images (1) 12

افلاس کی بستی میں تحریر: سنبل جان صدیقی

کیسی ہوتی ہوگی وہ زندگی جب کوئی بچؔہ سرد موسم کی ایک یخ بستہ صبح میں کسی جیکٹ کے بغیر سردی سے ٹھٹرتے ہوئےہاتھ بغلوں میں باندھ کر ہوا کے تھپیڑوں کو برداشت کرتے ہوئے کسی چائے خانے کی طرف جاتا ہےکیونکہ وہاں مزدوری کر کے اس نے اپنے گھر کا انتظام چلانا ہے۔اس باپ کے کرب کا کیا عالم ہوگا جو دن بھر مزدوری کی تلاش میں مارا مارا پھرنے کے باوجود خالی ہاتھ رہا اور اب آدھی رات کو بوجھل قدموں سے وہ یہ سوچ کر گھر چلا جارہا ہے کہ اپنے بھوکے بچؔوں کے چہروں پہ نقاہت کے ساتھ مایوسی کیسے دیکھے گا؟
اس لڑکی کے احساسات کی کیا کیفیت ہوگی جس کی گھر میں بیٹھ کر جوانی ڈھلتی جاتی ہے کیوںکہ جہیز نہ ملنے کے ڈر سے اس کا رشتہ نہیں طے پا رہا۔اس ماں کے دل پہ کیا گزرتی ھوگی جو اپنی اولاد کو اچھے کھانے اور اچھےکپڑوں کی خواہش رکھنے کے باوجود ضبط کرتے ہوئے دیکھتی ہے کیوںکہ اس کے شوہر کی ساری کمائی اس کے علاج پہ خرچ ہورہی ہے۔
کیسا ہوتا ہوگا وہ عالم جب ایک بھائی اپنی بہن کو سڑکوں پر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہوا دیکھتا ہے۔عدم تحفظ کا وہ احساس کیسا ہوگا جو سڑکوں پہ دن رات گزارنے والے “سٹریٹ چلڈرنز” کو ہر وقت لاحق رہتا ہے۔ وہ معصوم کس دکھ سے گزر رہا ہوگا جو اپنے خاندان سے دور کسی امیر گھرانے میں گھریلو ملازم کی حیثیت سے رہ رہا ہے۔اس خاندان کی تکلیف کا کس کو اندازہ ہے کہ جس کے کسی نوجوان نے صرف اسلئے اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے ختم کردی کیوںکہ وہ بیروزگاری سے تنگ آچکا تھا۔
غربت کی وہ کونسی انتہا ہوتی ہے جب ایک مرد ایک عورت سے پرس چھیننے پر مجبور ہوتا ہے،دوسرے کے گھر میں ڈاکہ ڈالنے پہ آمادہ ہو جاتا ہے،یہاں تک کہ قتل بھی کر بیٹھتا ہے۔برداشت کی وہ کونسی آخری حد ہوتی ہے جس سے گزر کر ایک عورت اپنی نسوانیت بیچنے پہ مجبور ہوجاتی ہے،اپنے مقدّس وجود کی بے حرمتی کیلئے تیار ہوجاتی ہے اور پیٹ پوجا کیلئے خود کو پامال ہوتا دیکھتی ہے۔مایوسی کی وہ لہر کیسی ہوتی ہے جو ایک نوجوان،ایک خاندان کے سہارے کو اپنی زندگی کا چراغ اپنے ہاتھوں سے گل کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ حالات سے انتقام کا وہ جذبہ کیسا ہوتا ہے کہ ایک باپ خود سمیت اپنے معصوم بچّوں کے جسم ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہےوہ حالات کیسے ہوتے ہیں کہ جب والدین اپنے گھر پر اپنے جگرگوشوں کی فروخت کیلئے “بچّے برائے فروخت” کے بورڈز لگا لیتے ہیں۔ محسوسات کی وہ شدّت کیسی ہوتی ہے جب لوگ پنے حالات سے غافل ہونے کیلئے نشے کا سہارا لیتے ہیں اور باقی زندگی فٹ پاتھ کے کسی درخت یا کسی پل کے نیچے دنیا و ما فیھا سے بے خبر اپنی دھن میں بڑبڑاتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔
زنگی کا وہ دور کیسا ہوگا جب ایک باپ اپنے بچّے کی زندگی صرف اسلئے ہارتا ہے کیوںکہ اس کے پاس ڈاکٹر کی فیس بھرنے کیلئے رقم نہیں ہوتی. بے بسی کی وہ کیفیات کیسی ہونگی جب ایک باپ زیادتی کا شکار اپنی بیٹی کا بدلہ اسلئے نہیں لے سکتا کیوںکہ وہ درندہ کسی امیر گھرانے کا چشم و چراغ ہوتا ہے۔ وہ رنج کتنا بڑا ہوتا ہوگا جب ایک خاندان اپنے کسی عزت کا مقدمہ صرف اسلئے درج نہیں کراتا کیوںکہ وکیلوں کو دینے کیلئے فیس کی رقم نہیں ہوتی۔
ناکامی بےبسی اور مایوسی کا وہ امتزاج کیسا ہوگا جب ایک برحق فریق مقدمہ صرف اسلئے ہارتا ہے کیوںکہ مقابل فریق صاحب ثروت اور جاہ و جلال والا ہوتا ہے۔جلا کر بھسم کردینے کی وہ خواہش کیسی ہوتی ہوگی جب تین یتیم بہنوں کے اکلوتے بھائی کو نوکری صرف اسلئے نہیں ملتی کیوںکہ اس کے پاس افسران کا جیب گرم کرنے کیلئے رشوت اور کوئی بڑی سفارش نہیں ہوتی۔اس باصلاحیت و ہونہار نوجوان کا دل و دماغ کس طوفان کی زد میں ہوگا جو انٹر کرنے کے بعد معمولی نوکری کی تلاش میں اسلئے نکل پڑتا ہے کیوںکہ اعلی تعلیم حاصل کرنے کی اخراجات کی سکت اس میں نہیں ہوتی۔عزت نفس کی بکھرتی کرچیوں کو سنبھالتے اس تیسرے درجے کے عہدیدار کی کیا حالت ہوتی ہوگی جب وہ ہرروز اپنے افسران کے ہتک آمیز روّیے کا شکار بنتا ہے۔
میں سوچ رہی تھی اور ذہن میں مختلف خیالات آرہے تھے اس زندگی کی تلخیوں کے نئے باب کھل رہے تھے،زمانے کی سنگدلی کے نئے نئے پہلو سامنے آرہے تھے۔میرا دل بوجھل ہونے لگا اسلئے ایک سرد آہ بھر کر رضائی اپنے اوپر لپیٹ لی اور لمبی تان کر سو گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں