Buner 26

بونیر: 23 دسمبر ضمنی انتخابات کے لئے تیاریاں عروج پر

عمران بونیری . ریڈیو بونیر
صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع بونیر کے سیاسی فضاء میں 23دسمبر 2018 کے ضمنی بلدیاتی انتحابات کی وجہ سے گر میں پیدا ہو ئی ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں دو ڈسٹر کٹ ،تین تحصیل اور 6ویلج کونسلز سیٹس جیتنے کے لئے صلاح مشوروں اور میٹنگز میں مصروف ہیں۔خالی نشستوں پر ٹوٹل 34امیدوار آمنے سامنے ہیں جس میں یونین کونسل نوریزی کے ڈسٹر کٹ کونسل سیٹ کے لئے پانچ امیدوار،تحصیل کونسل سیٹ کے لئے چھ امیدوار،یوسی ملکپور کے ڈسٹر کٹ سیٹ کے لئے چار امیدوار،تحصیل کونسل گاگرہ کے خالی سیٹ پرنو امیدوار اور تحصیل کونسل ڈگر کے یوسی ایلئی کے سیٹ پر 12امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کی ہیں۔اسی طرح ویلج کونسلوں کے خالی نشستوں پر وی سی دکاڑہ کے جنرل نشست کے لئے چار،وی سی سنی گرام کے کسان نشست کے لئے تین،وی سی سنی گرام جنرل نشست کے لئے دو،وی سی جوڑ ون کے خالی نشست پر چھ،وی سی نان سیر کے خالی نشست پر چھ اور وی سی سورا ون کے خالی نشست برائے خواتین پر ایک خاتون نے کاغزات نامزدگی جمع کی ہیں۔کاغذات کی واپسی کے لئے 3دسمبر کی تاریخ مقرر ہیں جبکہ فائنل لسٹ 4دسمبر کوجاری کیا جائے گا اور 23دسمبر کو ضمنی بلدیاتی انتحابات کا انعقاد ہو گا۔
بونیر الیکشن کمیشن کے مطابق مندر جہ بالا خالی نشستوں میں ٹوٹل 91ہزار 889ووٹرز ہیں جس میں 51ہزار 341میل اور 40ہزار 545فیمل ووٹرز ہیں۔23دسمبر کو ہونے والے ضمنی بلدیاتی انتحابات کے لئے ٹوٹل 79پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں جس میں 25پولنگ سیٹشن میل،22پولنگ سیٹشن فیمل جبکہ 32پولنگ سیٹشن کمبائن ہیں۔
ڈسٹر کٹ کونسل کی خالی نشستوں میں یوسی ملکپور کی سیٹ پی ٹی ائی کے ضلعی صدر اور ایم پی اے ر یاض خان ،یوسی نوریزی کی ڈسٹر کٹ کونسل سیٹ پاکستان مسلم لیگ ن یوتھ ونگ کے ضلعی صدر و سابق این اے 9امیدوار کامران خان،یوسی نوریزی کے تحصیل کونسل گاگر ہ کی سیٹ جے یو ائی کے ر ہنماو سابق پی کے 21کے امیدوار سردار علی خان،یوسی ایلئی کی تحصیل کونسل ڈگر کی سیٹ ڈاکٹر عبد اللہ اور تحصیل کونسل گاگر ہ کی سیٹ پی ٹی ائی کے ر ہنماء بختیار علی خان نے استعفی دے کر خالی کیا ہے۔مندر جہ بالا پانچوں امیدوار وں نے عام انتحابات 2018کے لئے اپنی اپنی سیٹوں سے استعفی ٰ دیا تھا جس میں پی ٹی ائی کے ضلعی صدر ر یاض خان پی کے 20سے عام انتحابات جیت کر ممبر صوبائی اسمبلی بن چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ چار امیدواروں کو جنرل الیکشن میں ناکامی کا سامنا کر نا پڑا تھا۔

مندر جہ بالا دو ڈسٹر کٹ اور تین تحصیل سیٹوں میں پی ٹی ائی کے دو،پی ایم ایل این کے دو جبکہ ایک سیٹ جے یو ائی کے ہیں اور ان سیٹوں میں جماعت اسلامی اور اے این پی کی کوئی سیٹ خالی نہیں ہو ئی ہیں۔سیاسی جماعتوں کے قائدین 23دسمبر کو ضمنی بلدیاتی الیکشن کی بجائے تمام سیاسی جماعتون کو ایک ایک سیٹ دینے کے لئے جر گے کر ر ہے ہیں جبکہ بعض سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ جس جماعت کے امیدوار نے سیٹ سے استعفیٰ دے دیاہے اس سیٹ کواس سیاسی جماعت کے امیدوار کو دے دیا جائے۔

اے این پی سے تعلق ر کھنے والے نائب ضلع ناظم یوسف علی خان کے دفتر واقع سول سیکرٹریٹ ڈگر میں تمام سیاسی جماعتوں کے ضمنی بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے دو جر گے ہو چکے ہیں جس میں مختلف فار مولوں پر غور و غوض اور صلاح مشور ے ہو چکے ہیں تاہم سیاسی جماعتیں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ چکی ہیں اور تاحال سیاسی جماعتوں کے در میان ڈیڈ لاک برقرار ہیں۔اے این پی اور جماعت اسلامی چاہتی ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ایک سیٹ ملے جبکہ پی ٹی ائی اور دیگر سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ جس پارٹی نے سیٹ خالی کیا ہے یہ سیٹ اس سیاسی جماعت کو ملے لیکن تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔سیاسی جماعتوں کو 3دسمبر 2018سے پہلے پہلے کسی نتیجے پر پہنچنا ہو گا کیونکہ 3دسمبر کے بعد کاغزات کی واپسی نہیں ہو گی اور چار دسمبر کو حتمی لست جاری کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں