khwaja 8

پشاور میں خواجہ سراء کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

پشاور۔
چٹکی نامی خواجہ سراء پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار ی کے بعد ضمانت پر رہائی پانے والے ملزم نے دوبارہ27 لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ کردیا اور بھتہ نہ دینے کی صورت میں جان دے مارنے کی دھمکی دے دی جس پر متاثرہ خواجہ سراء ایک بار پھر تھانے پہنچ گیاجبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے اُس کی تلاش شروع کردی ہے واضح رہے کہ مذکورہ ملزم رنگ روڈ پر ایک خواجہ سراء کو اُس کے ساتھی سمیت قتل کرنے کے الزام میں بھی گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہائی پاچکا ہے۔

خواجہ سراء شکیل عرف چٹکی ولد جان محمد ساکن مردان تخت بھائی حال گلبہار کالونی پشاور نے رپورٹ درج کراتے ہوئے گلبہا رپولیس کو بتایا ’’آصف ولد تسلیم ساکن اتحاد کالونی نامی شخص جو دوستی سے انکار پر غلط فہمی میں پہلے ہی میرے ہمنام خواجہ سرا چٹکی کو ساتھی سمیت قتل کرچکا ہے اور بعد ازاں دوہرے قتل کے الزام میں گرفتاری کے بعد عدالت سے ضمانت پر رہائی بھی پاچکا ہے ۔

اب دوبارہ اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے پر اتر آیا ہے ملزم آصف نے گزشتہ شب فون کرکے دھمکی دی کہ دوستی کرو ،یا 27 لاکھ روپے بطور بھتہ ادا کرو ورنہ اس بار زندہ نہیں چھوڑوں گاواضح رہے کہ 27 مارچ 2018 کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے خواجہ سراء غلام شبیر عرف چٹکی ساکن ٹانک کو دوست رکشہ ڈرائیور اعزاز سمیت فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا جس کے الزام میں پولیس نے ملزم آصف اور بلال حسین کو گرفتار کرلیا تھا ۔

تاہم بعد ازاں ناقص تفتیش کے باعث دونوں ملزمان عدالت سے ضمانت پر رہا ہوگئے تھے جس کے بعد ملزم آصف نے شکیل عرف چٹکی نامی خواجہ سراء کو دوبارہ دھمکیاں دینا شروع کردی تھی اور 2 نومبر کو چٹکی پر قاتلانہ حملہ کیا تاہم اُس حملے میں وہ بال بال بچ گئی تھی، بعد ازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم آصف کو دوبارہ گرفتار کرلیا

تاہم ایک بار پھر ناقص تفتیش اور کمزور گواہان کی وجہ سے وہ عدالت سے ضمانت پر رہا ہوگیا جس کے بعد اُس نے مبینہ طور پر دوبارہ چٹکی کو دھمکانا شروع کردیا ہے۔خواجہ سراء چٹکی نے پولیس کے اعلیٰ افسران سے تحفظ کی فراہمی یقینی بنانے اور ملزم کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں