Abaseen yousafzi 14

نظریے کے بغیر ادب ذہنی عیاشی ہے، پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی

روخان یوسفزئی. پشاور
اہری قد کاٹھ سے تو یوں لگتا ہے کہ سوپشت سے ہے پیشہ آباء ’’پہلوانی‘‘ کیوں کہ انہیں قدرت نے ایسی خوب صورت قدوقامت بخشی ہے جسے مقناطیسی شخصیت کہاجاتا ہے، اس کے علاوہ ان کی آواز بھی بہت جاندار ہے۔

جس طرح اساطیری روایت میں ’’ارفیس‘‘ سب سے زیادہ مشہور اور بہترین موسیقار مانے جاتے ہیں، جن کے بارے میں یونانیوں کا عقیدہ تھا کہ ’’ارفیس‘‘ کے نغموں اور گیتوں میں ایسا جادو اور طاقت ہے جس کے ذریعے بے جان اشیاء بھی حرکت میں آجاتی ہیں؛ یعنی سنگ دل سے سنگ دل انسان بھی ارفیس کی نغمگی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ارفیس کے بارے میں کہی گئی اس بات کا اطلاق ہمارے ممدوح معروف شاعر، ادیب،کالم نگار، ماہر تعلیم اورکمپئیر پروفیسرڈاکٹر اباسین یوسف زئی پر بھی کیا جا سکتا ہے۔

جنہوں نے شہر سے دور ایک پس ماندہ دیہاتی ماحول میں جنم لینے کے باوجود اپنے مطالعے، مشاہدے اور احساس کی آنکھ سے ایسے فن پارے تخلیق کیے ہیں جس نے خیبر پختون خوا، افغانستان، عرب امارات، بلوچستان اور سندھ میں آباد پختونوں کے دل میں گھر کر رکھا ہے۔ اپنی مٹی کا تذکرہ ہو، مظلوم انسانیت کی بات ہو، اونچے پہاڑوں، بہتے دریائوں، تاریخی گزر گاہوں کا ذکر ہو، اپنے اسلاف کی قربانیوں اور کارناموں کا تذکرہ ہو، قدرتی مناظر کی عکاسی ہو؛ ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کی شاعری ان تمام رنگوں اور موضوعات سے پورا پورا انصاف کرتی ہے۔

ان کی شاعری پختونوں کی معاشرتی، سیاسی، رومانوی اور نفسیاتی زندگی کی ترجمان ہے۔ اباسین یوسف زئی اپنے منفرد طرز بیان، لب و لہجے اور مخصوص ڈکشن کے لحاظ سے عام و خاص میں یکساں مقبول اور پسندیدہ شاعر ہیں۔

پاکستان کے علاوہ افغانستان کے کئی معروف پختون گلوکاروں نے ان کے کلام کو موسیقی کی زبان بخشی ہے۔ اباسین نے ہمیشہ اپنے نظریے کی روشنائی میں ڈبوئے قلم کے ذریعے زنگ آلود معاشرے کو تبدیلی کا راستہ دکھایا ہے۔ اس معروف شاعر کی غزلیں، گیت اور نظمیں کھیتوں کھلیانوں، گونجتے ہوئے حجروں سے لے کر ملک کے بڑے بڑے پختون سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور معززین کے گھروں تک بڑے شوق سے سنی جاتی ہیں۔

لوئردیر کے حسین نظارے ان کے لیے آغوش کی حیثیت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اب بھی حسن وخیر کی تلاش میں بستی بستی سرگرداں کسی بنجارے کی مانند گھومتے پھرتے ہیں۔ وہ بڑے لطیف اورمرنجاں مرنج مزاج کے مالک ہیں؛ فطرتاً ایک دیہی باشندے کی طرح سادہ اور اکھڑبھی۔ ان کا خمیر اپنی مٹی، قوم اور انسانیت کی محبت سے گوندھا گیا جس کی واضح جھلک ان کے روز مرہ معمولات اور فن میں ملتی ہے۔

ان کا فن جمال و جلال سے عبارت ہے، معتدل مزاج اورعجز و انکساری کا عملی نمونہ ہیں اور پوری دنیا میں امن و محبت، بھائی چارے اور اجتماعی ترقی کے خوگر ہیں۔ ان کے دل ودماغ میں بنی نوع انسان کے لیے محبت اورخلوص کا جو رچائو ہے اس نے ان کے فن اور شخصیت دونوں کو پرتاثیر بنا رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان سے ملنے والا بار بار ا ن سے ملنے کی خواہش کرتا ہے۔

وہ ایک کھرے قسم کے پختون ہیں اور ان میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جسے’’ پختون ولی‘‘ کہاجاتا ہے، انقلابی اور قومی موضوعات کو رومانیت کی زبان میں پیش کرنے کا ہنر بھی اچھی طرح جانتے ہیں، ان کی شاعری میں حدیث شوق اور حسن کی تابانیاں نمایاں طور پر محسوس کی جاسکتی ہیں۔ اپنے رومانی مزاج اورجمالیاتی احساس کے باجودکہیں بھی زندگی کے تلخ حقائق اورمسائل حیات سے چشم پوشی نہیں کرتے، طبعیت کے لحاظ سے اتنے ملائم اوربے ضرر ہیں کہ ان کا سخت مخالف بھی ان پر بھروسہ کرسکتا ہے۔ وہ بعض شعراء کی طرح ہروقت گیان دھیان اور سوچ و فکر میں غرق رہنے والے نہیں بلکہ بے تکلف دوستوں کی محفلوں میں چہکنا، ہنسنا اورہنسانا بھی خوب جانتے ہیں۔ ان کے مزاج میں افسرشاہی کی رعونت نہیں بلکہ ان کی شخصیت پر ہر وقت پختونیت کا رنگ غالب رہتا ہے۔

اباسین یوسف زئی جن کا اصل نام مسلم شاہ ہے، یکم جنوری1962ء کو ملک برادر خان کے ہاں خان پور تحصیل ادین زئی کوز دیر ملاکنڈ ڈویژن میں پیدا ہوئے۔ ان کے چھ بھائی اور بہنیں ہیں جب کہ وہ تیسرے نمبر پر ہیں۔ پرائمری تک تعلیم آلوچوں کے باغ میں خالی بوریوں پر بیٹھ کر حاصل کی کیوں کہ ٹاٹ تک دستیاب نہیں تھے، بارش کے دن ان کی چھٹی ہوتی تھی، گرمیوں میں درختوں کے سائے میں دھوپ سے محفوظ رہتے اور سردیوں میں دھوپ سینکتے، پاس ہی ایک چھوٹی سی نہر بہتی جو تختیاں دھونے کے کام آتی۔ 1977ء میں شاعری کے میدان میں قدم رکھا، پہلی فلم’’ ناوے دیوے شپے‘‘ دیکھی، میٹرک1980ء میں خان پور کے سکول سے کیا۔ ایف اے 1982ء اور بی اے 1984ء میںصوبے میں تیسری پوزیشن حاصل کرکے پاس کیا۔ ایل ایل بی 1986ء خیبر لاء کالج، ایم اے پشتو 1988ء میں صوبے میں ٹاپ کیا۔

2016ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، ان کے مقالے کا موضوع’’د حمزہ شنواری پہ شاعری کے د قومیت تصور‘‘(حمزہ شنواری کی شاعری میں قومیت کا تصور)۔ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ بچپن میں تقریباً تمام ہی روایتی کھیل مثلاً سخے، گلی ڈنڈا، آنکھ مچولی، چھپن چھپائی، انگئی، میرا ڈبہ وغیرہ کھیلے تاہم بعد میں والی بال اور کرکٹ نے یہ سب کچھ چھڑوا دیا۔ آخر میں تو کرکٹ کے ہی ہو کر رہ گئے، جب اگلی کلاس میں پروموٹ ہوتے تو تمام کتابیں پہلے ہی ہفتے پڑھ ڈالتے، استاد جب پڑھا رہے ہوتے تو زیادہ تر چیزوں خصوصاً تلفظ اور معنی کے حوالے سے ان کی رائے کو اولیت دی جاتی اور ان کے ٹیچرز لیاقت یار باچا اور شمس الاسلام ان کو مثال بناکر پیش کرتے۔ اردو میں ان کو کئی بار سو میں سے99 نمبر ملے، لیکن ریاضی میں کم ترین نمبر لینے کا ریکارڈ اب تک کوئی نہیں توڑ سکا۔

میٹرک کرنے سے پہلے وہ والد کی نصابی کتب اور شوقیہ جمع کی ہوئی تقریباً تمام کتابوں کا چوری چھپے مطالعہ کرچکے تھے، خصوصاً ’’ماہنامہ پشتو‘‘ (پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی) ان کے والد کے نام آتا تھا، اس مجلے نے ان کے ادبی ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب نصابی کتب کی نظموں نے بھی مہمیز کا کام کیا۔ جب وہ تیسری جماعت میں تھے تو وہ اور ان کے کلاس فیلو فصیح الدین سارا دن فارغ اوقات میں نصابی نظموں کی پیروڈیز کر کے ہنسنے ہنسانے کا سامان کرتے، باقاعدہ شاعری کا آغاز آٹھویں جماعت سے کیا۔ شعر و شاعری اور لکھنا پڑھنا اور پڑھانا ہی اوڑھنا بچھونا ہے، اگر شاعر نہ ہوتے تو شاید کچھ بھی نہ ہوتے۔ سماجی کارکن بننے کی کوشش کی مگر سیاست میں کبھی دل چسپی نہیں رہی۔ موسم کے حوالے سے کہتے ہیں:

جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

ان کو بہار کے ساتھ خزاں کا موسم بھی بہت اچھا لگتا ہے۔ ان کو اب تک رحمان ادبی ایوارڈ، گولڈ میڈل 1994ء اباسین آرٹس کونسل، چاچا کریم بخش ایوارڈ (غور زنگونہ) قمر راہی پشتو ادبی مکتب مردان پاکستان کی جانب سے بہترین غزل گوئی پر،کاٹلنگ پشتو ادبی جرگہ کی جانب سے ادبی خدمات پر ایوارڈ، گلوبل ایوارڈ بہترین کمپیئر اور سکرپٹ رائٹر برائے 2000ء الیکٹرانک میڈیا، بہترین منتظم، اسلامیہ کالج ٹیچر ایسوسی ایشن سال2001ء، شاعری کی بہترین کتاب برائے سال 2005ء (الوت) چاچا کریم بخش ایوارڈ؛ سو کے قریب شیلڈز، میڈلز اور سووینرز مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ادبی اور تعلیمی اداروں کی طرف سے دیئے جا چکے ہیں۔

ادبی خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ برائے حسن کارکردگی اور حال ہی میں افغانستان کی حکومت نے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا ہے۔ پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور دیگر چینلز کے لیے درجنوں پروگرام لکھے اور میزبانی کی، جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور اور انجینئرنگ یونیورسٹی ایبٹ آباد کیمپس میں پختون ثقافت، شاعری اور عوامی ادب پر لیکچر دیتے رہتے ہیں۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ غور زنگونہ (امواج مست) متعدد بار چھپ چکا ہے،’’ الوت‘‘(پرواز) کتاب کے بھی کئی ایڈیشن شائع ہوئے ہیں، ان کے تیسرے مجموعہ کلام’’مرام‘‘(منزل) نے بھی اب تک خاصی مقبولیت حاصل کی ہوئی ہے۔ روح نامہ (ترجمہ) مصنف ظفر مراد ترکمانباشی، زیتون بانو فن اور شخصیت، خطبات امام خطاب (پشتو ترجمہ) کے علاہ متعدد کتابیں لکھی ہیں۔’’روزنامہ مشرق‘‘، ہفت روزہ روشن پاکستان، وحدت کے لیے کالم لکھتے رہے۔

بچپن میں قطعاً شرارتی نہیں تھے، کھیل کود میں بھرپور حصہ لیا کرتے تھے، بڑے بھائی سے لڑائی وغیرہ ہوتی رہتی البتہ چھوٹے بھائیوں کی پٹائی کیا کرتے لیکن بے جا نہیں بلکہ اصلاح کے لیے۔ غلیل سے پرندوں کا شکار کرتے اور روزانہ آٹھ دس پرندے مارا کرتے، گھر کے قریب ندی کے صاف شفاف پانی میں گھنٹوں تیراکی کرتے۔ اب تک مشترکہ خاندانی نظام میں پرسکون زندگی گزار رہے ہیں، تاحال شعبہ پشتو اسلامیہ یونی ورسٹی کے چئیرمین اور خیبر یونی ہال کے انچارج ہیں۔ فلمی اداکاروں میں ریکھا، رانی، کویتا پسندیدہ اداکارائیں ہیں۔ موسیقی سے بہت لگائو رکھتے ہیں جس کو موسیقی پسند نہ ہو اس کو سفاک قرار دیتے ہیں۔

پسندیدہ گلوکاروں اور گلوکارائوں میں خیال محمد، لتا منگیشکر، مہدی حسن، ناہید اختر، ناشناس، قمر گلہ شامل ہیں۔ وہ نظریے کے بغیر ادب کو ذہنی عیاشی کا نام دیتے ہیں۔ سیاحت کے بڑے شوقین ہیں اور گرمیوں کی چھٹیوں میں گھر والوں سمیت باڑا گلی کی طرف نکل جاتے ہیں۔ اب تک افغانستان، سعودی عرب، قطر، دبئی اور ترکمانستان کے علاوہ کئی دیگر ممالک کی سیر کرچکے ہیں، ان کی خوب صورتی کے بھی معترف ہیں لیکن اپنے دیس کو بے مثال قرار دیتے ہیں۔ چاندنی رات میں کسی ویرانے کا منظر ان کو بہت بھاتا ہے، تمام رنگ پسند ہیں، شلوار قیمص اور واسکٹ ان کا پسندیدہ لباس ہے۔

اباسین یوسف زئی 9 نومبر 1995ء کو رشتہ ازدواج میں بندھے، منہ دکھائی میں بیگم کو سونے کا لاکٹ دیا تھا، ان کی چار صاحب زادیاں ہیں جن میں بڑی صاحب زادی سیالہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر بن چکی ہیں جبکہ باقی تین تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ کھانے میں ہر وہ چیز پسند ہے جو اچھی پکی ہوئی ہو، مرچیں بہت کم استعمال کرتے ہیں، کھانا بنانا نہیں جانتے۔ ان کاکمرہ ان کی لائبریری بھی ہے، جہاں چہار سُو کتابیں ہی کتابیں ہیں، ہر مثبت سوچ رکھنے والا سیاست دان ان کو پسند ہے لیکن ان کے خیال میں اب ایسے لوگ ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ کہتے ہیں، ’’باچا خان، نیلسن منڈیلا، شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے لوگ اب کہاں؟‘‘ خوشحال خان خٹک، رحمان بابا، غنی خان، حمزہ شنواری، علامہ اقبال، ساحر لدھیانوی، دوست محمد خان کامل، قلندر مومند، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز، سیف الرحمان سلیم کی شاعری سے بہت متاثر ہیں۔

تقریباً تمام ہی دستی ہتھیارچلانا جانتے ہیں مگر قتل مقاتلے سے شدید نفرت ہے۔ ان کے مطابق، ’’تمام سمندر سیاہی بن جائیں تب بھی حسن و عشق کی تفسیر نہیں لکھی جاسکتی، حسن و عشق ہی نے تو کائنات میں رنگ بھر دیے ہیں، حسن اجزاء اور رنگوں کے مجموعے کا نام نہیں یہ وہ تاثیر ہے جو اشیاء کو ابدیت بخشتی ہے، ہمیں اللہ تعالیٰ نے حواس خمسہ سے نوازا ہے اور حواس خمسہ کے زور پر گرد و پیش کے حسن کو جانچنے کا ادراک دیا ہے۔

آنکھوں کے ذریعے بناوٹ اور رنگوں کا امتزاج دیکھ کر کسی چیز کے بارے میں رائے قائم کرنا، کانوں کے ذریعے کسی آواز کا حسن معلوم کرنا، ناک کے ذریعے بُو میں حسن ڈھونڈنا، زبان کے ذریعے ذائقے میں حسن تلاشنا اور لمس کے ذریعے گرمی، سردی، نرمی، سختی اور اعتدال کا حسن معلوم کرنا اور ان سب سے بڑھ کر حسن اخلاق، حسن کردار اور حسن نیت معلوم کرنا۔ حسن ظاہری چیز ہے اور جمال باطنی، حسن و جمال کے امتزاج سے انسانیت تکمیل کو پہنچتی ہے اور عشق کے طفیل تو حسن کا دم ہے، حسن کی دریافت عشق کی وجہ سے ممکن ہوئی، عشق صادق جذبوں کے ذریعے منزل مقصود تک پہنچنے کا نام ہے۔‘‘

ملکی حالات کی بہتری کے لیے ہر دم دعاگو رہتے ہیں، ان کے خیال میں ہم اپنے آپ کو قوم کہتے ہیں مگر ہم قوم نہیں، ایک ریوڑ جیسے ہیں اور وہ بھی گڈریے کے بغیر۔ ہم غلط لوگوں کو اپنے اوپر مسلط کر لیتے ہیں اور پھر انہی کے خلاف بولتے ہیں، صحیح فیصلہ بروقت نہیں کرتے۔ وہ کسی بھی ناجائز بات پر غصے میں آجاتے ہیں، لطیفے سننا سنانا ان کو بہت پسند ہے، کابل ایئر پورٹ پر پی آئی اے جہاز میں سوارہونے کے بعد ایئر ہوسٹس کا پشتو زبان میں ہدایات دینا بڑا خوش کن لگا، جس کو اپنے لیے ناقابل فراموش خوشی کا موقع قرار دیتے ہیں۔

دوستی، محبت اور جمہوریت سے بھرپور پیار کرنے والے ہیں، انہیں اپنے بچوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع ذرا کم ملتا ہے، مگر جب بھی ملتا ہے تو بھرپور طریقے سے وقت گزارتے ہیں۔ خریداری خود ہی کرتے ہیں، خوابوں پر یقین رکھتے ہیں کئی خوابوں کی تعبیریں سچ ثابت ہو چکی ہیں، علم نجوم کے بارے میں نہیں جانتے، ہاتھ کی لکیروں کو پڑھنا آتا ہے لیکن کہتے ہیں کہ مختار کل اللہ ہی کی ذات ہے، قدرتی آفات، قہر الٰہی سے ڈرتے ہیں۔ تنہائی میں بے حد سکون محسوس کرتے ہیں:

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

انہیںاپنے آپ سے باتیں کرنا بے حد اچھا لگتا ہے، اس طرح انہیں یکسوئی سے سوچنے کا موقع ملتا ہے، اگر ان کو کھانا اور چائے وقت پر ملے تو ساری عمر تنہائی میں بیٹھ کر بوریت محسوس نہیں کریں گے۔ پختون ولی اور اسلام پر صداقت سے عمل کو تمام مسائل کا حل سمجھتے ہیں، ان کے خیال میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے کتاب کلچر کو کوئی خطرہ نہیں، ادب کو کُل جب کہ سیاست کو ایک جُز کانام دیتے ہیں۔ ان کے بقول، ’’محبت، بھائی چارے، امن اور سلامتی کے پرچار میں ادب کبھی پیچھے نہیں رہا، اس سانچے کے خلاف چلنے والا ادب، ادب ہی نہیں ہو سکتا۔‘‘ ان کی خواہش ہے کہ پشتو کو دفتری، کاروباری اور سرکاری زبان کی حیثیت مل جائے۔

وہ نائب مدیر روزنامہ ھیواد، سیلز مینجر اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن، انچارج سٹوڈنٹس سوسائٹیز پشاور یونیورسٹی، انچارج خیبر یونین ہال اسلامیہ کالج پشاور، چیف آرگنائزر خیبر سٹوڈنٹس سوسائٹیز اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور، وارڈن، عبدالقیوم منزل ہاسٹل اسلامیہ کالج، سینئر وارڈن حاجی صاحب ترنگزئی ہاسٹل اسلامیہ کالج، سینئر وارڈن چمسفورڈ ہاسٹل اسلامیہ کالج، سٹاف پراکٹر اسلامیہ کالج، انچارج کرکٹ ٹیم اسلامیہ کالج یونیورسٹی رہے ہیں۔ سعد اللہ جان برق، ڈاکٹر یونس بٹ اور حسن نثاران کے پسندیدہ کالم نگار ہیں۔ عشق کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کی کامیابی ناکامی میں مضمر ہے، جس کو لوگ کامیابی کہتے ہیں وہ اسے ناکامی سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں، ’’عشق نے شاعری سے نوازا ہے، بے شمار لوگوں کے پیار کا قابل بنا دیا ہے۔‘‘

(بشکریہ ایکسپرس نیوز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں