مرتبہ کولمبس کی قبر کھولی گئی اور اس کا تابوت سیویا منتقل کر دیا گیا‘ سیویا کا کیتھڈرل اس کی پانچویں اور شاید آخری منزل تھا‘ کولمبس بار بار کی قبر کشائیوں اور منتقلیوں کی وجہ سے ڈیڑھ سو گرام کی باقیات بن چکا تھا اور یہ باقیات بھی ہڈیوں کا چورا تھی چنانچہ اسے زمین میں دفن کرنے کے بجائے ہوا میں معلق کرنے کا فیصلہ کیا گیا‘ کولمبس کے لیے آبنوس کی لکڑی کا شاندار تابوت بنایا گیا‘ اسپین کے چار بڑے بادشاہوں کے مجسمے بنائے گئے اور تابوت ان چاروں کے کندھوں پر رکھ دیا گیا۔

اُدھر1877ء میں ڈومنیکا میں سانتو ڈومینگو کیتھڈرل میں کھدائی کے دوران ایک باکس دریافت ہوا‘اس کے اوپر کرسٹوفرکولمبس کا نام لکھا تھا اور اس کے اندر 13 بڑی اور 28 چھوٹی ہڈیاں تھیں‘ کھدائی کرنے والوں نے دعویٰ کیا کولمبس کی اسپین لے جائی جانے والی باقیات اصل نہیں ہیں‘ 2002 میں سانتوڈومینگو اور سیویا میں موجود دونوں قبروں کی دوبارہ کھدائی کی گئی‘ باقیات کا ڈی این اے لیا گیااور یہ ڈی این اے سیویا کے کیتھڈرل میں دفن کولمبس کے دوسرے بیٹے ہرنانڈو کی لاش سے میچ کیا گیا تو ثابت ہوگیا سیویا کیتھڈرل کی باقیات ہی اصل میں کرسٹوفر کولمبس کی باقیات ہیں۔

یہ بھی ثابت ہو گیا کولمبس جوڑوں کے درد‘ قلب اور جنسی امراض کا شکار تھا اور اس کی موت دل بند ہونے سے ہوئی تھی اور میں اس وقت کولمبس کی معلق قبر کے سامنے کھڑا تھا اور سوچ رہا تھا انسان خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے‘ اس کا اختتام بہرحال ڈیڑھ سو گرام کی باقیات پر ہوتا ہے‘ وہ مشت خاک سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا‘ یہ حقیقت اپنی جگہ لیکن کولمبس شاید دنیا کا واحد جہاز ران تھا جو موت کے بعد بھی بحری سفر کرتا رہا‘ وہ پانچ سوسال نئی اور پرانی دنیا کے درمیان رواں دواں رہا۔

بادشاہوں نے اس کی دریافت کی قدر نہ کی‘ وہ اپنے وعدوں سے مکر گئے لیکن قدرت نے اس کی قدر بھی کی اور اس کے ساتھ علم اور دریافت کے وعدے بھی نبھائے لہٰذا دنیا میں جب تک امریکا موجود ہے اس وقت تک کولمبس کا نام بھی موجود رہے گا اور شناخت بھی‘ دنیا آج فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کی قبر سے واقف نہیں لیکن لوگ پانچ سو سال بعد بھی کولمبس کی قبر کا طواف کرتے ہیں۔

دنیا میں آج بھی پانچ مقامات پر اس کی قبریں موجود ہیں اور یہ تمام قبریں اصلی ہیں‘ کولمبس ان سب میں دفن بھی رہا اور ان کی مٹی نے اس کی لاش کی خوشبو کو بھی محسوس کیا ‘ بہرحال اللہ ہی سپریم رہے گا اور وہ جب کسی کو عزت دیتا ہے تو پھر کوئی اس سے وہ عزت چھین نہیں سکتا اور کولمبس اس حقیقت کی بہت بڑی نشانی تھا۔

سیویا اندلس کے مشہور دریا وادی الکبیر پر واقع ہے‘ وادی الکبیرغرناطہ کے قریب کیزرولا (Cazrola)کی پہاڑیوں سے نکلتا ہے اور یہ قرطبہ سے ہوتا ہوا سیویا آتا ہے اور پھر وہاں سے کادیز (Cadiz) کے مقام پر بحراوقیانوس میں جا گرتا ہے‘ سیویا بحراوقیانوس سے قربت کی وجہ سے اسپین کی سب سے بڑی منڈی بن گیا‘ بحری جہاز قرطبہ اور سیویا سے چلتے اورشام اور سعودی عرب تک جاتے‘ یہ واپس سیویا بھی آتے تھے۔

مسلمان بادشاہوں نے آٹھویں صدی میں دریا کے دونوں کناروں پر مینار تعمیر کرائے اور ایک انتہائی وزنی زنجیر دونوں میناروں کے ساتھ باندھ دی‘ وہ زنجیر کے ذریعے تجارتی اور فوجی جہازوں کو کنٹرول کرتے تھے‘ زنجیر ختم ہو گئی لیکن ایک مینار آج بھی قائم ہے‘ یہ سنہری مینار کہلاتا ہے اور یہ کیتھڈرل کے مورش مینار کے بعد مورش مسلمانوں کی دوسری بڑی نشانی ہے‘ میں سفر کے آخر میں اس سنہری مینار کے سائے میں بیٹھ گیا‘ شہر کی فصیل میرے سامنے تھی اور وادی الکبیر کا پانی پیچھے‘ تاریخ اپنے رنگوں کے ساتھ میرے سامنے بکھری تھی۔

اشبیلیہ نویں اور دسویں صدی میں دنیا کا سب سے بڑا کتب خانہ تھا‘ دنیا بھر سے کتابیں یہاں لائی جاتی تھیں‘ میں جہاںبیٹھا تھا وہاں نیلام گھر سجایا جاتا تھا‘ کتاب نیلامی کے لیے پیش ہوتی تھی اور پھر اشبیلیہ کے امراء بولی لگا کر وہ کتاب خرید لیتے تھے‘ اشبیلیہ کے امراء اس وقت اپنی جاگیر‘ محل اور خادموں کی تعداد کے بجائے کتابوں سے جانے اور پہچانے جاتے تھے‘ لوگ گلیوں میں چلتے پھرتے ہوئے امراء کے محلوں اور نوکروں کی طرف اشارہ کر کے کہتے تھے یہ وہ گھر ہے یا یہ اس شخص کا ملازم ہے جس کے گھر میں فلاں کتاب موجود ہے۔

حضرت عثمانؓ نے اپنی حیات میں چھ قرآن مجید تیار کرائے تھے‘ آپؓ نے ایک نسخہ اپنے پاس رکھا اور باقی پانچ عالم اسلام کے اہم ترین مقامات پر بھجوا دیے‘ تاریخ میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب یہ چھ کے چھ نسخے اشبیلیہ کے امراء کے پاس تھے‘ ابن رشد‘ ابن بطوطہ‘ ابن خلدون اور ابن عربی جیسے لوگوں نے بھی اپنی جدوجہد کے ماہ و سال اشبیلیہ میں گزارے تھے‘ مولانا روم المغرب (مراکش) اور اندلس جانے والے ہر مسافر کے ہاتھوں اشبیلیہ کے علماء کو سلام بھجواتے تھے۔

صحیح بخاری‘ صحیح مسلم‘ جامع ترمذی‘ سنن ابی دائود‘ سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ کے اصل نسخے بھی اشبیلیہ پہنچے اور اشبیلیہ کے علم پرستوں نے وہ نسخے نیلامی میں خریدے لیکن پھر وہ دور ختم ہو گیا اور اسلامی علم اور آرٹ دونوں کی قندیلیں بجھ گئیں مگر علم کا دھواں اور فضل کی مہک ابھی تک سیویا کی گلیوں میں موجود ہے‘ شہر کی فضا میں آج بھی گئے دنوں کی طراوت زندہ ہے‘ یہ وہ شہر تھا جہاں کبھی اذانیں سانس لیتیں اور نمازیوں کے قدم لبیک لبیک کہتے تھے‘ جہاں علم سورج کی طرح پھوٹتا اور عرفان ہوا کی طرح بٹتا تھا۔

جہاں تصوف کی نبضیں رک جاتی تھیں اور منطق بولتے بولتے حقیقت کا روپ دھار لیتی تھی‘ سنہری مینار ‘اس سنہری مینار اور اس کے سائے میں بہتے وادی الکبیر میں آج بھی گئے‘ پرانے اور بیتے ہوئے وقتوں کی ہلکی ہلکی باس موجود تھی‘ سیویا کے چہروں اور گہری سیاہ آنکھوں میں بھی تاریخ کے پھٹے پرانے ورق زندہ تھے‘ وقت اور تاریخ کے قافلے گزر گئے لیکن قدموں کے نشان ابھی باقی ہیں۔

ابن رشد‘ ابن بطوطہ‘ ابن خلدون اور ابن عربی بھی ابھی سیویا کی فضا میں زندہ ہیں اور دنیا میں جب تک کتاب‘ علم اور مسلمان تینوں موجود ہیں دنیا کی کوئی طاقت اس وقت تک سیویا کی فضا سے یہ نقش نہیں مٹا سکے گی‘ سیویا میں اس وقت تک اشبیلیہ قائم رہے گا‘ دنیا میں ازابیلا جیسی ہزاروں ملکائیں اور فرڈیننڈ جیسے لاکھوں بادشاہ آئیں گے‘ جائیں گے اور پھر ان کی قبروں کے نشان تک بکھر جائیں گے لیکن اشبیلیہ جیسے شہر‘ ان شہروں میں مسجدوں کے مینار اور ان میناروں کے سائے میں بیٹھی اسلامی تاریخ یہ ہمیشہ قائم رہے گی‘ یہ کبھی ختم نہیں ہو گی۔

میں نے انگڑائی لی‘ سنہری مینار کا بدن نومبر کی دھوپ میں سرشار تھا اور پچھلے پہر کی طلائی کرنیں وادی الکبیر کے پانیوں کو گدگدا رہی تھیں‘ کیتھڈرل کی گھنٹیوں نے بھی انگڑائی لی اور فضا میں ٹن ٹن کی آوازیں گونجنے لگیں‘ میں اٹھا اور سہیل مقصود کے ساتھ پارکنگ لاٹ کی طرف چل پڑا‘ ہماری گاڑی سیویا کے جدید محل کی پارکنگ میں کھڑی تھی‘ ہم نے رات سے پہلے طریفہ پہنچنا تھا اور پھر طریفہ سے طنجہ (مراکش) کے لیے بحری جہاز (فیری) لینا تھا‘ طنجہ میرے جیسے پاگلوں کے مرشد ابن بطوطہ کا شہر ہے۔

ابن بطوطہ 1304ء میں طنجہ میں پیدا ہوا‘ 22 سال کی عمر میں حج کے لیے نکلا اور پھر غائب ہو گیا‘ مرشد نے 30 سال میں 44 ملک پیدل گھومے‘ وہ افریقہ‘ مڈل ایسٹ‘ سنٹرل ایشیااور ہندوستان سے ہوتا ہوا چین جا پہنچا‘ 1355 میں واپس آیا تو دماغ کی گٹھڑی میں ہزاروںہیرے بندھے تھے‘ فیض شہر (FES) اس وقت المغرب (مراکش کا عربی نام) کا دارالحکومت تھا‘ بادشاہ نے مرشد کو فیض بلایا۔

استاد کو احترام دیااور اسے دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی القراویں میں پروفیسر لگا دیا لیکن ٹک کر بیٹھنا اور پڑھانا مرشد کے بس کی بات نہیں تھی چنانچہ ابن بطوطہ واپس طنجہ آ گیا اور بادشاہ کے حکم پر اپنی معرکۃ الآراء کتاب ’’رحلہ‘‘ لکھنا شروع کر دی‘ کتاب مکمل ہوئی تو مرشد 1368 میں طنجہ کی تنگ اور قدیم گلیوں میں فوت ہو گیا‘ میں نے 1984 میں منت مانگی تھی میں جب مرشد کے دیکھے 44 ملک دیکھ لوں گا تو اس کے مزار پر حاضری دوں گا‘ میرا سکور 80 ہو چکا ہے چنانچہ میں اندھیرے سے پہلے پہلے طریفہ پہنچنا چاہتا تھا‘ مرشد کے قریب پہنچنا چاہتا تھا۔

بشکریہ. جاوید چوہدری . ایکسپریس نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں